کنیڈین پولیس نے کنیڈا میں بشنوئی گینگ کی سرگرمیوں کو حکومت ہند سے جوڑا، کہایہ گینگ اس کیلئے کام کرتا ہے، یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہےجب کنیڈا اور ہندوستان کے تعلقات میں قدرے بہتری آرہی تھی۔
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 7:26 PM IST | Ottawa
کنیڈین پولیس نے کنیڈا میں بشنوئی گینگ کی سرگرمیوں کو حکومت ہند سے جوڑا، کہایہ گینگ اس کیلئے کام کرتا ہے، یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہےجب کنیڈا اور ہندوستان کے تعلقات میں قدرے بہتری آرہی تھی۔
کینیڈا کی قومی پولیس سروس نے کہا ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ ہندوستانی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک میں سرگرم ہے۔ گلوبل نیوز کے مطابق ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے باوجود، گینگ کنیڈا میں اپنی سرگرمی پھیلاتا رہا ہے۔لارنس بشنوئی گینگ، جسےکنیڈا میں ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے، ملک میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا ہے کیونکہ رائل کنیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے کام کر رہا ہے۔ وینکوور کی گلوبل نیوز کے حاصل کردہ اس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بشنوئی گینگ کا ہندوستانی حکومت سے تعلق ہے۔گلوبل نیوز کے مطابق، کینیڈا کی قومی پولیس سروس آر سی ایم پی کی تاریخ کے بغیر تین صفحوں پر مشتمل اس رپورٹ میں چھ بار بشنوئی گینگ کے ہندوستانی حکومت سے تعلقات کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ الزامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ہندوستان اور کنیڈا کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایسی جنگ بندی بے معنی ہے جس میں بچوں کی ہلاکتیں جاری ہیں: یونیسف
واضح رہے کہ اگست۲۰۲۵ء میں،۱۰؍ ماہ سے زیادہ کشیدہ تعلقات کے بعد، دونوں ممالک نے اپنے سفیر مقرر کیے۔ تعلقات اس وقت خراب ہوئے تھے جب کنیڈین سیکورٹی اہلکاروں نے کہا تھا کہ بھارت نے کوئی ثبوت فراہم کیے بغیر کنیڈا میںجاسوسی اور تشدد کے اقدامات میں حصہ لیا۔ ہندوستان نے متعدد مواقع پر ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔تازہ ترین رپورٹ ایک خفیہ انٹیلی جنس جائزہ ہے۔ گلوبل نیوز کے مطابق، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’بشنوئی کرائم گروپ اپنے مجرمانہ مقاصد کے لیے تشدد کے لیے جانا جاتا ہے، جبکہ وہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے کام کر رہا ہے۔‘‘آر سی ایم پی کے مطابق، بشنوئی گینگ سنگین مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے، جن میں بھتہ خوری کے دھندے، منشیات کی اسمگلنگ، مالیاتی منی لانڈرنگ آپریشنز اور ٹارگیٹقتل شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ گینگ کا بنیادی مقصد ’’لالچ‘‘ ہے نہ کہ سیاسی یا مذہبی وجوہات۔رپورٹ کے مطابق، لارنس بشنوئی گینگ نے گزشتہ ایک سال میں کنیڈا میں اپنی پرتشدد سرگرمیاں تیز کر دی ہیں ۔ کئی خبروں کے مطابق،جیل میں قید گینگسٹر لارنس بشنوئی، جس کے ساتھی پورے ہندوستان اور بیرونی سرزمین پر ہیں، احمد آباد کی سابرمتی جیل کے ایک قید خانے سے اپنے مجرمانہ سلطنت کی ڈور سنبھالتا ہے۔جب جسٹن ٹروڈو وزیر اعظم تھے تو ہندوستان اورکنیڈا میں سفارتی کشیدگی تھی۔ ٹروڈو نے کنیڈین سرزمین پر خالصتان کے ایک دہشت گرد ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ہندوستانی حکومت کے کردار کا دعویٰ کیا تھا۔ نئی دہلی نے کسی بھی قسم کے کردار سے انکار کیا اور ثبوت طلب کیا، جو اوٹاوا نے کبھی فراہم نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ : سخت سردی میں تباہ حال عمارتوں کی دیواریں منہدم
تاہم گزشتہ سال اکتوبر میں،ہندوستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ دونوں ممالک نےخفیہ معلومات کا تبادلہ بڑھانے اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم، بشنوئی گینگ ان اقدامات سے بے نیاز نظر آتا ہے، اور اس نے بھتہ خوری کے لیے کاروباروں پر حملے کیے ہیں، جن میں برٹش کولمبیا کے سوری میں کامیڈین کپل شرما کے کیپ کیفے پر کی گئی فائرنگ بھی شامل ہیں۔بعد ازاں ہندوستان کےکنیڈا میں سفیر دینش پٹنائک نے سی بی سی کو انٹرویو میں نجر کیس کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا، ’’الزام لگانا آسان ہے۔ہندوستان ۴۰؍ سال سےکنیڈا میں دہشت گردی کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ اس کے بارے میں کسی نے کیا کیا ہے؟ یہاں ایک شخص بھی سزا یافتہ نہیں ہوا۔ اگرچہ کنیڈین پولیس بشنوئی گینگ کی ملک میں پھیلتی ہوئی موجودگی کے لیے ہندوستانی حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہو، لیکن یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ان عناصر کو ملک میں داخلہ کیسے ملا، اور اوٹاوا کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے کس چیز نے روکا۔‘‘