• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی سربراہ ابھیجیت دِپکے کا ایٹاپلّی تعلقے کی ضلع پریشد پرائمری اسکول کا دورہ

Updated: September 18, 2026, 12:04 PM IST | Ali Imran | Gadchiroli

قبائلی اسکول ٹھیک کرومہم: خستہ حالی و بدنظمی بے نقاب،۵۷؍طلبہ کیلئے۲؍ٹیچر! دِپکے نے بتایا کہ مذکورہ اسکول کے کلاس رومز میں پنکھے کا کوئی انتظام نہیں تھا، لیکن صدر مدرس کے دفتر میں پنکھا لگا ہوا تھا۔دورے کی خبر ملنے کا اثرتھا کہ جو نل خراب تھا،اسے ایک دن پہلے ہی ٹھیک کیا گیا۔

Abhijit Dipke interacting with students from the Etapalli Zilla Parishad School. Photo: INN
ابھیجت دِپکے ،ایٹاپلّی ضلع پریشد اسکول کے طلبہ سے بات چیت کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) کی جانب سے چلائی جارہی قبائلی اسکول ٹھیک کرو مہم کے تحت ابھیجیت دِپکے نے گڈچرولی ضلع کے ایٹاپلی تعلقے میں ڈُمّے میں ضلع پریشد پرائمری اسکول کا دور ہ کیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ اسکول کی عمارت خستہ حال اور کمزورہوچکی ، کلاس رومز بھی مخدوش  ہوچکے ہیں اور پنکھوں کی کمی ہے۔ اتنا ہی نہیں طلبہ کو اسکول آنے جانے کی کوئی سہولت نہیں ہے، اور دو سال سے بیت الخلا کی مرمت کا مطالبہ کرنے کے باوجود اسے نظر انداز کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’جن زمین مالکان کی رسائی وزیر اعظم تک نہیں، ان کو انصاف کیسے ملے گا؟‘‘

اس جائزے کی بنیاد پر ابھیجیت دپکے نے انتظامیہ کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں ۔ ابھیجیت دپکے نے اس دورے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کے فقدان پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ معائنہ کے دوران اسکول کے بیت الخلاء کی حالت خستہ تھی۔ گرام پنچایت نے دو سال پہلے ایک خط کے ذریعے لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے  الگ الگ بیت الخلاء کی درخواست کی تھی۔ تاہم اسکے بعد بھی اس کام پر توجہ نہیں دی گئی۔ میڈیا کو اسکولوں کا معائنہ کرنے کی خبر کے بعد بعض مقامات پر صفائی کی گئی لیکن اسکول کی عمارتوں کا مسئلہ نہایت سنگین ہے۔ عمارت اس کی خستہ حالی کی بناء پر اسے منہدم کرنے کی درخواست ۲۰۲۳ء میں بھیجی گئی تھی۔ تاہم بتایا گیا کہ ابھی تک حتمی کارروائی نہیں کی گئی۔ پہلی سے آٹھویں تک جماعتیں ہیں جن میں طلبہ کی تعداد ۵۷ ہے۔ ان طلبہ کے لئے صرف ۲؍ ہی ٹیچر اور ایک پرنسپل کام کر رہے ہیں۔ چونکہ پہلی سے آٹھویں جماعت کیلئے صرف دو کلاس رومز دستیاب ہیں، اسلئے پڑھانے کے لیے جگہ کی بھی کمی ہے۔ اسکول مینجمنٹ کمیٹی نے انتظا میہ کو مختلف سہولیات کے لیے خط بھی لکھا ہے۔ تاہم معائنہ میں پایا گیا کہ مطالبات کے باوجود سہولیات مہیا نہیں کی گئی۔ دپکے نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کلاس رومز میں پنکھے کا کوئی انتظام نہیں تھا، لیکن صدر مدرس کے دفتر میں پنکھا لگا ہوا تھا۔  دپکے نےمزید بتایا کہ جب ہم معائنہ کررہے تھے تو پتہ چلا کہ پینے کے پانی کا نل ایک دن پہلے ہی لگایا گیا ۔ ظاہر ہے یہ اس وقت کیا گیا جب دورہ ہونے والا تھا۔ دِپکے نے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی سہولت ایک دن میں دستیاب ہو سکتی ہے تو اتنے دن کیوں لگے؟،  اسکول اسٹاف کو انتہائی کم تنخواہیں ملنے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھئے:خاتون کا جنسی استحصال، بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی اور معطل پولیس افسر کیخلاف کیس درج

ابھیجیت دِپکے نے اور کیا کہا؟

دیہی علاقوں میں طلبہ کی تعلیم کے لئے صرف اسکول فراہم کردینا کافی نہیں ہے، بلکہ محفوظ عمارتیں، مناسب کلاس روم، بیت الخلا، پینے کا پانی اور ضروری تعلیمی سہولیات فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ہمیں ضلع پریشد اسکول دورے پر یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ طالب علم دور دراز سے اسکول آتے ہیں اور ان کی آمدورفت کیلئے کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ مڈڈے میل بھی تسلی بخش نہیں ہے۔  اسکول کے صدر مدرس نے بتایا کہ بنیادی سہولتوں کی دستیابی کے لئے ضلع انتظامیہ سے برسوں سے خط و کتابت جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK