Updated: August 31, 2026, 4:58 PM IST
| Washington / Ottawa
امریکہ اور کنیڈا کے درمیان بڑھتی سفارتی و تجارتی کشیدگی کے دوران جغرافیائی نام کا تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ گوگل نے امریکی حکومت کی جانب سے سرکاری نام کی تبدیلی کے بعد امریکہ میں گوگل میپس پر کنیڈا اور امریکہ کے درمیان واقع لیک اونٹاریو کو ’’لیک امریکہ‘‘ کے نام سے دکھانا شروع کر دیا ہے، جبکہ کنیڈا میں اس کا تاریخی نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ برقرار رکھا گیا ہے۔ کنیڈین حکام نے اس تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے جھیل کے تاریخی نام کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
گوگل میپس پر لیک اونٹاریو کا نام لیک امریکہ کر دیا گیا ہے۔ تصویر: ایکس
گوگل نے امریکی حکومت کی ہدایت پر اپنی میپس سروس میں کنیڈا اور امریکہ کے درمیان واقع لیک اونٹاریو (Lake Ontario) کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ (Lake America)‘‘ کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان سفارتی اور تجارتی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گوگل نے سنیچر کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی سرکاری حکام کی جانب سے کیے جانے والے جغرافیائی ناموں کی تبدیلیوں کے مطابق گوگل میپس کو اپ ڈیٹ کرتی ہے۔ اس لیے امریکہ میں میپس استعمال کرنے والے افراد کو اب اس جھیل کا نام ’’لیک امریکہ‘‘ نظر آئے گا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اس تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ گوگل میپس نے امریکی فونز پر ’’لیک اونٹاریو‘‘ کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ‘‘ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: سیلاب کے سبب سرنگ میں بڑی تعداد میں کارکن پھنس گئے
گوگل کے مطابق امریکہ میں صارفین کو صرف ’’لیک امریکہ‘‘ دکھائی دے گا، جبکہ کنیڈا میں یہ نام بدستور ’’لیک اونٹاریو‘‘ رہے گا۔ دونوں ممالک سے باہر موجود صارفین کو جھیل کے دونوں نام ’’لیک اونٹاریو (لیک امریکہ)‘‘ کی صورت میں دکھائی دیں گے۔ یہ تبدیلی امریکی حکومت کے جغرافیائی ناموں کے انفارمیشن سسٹم (GNIS) کی جانب سے نام کی باضابطہ تبدیلی کے بعد عمل میں آئی ہے۔ GNIS امریکی وفاقی ادارہ ہے جو ملک میں جغرافیائی مقامات کے سرکاری ناموں کو معیاری بنانے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے دستخط کیے گئے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت امریکی سرکاری اداروں کو اپنے تمام سرکاری ریکارڈ اور ڈیٹا بیس میں اس آبی گزرگاہ کے لیے ’’لیک امریکہ‘‘ کا نام استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ دوطرفہ تعلقات میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یہ تبدیلی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
خلیج میکسیکو کا نام بھی تبدیل کیا گیا تھا
یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کسی معروف جغرافیائی نام کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔ جنوری ۲۰۲۵ء میں دوسری مرتبہ صدر کا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’’گلف آف امریکہ‘‘ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت بھی گوگل میپس نے مختلف ممالک میں صارفین کے لیے ناموں کی نمائش میں تبدیلی کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز ہنوز بند، ایران نے کہا اجازت کے بغیر آمدورفت ناممکن
کنیڈا کا سخت ردعمل
اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے ’’لیک امریکہ‘‘ کے نام کو مسترد کرتے ہوئے سنیچر کو ایک نیا ’’لیک اونٹاریو‘‘ کا سائن بورڈ نصب کرایا تاکہ جھیل کے تاریخی نام کی شناخت کو برقرار رکھا جا سکے۔ کنیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھی امریکی اقدام کی مذمت کی۔ انہوں نے تاریخی نام کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اونٹاریو‘‘ نام کا تعلق شمالی امریکہ کے مقامی باشندوں، خصوصاً وینڈٹ (Wendat) قوم سے ہے۔
تجارتی جنگ میں بھی شدت
جھیل کے نام پر تنازع دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ کنیڈا ۸؍ ستمبر سے امریکہ سے درآمد کی جانے والی تقریباً ۲۰؍ ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ۱۵؍ سے ۵۰؍ فیصد تک جوابی محصولات عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اقدام امریکہ اور کنیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے ۲۲؍ اگست کو تقریباً ۶ء۲۷؍ ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر ۵۰؍ فیصد محصولات عائد کیے تھے۔ جغرافیائی نام کی یہ نئی تبدیلی اب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے جاری سفارتی اور تجارتی تنازع کی ایک نئی علامت بن گئی ہے۔