گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام حکومت کو بنگالی بولنے والی مسلم خاتون ممتاز بیگم کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت سے بنگلہ دیش بھیجے جانے کے معاملے میں ان کے شوہر کو ۲؍لاکھ روپے عبوری معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
گوہاٹی ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام حکومت کو بنگالی بولنے والی مسلم خاتون ممتاز بیگم کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت سے بنگلہ دیش بھیجے جانے کے معاملے میں ان کے شوہر کو ۲؍لاکھ روپے عبوری معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ رقم ۶۰؍ دن کے اندر ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔بنچ نے واضح کیا کہ درخواست گزار کو سول عدالت سے مزید راحت حاصل کرنے کا حق بھی حاصل رہے گا۔جسٹس کلیان رائے سرانا اور جسٹس سوسمیتا پھوکن کھونڈ کی بنچ نے یہ حکم ممتاز بیگم کے شوہر مزمل حق کی جانب سے دائر کی گئی حبس بے جا کی اپیل پر سماعت کے دوران دیا۔ مزمل حق آسام کے ناگاؤں ضلع کے جوریا کے رہنے والے ہیں۔
عدالت نے ناگاؤں فارینرز ٹریبونل کے اس پورے معاملے میں کردار پر بھی سخت عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ معاملے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ سوال بھی اہم رہا کہ خاتون کو ہندوستان سے باہر بھیجنے سے قبل قانونی طریقہ کار اور متعلقہ فریقوں کو اطلاع دینے کی ذمہ داری کس طرح پوری کی گئی۔ فارینرس ٹریبونل کے فیصلے کے بعد ممتاز بیگم کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔ ۱۴؍ جون کو انہیں بی ایس ایف کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد انہیں سری بھومی ضلع میں واقع بین الاقوامی سرحدی چوکی کے ذریعے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا تھا۔