رکن پارلیمنٹ سریش مہاترے( بالیا ماما) نے واضح کیا ہے کہ ترقی کی قیمت کسانوں سے وصول نہیں کی جانی چاہئے۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 10:51 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
رکن پارلیمنٹ سریش مہاترے( بالیا ماما) نے واضح کیا ہے کہ ترقی کی قیمت کسانوں سے وصول نہیں کی جانی چاہئے۔
ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کسانوں کی زمین حاصل کی جا رہی ہے لیکن ایک ہی علاقے میں مختلف سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے زمین کے الگ الگ معاوضے مقرر کئے جانے پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ سریش مہاترے( بالیا ماما) نے واضح کیا ہے کہ ترقی کی قیمت کسانوں سے وصول نہیں کی جانی چاہئے اور زمین کے حصول کے معاوضے میں یکسانیت ضروری ہے۔
اسی سلسلے میں رکن پارلیمان نے نے سب پرانت آفیسر امیت سانپ سے ملاقات کرکے علی باغ-ویرار کوریڈور، امباڑی کو نئی تحصیل بنانے اور کون گاؤں ایم آئی ڈی سی سے متعلق کسانوں کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ اجلاس میں تحصیلدار ابھیجیت کھولے، بی ڈی او گووند کھامکر کے علاوہ بڑی تعداد میں متاثر کسان اور مقامی باشندے موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے: پنک کو یونیسیف سفیر کے عہدے سے ہٹانے کی پٹیشن پر ۶۰؍ ہزار دستخط
بلٹ ٹرین کا معاوضہ زیادہ، کوریڈور کا کم کیوں؟
کسانوں کے معاوضے کا معاملہ ملاقات کا اہم موضوع رہا۔ سریش مہاترے نے کہا کہ بلٹ ٹرین پروجیکٹ کے لئے حاصل کی گئی زمین کے معاوضے اور علی باغ-ویرار کوریڈور سے متاثرہ کسانوں کو دی جانے والی رقم میں نمایاں فرق ہے۔ جب زمین، علاقے اور متاثرہ کسان ایک ہی خطے سے تعلق رکھتے ہیں تو مختلف سرکاری ایجنسیاں الگ الگ شرح کیوں مقرر کر رہی ہیں؟انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی ناانصافی نہ ہو اور معاوضے کے تعین میں یکساں اصول اپنایا جائے۔ انہوں نے پرانت آفیسر سے اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ ضلع کلکٹر کو پیش کرنے کی بھی درخواست کی۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت سے ۸؍ ہزار تجربہ کار کمپیوٹر ٹیچروں کی باقاعدہ تقرری کامطالبہ
ایم آئی ڈی سی میں کنویں اور تالاب بھی متاثر
کون گاؤں کی ’اسمیتا ایم آئی ڈی سی‘ کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا گیا۔ رکن پارلیمان کے مطابق زمین کے حصول کے دوران وہاں موجود سرکاری ریکارڈ میں درج کنوؤں اور تالابوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے ان آبی ذخائر کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ مقامی وسائل اور عوامی مفاد کا تحفظ بھی ضروری ہے۔انہوں نے ایم آئی ڈی سی میں کچرے کے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم آئی ڈی سی کے علاقے میں جگہ دستیاب ہونے کے باوجود کچرے کی نکاسی کیلئے نجی زمین کرایے پر لینا مناسب نہیں۔ انتظامیہ کو ایم آئی ڈی سی کے اندر ہی کچرے کے سائنسی طریقے سے انتظام کیلئے جگہ فراہم کرنی چاہئے۔