غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد ۷۲؍ ہزار ۳۰۰؍ سے تجاوز کرگئی، اس کے علاوہ تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے، جبکہ اسرائیلی جارحیت ہنوز جاری ہے۔
EPAPER
Updated: April 01, 2026, 9:06 AM IST | Gaza
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد ۷۲؍ ہزار ۳۰۰؍ سے تجاوز کرگئی، اس کے علاوہ تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے، جبکہ اسرائیلی جارحیت ہنوز جاری ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں فلسطینی شہداء کی تعداد۷۲؍ ہزار ۲۸۰؍تک پہنچ چکی ہے جبکہ ایک لاکھ ۷۲؍ ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ اکتوبر۲۰۲۵ء میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم۷۰۴؍ افراد شہید ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ غزہ کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور۹۰؍ فیصد شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ وزارت کے بیان کے مطابق گزشتہ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران صرف اسرائیلی فائرنگ سے دو افراد شہید اور ایک زخمی ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی سمیت سات دیگر ممالک کی یروشلم میں عبادت پر اسرائیلی پابندیوں کی مذمت
تاہم یہ اعداد و شمار اسرائیلی جارحیت کے انسانی سانحے کو ظاہر کرتے ہیں جس نے ساحلی پٹی کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔وزارت صحت کے مطابق۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی افواج نے کم از کم۷۰۴؍ فلسطینی شہید اورایک ہزار۹۱۴؍ افراد کو زخمی کیا ہے۔مقامی حکام نے جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے ملبے سے۷۵۶؍ لاشیں بھی نکالی ہیں، جو تباہی کے اس عظیم پیمانے کی نشاندہی کرتا ہے جو مسلسل سامنے آ رہا ہے۔اسرائیلی جارحیت نے غزہ کے ۲۳؍ لاکھ کے قریب باشندوں میں سے تقریباًسبھی کو بے گھر کر دیا ہے اور تقریباً۹۰؍ فیصد شہری نظام بشمول مکانات،اسپتال، اسکول اور پانی کے نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تعمیر نو کی لاگت تقریباً۷۰؍ بلین ڈالر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا قانون منظور،عالمی سطح پر شدید مذمت
انسانی بحران پر بین الاقوامی سطح پر بار بار مذمت کی جا چکی ہے، جس میں امدادی اداروں نے قحط، بیماریوں کی وبا اور بنیادی خدمات کے خاتمے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔دریں اثناء ترکی نے غزہ میں بڑھتے ہوئے شہری جانی نقصان کی مسلسل مذمت کی ہے اور یہ فوری اور مستقل جنگ بندی کے سب سے بڑے حامیوں میں شامل رہا ہے۔اس کے علاوہ خطے میں ہزاروں ٹن انسانی امداد پہنچائی ہے، زخمی فلسطینیوں کا اپنے ملک کے اسپتالوں میں علاج کروایا ہے، اور بین الاقوامی برادری سے خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ساتھ ہی ترک حکام نے زور دیا ہے کہ شہری انفراسٹرکچر کی تباہی اور جانوں کے بے پناہ نقصان کو کسی بہانے سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اور انہوں نے عالمی طاقتوں سے خونریزی ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدام کرنے کی اپیل کی ہے۔