بیڑ ضلع کے پاٹودہ میں خیمہ زن منوج جرنگے پاٹل سے حکومتی وفد نےملاقات کی اور مراٹھا ریزرویشن سے متعلق مطالبات پورے کرنے کا تیقن دیا ، جرنگے نے مطالبات پر عمل درآمد کیلئے ۳؍ماہ کی مہلت دی اورکہا کہ ’’اگر ہمیں دھوکہ ملا تو ممبئی آئیں گے‘‘
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 12:11 PM IST | Agency | Patoda
بیڑ ضلع کے پاٹودہ میں خیمہ زن منوج جرنگے پاٹل سے حکومتی وفد نےملاقات کی اور مراٹھا ریزرویشن سے متعلق مطالبات پورے کرنے کا تیقن دیا ، جرنگے نے مطالبات پر عمل درآمد کیلئے ۳؍ماہ کی مہلت دی اورکہا کہ ’’اگر ہمیں دھوکہ ملا تو ممبئی آئیں گے‘‘
مراٹھا ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والے سماجی کارکن منوج جرنگے نے ۲۰؍ دن سے جاری اپنی بھوک ہڑتال جمعرات کے روزختم کر دی۔ ریاستی حکومت نے انہیں ایک بار پھر منالیا ہے ۔ جرنگے نے حکومتی وفد سے بات چیت کے دوران مہاراشٹر حکومت کو اپنے مطالبات پر غور کرنے اور کارروائی کیلئے ۹۰؍ دن کا وقت دیا ہے۔ جرنگے نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں کیے گئے اور دھوکہ دیا گیا تو وہ ایک بار پھر ممبئی میں احتجاج کریں گے۔
خیال رہے کہ منوج جرنگے نے۲۹؍ اگست کو جالنہ ضلع میں واقع اپنے آبائی گاؤں انتروالی سراٹی سے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ وہ مراٹھوںکو کنبی نسب ناموں کی بنیاد پر او بی سی کوٹے میں ریزرویشن دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے حیدرآباد، ستارا اور اوندھ گزٹ کو تسلیم کرنے اور پرانے ریکارڈ کی بنیاد پر کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:مہوا موئترا کا امیت شاہ کے اجلاس سے مسلم افسران کو دور رکھنے پراقوام متحدہ کو خط
مطالبات پر شنوائی نہ ہونے کے بعد جرنگے نے۱۵؍ ستمبر کو ممبئی کے لئے مارچ شروع کیا۔ تاہم، اگلے روز بیڑ کے پاٹودا پہنچنے پر ان کی طبیعت خراب ہوگئی، جس کے باعث انہوں نے مارچ روک دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کا بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کافی کم ہوگیا تھا اور وہ پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کا بھی شکار تھے۔
حکومت کے نمائندہ وفد سے بات چیت
جرنگے نے پاٹودا میں مہاراشٹر حکومت کے نمائندہ وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وفد میں وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل، دادا بھسے، ایم ایل سی پرساد لاڈ، رکن اسمبلی سریش دھس اور سینئر افسران شامل تھے۔حکومت کی جانب سے جرنگے کو مراٹھا ریزرویشن سے متعلق مطالبات پر شروع کیے گئے کام کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ وکھے پاٹل نے کہا کہ ستارا اور کولہاپور گزٹ پر ایڈوکیٹ جنرل کی تحریری رائے موصول ہونے کے بعد مزید کارروائی میں تقریباً۳؍سے۴؍ماہ لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے جرنگے سے یہ بھی کہا کہ وہ تین نمائندے مقرر کریں، جو سرکاری کارروائی کی پیش رفت پر نظر رکھ سکیں۔
’’۱۳؍سے ۱۲؍مطالبات پر کارروائی ہوگی‘‘
وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس نے کہا تھا کہ حکومت نے مراٹھا مظاہرین کے۱۳؍ میں سے۱۲؍ قانونی طور پر جائز مطالبات پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے گنیش اتسو کے دوران احتجاج کے وقت پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل نے جرنگے سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت بات چیت کے لئے تیار ہے۔ وزیر آشیِش شیلار نے بھی ان سے اپنی صحت کا خیال رکھنے اور گنیش اتسو کے دوران احتجاج ملتوی کرنے کی اپیل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:بی جےپی لیڈ ررام آسرے کشواہا کی ۱۳؍ سال بعد سماجوادی پارٹی میں واپسی
مراٹھا ریزرویشن کیلئے۲۰۲۵ء میں بھی ممبئی میں احتجاج کیا گیا تھا
منوج جرنگے نے اگست - ستمبر۲۰۲۵ءمیں آزاد میدان میں بھوک ہڑتال کی تھی۔ اس دوران بڑی تعداد میں ان کے حامیوں کے ممبئی پہنچنے کی وجہ سے جنوبی ممبئی میں ٹریفک اور معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں۔حکومت کی جانب سے انکے۸؍ میں سے۶؍ مطالبات تسلیم کیے جانے اور کنبی درجہ بندی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل شروع کیے جانے کے بعد۲؍ ستمبر۲۰۲۵ء کو احتجاج ختم کیا گیا تھا۔
جرنگے کے ۶؍اہم مطالبات
جن مراٹھوں کے پاس کنبی نسب نامہ ثابت کرنے والے ثبوت موجود ہیں، انہیں او بی سی کوٹے کا فائدہ دیا جائے۔
حیدرآباد گزٹ کا نفاذ:پرانے ریکارڈ کی بنیاد پر کنبی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔
ستارا گزٹ کو تسلیم کیا جائے اورتاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر اہل افراد کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔
اوندھ گزٹ نافذ کیا جائے اور ریکارڈ کی بنیاد پر کنبی نسب نامے کو تسلیم کیا جائے۔
حکومت تحریری یقین دہانی کرائے کہ کوئی بھی ریکارڈ نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔
اہل مراٹھوں کو کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔