• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خاتون کا جنسی استحصال، بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی اور معطل پولیس افسر کیخلاف کیس درج

Updated: September 18, 2026, 11:00 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

مدد کرنے کے بہانے ایک  شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

مدد کرنے کے بہانے ایک  شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں کلیان مغرب اسمبلی حلقے کے بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی اور برطرف شدہ پولیس اہلکار کے خلاف پڑگھا پولیس اسٹیشن میں اجتماعی جنسی زیادتی کا کیس درج کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کا اپنے شوہر سے تنازع چل رہا تھا جس میں صلح صفائی کے بہانے کلیان مغرب اسمبلی حلقے سے بی جے پی کے سابق ایم ایل اے نریندر پوار نے اسے اپنے دفتر طلب کیا۔ الزام ہے کہ ۱۳ ؍ستمبر کو علی الصباح نریندر پوار اپنے ساتھی اور برطرف شدہ پولیس اہلکار شیلیش پاٹل کے ہمراہ خاتون کو باپ گاؤں میں واقع ایک نجی فارم ہاؤس لے گئے۔ وہاں مبینہ طور پر ہتھیاروں کے زور پر ڈرا دھمکا کر اور نشہ آور مشروب پلا کر دونوں نے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔

یہ بھی پڑھئے:ویرار علی باغ کوریڈور سے متاثر کسانوں کے معاوضے میں یکسانیت کا مطالبہ

واقعہ کے بعد پوار رات ۲؍ بجے کے قریب وہاں سے نکل گئے جبکہ شیلیش پاٹل نے صبح ۴؍ بجے کے قریب ایک تیسرے شخص کی مدد سے متاثرہ کو اس کے گھر پہنچا دیا۔خوف اور صدمے کی کیفیت سے نکلنے کے بعد متاثرہ نے ۱۶؍ ستمبر کو کلیان سے کانگریس پارٹی کی کارپوریٹر کانچن کلکرنی سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ قائم کیا اور اپنی آپ بیتی سنائی۔ متاثرہ نے الزام کی تصدیق کیلئے ویڈیو ریکارڈنگ اور کال ریکارڈ پر مشتمل اہم ڈیجیٹل شواہد بھی پیش کئے۔معاملے کی نزاکت  کے پیش نظرکانچن کلکرنی متاثرہ کو لے کر فوری طور پڑگھا پولیس اسٹیشن پہنچیں۔کارپوریٹر کانچن کلکرنی کے مطابق مقامی سطح پر پس و پیش کے بعد ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سدانند داتے سے رات کے وقت براہ راست رابطہ کیا گیا جن کے سخت احکامات پر پڑگھا پولیس متحرک ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر پنکج گرے نے تمام تر شواہد کی تصدیق کے بعد سابق ایم ایل اے نریندر پوار اور شیلیش پاٹل کیخلاف اجتماعی جنسی زیادتی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK