• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈا: حجاب پوش مسلم خاتون کو ہراساں کرنےوالے شخص کےخلاف دو نوجوان اجنبی لڑکیاں ڈٹ گئیں، ویڈیو وائرل

Updated: October 30, 2026, 10:03 PM IST | Toronto

رپورٹس کے مطابق، ایک شخص نے حجاب پوش خاتون سے کہا کہ مسلمانوں کا کنیڈا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس موقع پر دو اجنبی خواتین نے حجاب پوش خاتون کی حمایت کی اور اس کا پورا ساتھ دیا۔ اس لفظی جھڑپ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوگیا ہے، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کے روز ویسٹرن یونیورسٹی کے کیمپس میں یا اس کے قریب پیش آیا۔

Photo: X
وائرل ویڈیو سے لئے گئے عکس۔ تصویر: ایکس

کنیڈین صوبہ اونٹاریو میں واقع شہر لندن کی پولیس سروس کا ہیٹ کرائم یونٹ، ایک حجاب پوش مسلم خاتون کو ہراساں کئے جانے کے واقعہ کی تفتیش کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایک شخص نے حجاب پوش خاتون سے کہا کہ مسلمانوں کا کنیڈا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس موقع پر دو اجنبی خواتین نے حجاب پوش خاتون کی حمایت کی اور اس کا پورا ساتھ دیا۔ اس لفظی جھڑپ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوگیا ہے، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کے روز ویسٹرن یونیورسٹی کے کیمپس میں یا اس کے قریب پیش آیا۔

نیشنل کونسل آف کنیڈین مسلمز (NCCM) کے مطابق، اس وقت حجاب پوش خاتون اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ تھیں۔ ۲ منٹ ۴۵ سیکنڈ کے وائرل ویڈیو میں، کار میں بیٹھا شخص حجاب پوش خاتون سے کہتا ہے کہ حجاب ’عیسائی اقدار‘ کے منافی ہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ یہ میرا ملک ہے اور مسلمانوں کا کنیڈا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دوران، دو راہگیر خاتون کا دفاع کرنے کیلئے آگے آتی ہیں جن میں سے ایک نے کہا کہ وہ کنیڈا میں پیدا ہوئی ہیں۔ اس شخص نے جواب میں کہا کہ "تم پاکستانی ہو۔" اس گفتگو کے دوران اس نے یہ بھی کہا کہ ”ہاں، میں نسل پرست ہوں۔“

یہ بھی پڑھئے: عرب جماعتیں اسرائیل کو اسلامی ملک بنانا چاہتی ہیں: نیتن یاہو کا الزام

سی ٹی وی نیوز (CTV News) نے اس شخص کا پتہ لگایا، جس نے اپنی شناخت صرف ٹام کے نام سے ظاہر کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب خاتون نے اس کی طرف نازیبا اشارہ کیا۔ اس نے خود کو ایک ایسے قوم پرست کے طور پر بیان کیا جس کا ماننا ہے کہ کنیڈا کی بنیاد عیسائی اقدار پر رکھی گئی تھی۔ پولیس کی تحقیقات کا علم ہونے کے بعد اس نے کہا کہ ”میں نے واقعی ایک گھٹیا حرکت کی۔ میں اس کا اعتراف کرتا ہوں۔“ اس نے اشارہ دیا کہ وہ ممکنہ طور پر پولیس سے رابطہ کرے گا۔ ویڈیو میں موجود خواتین نے انٹرویو کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ ویڈیو بھیجنے والے شخص نے کہا کہ ویڈیو بنانے والی خاتون شدید خوفزدہ تھیں۔

مسلم برادری کا ردعمل

کونسل آف لندن ائمہ کے چیئرمین، عبدالفتاح توکل نے اس ویڈیو کو ’گھناؤنی، نسل پرستانہ، اسلامو فوبک‘ قرار دیا۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ یہ واقعہ خاتون کے بچوں کے سامنے پیش آیا۔ این سی سی ایم (NCCM) کے ترجمان اسٹیون ژو نے کہا کہ یہ واقعہ آن لائن مسلم مخالف بیانیے کی عکاسی کرتا ہے جس کی وجہ سے مسلمان خواتین باہر نکلنے سے پہلے ہر وقت خوف سے ادھر ادھر دیکھتی ہیں۔ این سی سی ایم نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے ایک قومی حکمت عملی تیار کریں۔

یہ بھی پڑھئے: بیشتر ممالک میں ہنگامی حالات کیلئے تیار رہنے پرزور

ویسٹرن یونیورسٹی نے بیان جاری کیا کہ وہ نفرت یا امتیازی سلوک کو ہرگز برداشت نہیں کرتی۔ یونیورسٹی پولیس اور حکومتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ساتھ ہی تشویش رکھنے والے ہر شخص کو اپنی اسپیشل کانسٹیبل سروس یا ہیومن رائٹس آفس سے رابطہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK