مانسون میں موسلادھار بارش کے باوجود کلیان ڈومبیولی کے شہری پینے کے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں جس کے باعث شہریوں میں میونسپل انتظامیہ کے خلاف ناراضگی اور غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 10:43 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | kalyan
مانسون میں موسلادھار بارش کے باوجود کلیان ڈومبیولی کے شہری پینے کے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں جس کے باعث شہریوں میں میونسپل انتظامیہ کے خلاف ناراضگی اور غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
مانسون میں موسلادھار بارش کے باوجود کلیان ڈومبیولی کے شہری پینے کے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں جس کے باعث شہریوں میں میونسپل انتظامیہ کے خلاف ناراضگی اور غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کے ڈی ایم سی کی ناقص منصوبہ بندی اور مبینہ عدم توجہی کے خلاف شہریوں نے میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر تک مورچہ نکال کر زبردست احتجاج کیا جبکہ ٹھاکرے گروپ کے کارپوریٹروں نے بھی میونسپل کمشنر کے چیمبر کے سامنے دھرنا دے کر پانی کی قلت کے مسئلے پر انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
یہ بھی پڑھئے: جرمن طلبہ نے PISA ٹیسٹ میں اب تک کے سب سے کم اسکور حاصل کئے
کلیان مشرق کے آشیلے میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری پانی کے سنگین بحران کے حل میں ناکامی پر منگل کے کو سیکڑوں مشتعل شہریوں نے میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر پر زبردست احتجاجی مورچہ نکالا۔ مظاہرین جن میں بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل تھیں ہاتھوں میں خالی مٹکے، بالٹیاں، گھڑے اور مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔ مظاہرین کی قیادت شیو سینا (ٹھاکرے) کی مقامی کارپوریٹر ایڈوکیٹ کیرتی ڈھونے اور وارڈ صدر شبھم ڈھونے کر رہے تھے۔ مقامی افسران کی عدم توجہی سے ناراض ہوکر کارپوریٹرز اور شہریوں نےمیونسپل کمشنر ابھینو گوئل کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ جب تک پانی کی فراہمی بحال نہیں ہوتی دھرنا ختم نہیں ہوگا۔ شہریوں نے بتایا کہ پہلے آشیلے پاڑہ میں ہفتہ میں کم از کم ۴؍ دن پانی کی فراہمی ہوتی تھی لیکن اب کئی مہینوں تک نلوں میں پانی نہیں آتا۔
یہ بھی پڑھئے:انٹاپ ہل کےٹیکسی ڈرائیور کے حافظ بیٹے نے ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کیا
میونسپل انتظامیہ کی جانب سے کارپوریٹر ایڈوکیٹ کیرتی ڈھونے کو تحریری طور پر باقاعدہ اور وافر پانی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائے جانے کے بعد مظاہرین نے عارضی طور پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ایڈوکیٹ کیرتی ڈھونے نے متنبہ کیا کہ اگر تحریری وعدے کے مطابق فوری طور پر نلوں میں پانی بحال نہ ہوا تو وہ اس سے بھی بڑا غیر معینہ احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔