• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: میونسپل کارپوریشن کی کروڑوں کی گاڑیاں کباڑ میں تبدیل !

Updated: September 09, 2026, 11:03 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

میونسپل کارپوریشن کے قیمتی سرکاری اثاثوں کے رکھ رکھاؤ اور نگرانی میں مبینہ لاپروائی کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ شہر سے کچرا اٹھانے کیلئےٹھیکہ دار کو ۷۳؍گاڑیاں دی گئی تھیں،صرف۷؍گاڑیاں واپس کی گئیں۔

File photo of vehicles provided for garbage collection from the city. Photo: INN
شہر سے کچرا اٹھانے کیلئے دی گئی گاڑیوں کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

میونسپل کارپوریشن کے قیمتی سرکاری اثاثوں کے رکھ رکھاؤ اور نگرانی میں مبینہ لاپروائی کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کچرا جمع کرنے اور اسے ڈمپنگ گراؤنڈ تک پہنچانے کیلئے نجی ٹھیکیدار کے حوالے کی گئی ۷۳؍میونسپل گاڑیوں کی مجموعی قیمت تقریباً ۹۱ء۹؍ کروڑ روپے تھی، جو خراب دیکھ بھال اور مسلسل استعمال کے باعث گھٹ کر اب صرف ۲۰ء۱؍کروڑ روپے رہ گئی ہے۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ کچرا انتظام کا ٹھیکہ ختم ہوئے ڈھائی سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ۷۳؍ میں سے صرف ۷؍ گاڑیاں ہی میونسپل کارپوریشن کو واپس مل سکی ہیں، جبکہ ۶۶؍گاڑیاں اب بھی واپس نہیں کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ترکی میں عجائب گھروں کی تعداد۲۰۲۵ء میں بڑھ کر۶۶۴؍ہو گئی

صرف ایک روپے کرائے پر گاڑی دی گئی تھیں

میونسپل کارپوریشن نے یکم مئی ۲۰۲۲ء کو آر اینڈ بی انفرا کو شہر بھر سے کچرا جمع کرنے، اسے ڈمپنگ گراؤنڈ تک پہنچانے اور سائنسی طریقے سے تلف کرنے کا ٹھیکہ دیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ۱۴؍ ویں مالیاتی کمیشن کے فنڈ سے خریدی گئی ۵۰؍ کچرا گاڑیاں، جن کی مالیت ۳ء۲۵؍ کروڑ روپے تھی اور ۲۳؍آر سی گاڑیاں، جن کی مالیت ۶ء۵۰؍ کروڑ روپے تھی و دیگر سامان ٹھیکیدار کے حوالے کی گئی تھیں۔ حیرت انگیز طور پر ان قیمتی سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے لئے ٹھیکیدار سے صرف ایک روپے معمولی کرایہ وصول کیا جانا تھا۔لیکن شہر کے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیر لگنے کی شکایات مسلسل سامنے آتی رہیں اور کچرا اٹھانے کے کام میں ٹھیکیدار کی کارکردگی غیر تسلی بخش پائی گئی۔ اس کے بعد میونسپل انتظامیہ نے ۱۳؍ فروری ۲۰۲۴ءکو کچرا انتظام کا مذکورہ ٹھیکہ ختم کردیا۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق ٹھیکہ ختم ہونے پر ٹھیکیدار کو میونسپل کارپوریشن کی تمام گاڑیاں اور مشینری اسی حالت میں واپس کرنا ضروری تھا جس حالت میں انہیں اس کے حوالے کیا گیا تھا۔ تاہم ٹھیکہ ختم ہونے کے بعد بھی میونسپل گاڑیوں کی واپسی کا معاملہ حل نہیں ہوسکا۔ انتظامیہ کی جانب سے گاڑیاں واپس لینے کی کوششوں کے باوجود اب تک صرف ۷؍ گاڑیاں واپس ملنے کی اطلاع ہے۔باقی خستہ حال ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:دہلی میں منی پور کے معروف گلوکار کا مبینہ ہجومی تشدد کے بعد انتقال، ۷؍ گرفتار

ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی پر غور

میونسپل کارپوریشن کے مطابق سابق کچرا ٹھیکیدار سے کل ۷ء۸۳؍کروڑ روپے کی وصولی باقی ہے۔ اس پورے معاملے نے میونسپل کارپوریشن کے ٹھیکہ انتظام، سرکاری اثاثوں کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میونسپل کمشنر انمول ساگر نے سینئر افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے اپنی رائے انتظامیہ کو دے دی ہے اور اب گاڑیوں کی وصولی، بقایا رقم کی بازیابی یا ٹھیکیدار کے ساتھ کسی تصفیے کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے لئے تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے رکھنے پر غور کیا جارہا ہے۔میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر (ہیڈکوارٹر) وکرم داراڈے نے بتایا کہ معاملے میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی رائے حاصل کرلی گئی ہے اور مزید کارروائی کے لئے تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK