Inquilab Logo Happiest Places to Work

میانمار: آن لائن فراڈ کے خلاف سخت ترین قانون منظور، سنگین جرائم پر سزائے موت

Updated: July 30, 2026, 4:00 PM IST | Naypyidaw

میانمار کی پارلیمنٹ نے آن لائن فراڈ اور سائبر اسکیموں کے خلاف ایک جامع اینٹی آن لائن اسکیم قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت سنگین جرائم میں ملوث افراد کو عمر قید یا سزائے موت دی جا سکے گی۔ نئے قانون کے مطابق مشتبہ بینک اکاؤنٹس کو تصدیق کے بعد صرف ۱۵؍ منٹ کے اندر منجمد کیا جا سکے گا، متاثرین کے لیے ۲۴؍ گھنٹے ہیلپ لائن قائم کی جائے گی، جبکہ بینکوں، موبائل ادائیگی کمپنیوں، ٹیلی کام اداروں اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

میانمار کی پارلیمنٹ نے آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے خلاف ایک نہایت سخت قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت بڑے پیمانے پر آن لائن فراڈ، کرپٹو کرنسی اسکیموں، انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت سے منسلک جرائم میں ملوث افراد کے لیے ۱۰؍ سال قید سے لے کر عمر قید اور بعض صورتوں میں سزائے موت تک کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد ملک میں اربوں ڈالر کی سائبر فراڈ صنعت کو قابو میں لانا اور متاثرین کو فوری تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ قانون منگل کےکو دارالحکومت نیپیداؤ میں منعقدہ پیڈاؤنگسو ہلٹاؤ (Pyidaungsu Hluttaw) کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا۔ سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار کے مطابق اسپیکر آنگ لن دوے نے متنازع شقوں پر دونوں ایوانوں کے درمیان اتفاق رائے ہونے کے بعد پورا بل منظور کیے جانے کا اعلان کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کسی مضبوط سیاسی عمل کے بغیر غزہ کی تعمیرنو کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا

نئے قانون کے تحت حکومت متاثرین کے لیے ۲۴؍ گھنٹے فعال ہیلپ لائن اور آن لائن شکایتی نظام قائم کرے گی تاکہ فراڈ کا شکار ہونے والے افراد فوری طور پر اپنی شکایت درج کرا سکیں۔ قانون کے مطابق متاثرہ شخص کو واقعے کے ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر شکایت درج کرانا ہوگی، جس کے بعد پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہوگی۔ قانون میں مالیاتی فراڈ کی روک تھام کے لیے غیر معمولی اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔ اس کے مطابق بینک تصدیق کے بعد صرف ۱۵؍ منٹ کے اندر مشتبہ اکاؤنٹس منجمد کر سکیں گے، جبکہ ایسے اکاؤنٹس کو ابتدائی طور پر ۷۲؍ گھنٹوں تک معطل رکھا جا سکے گا تاکہ تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔ 

اس قانون کی ایک اہم شق کے تحت بینکوں، موبائل ادائیگی فراہم کرنے والوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو ایک مشترکہ مرکزی ڈیٹا بیس کے ذریعے معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے بینک اکاؤنٹس، سم کارڈز، آئی پی ایڈریسز، فون ریکارڈز اور مالی لین دین کی حقیقی وقت میں نگرانی کی جائے گی تاکہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکے۔ قانون کے مطابق آن لائن فراڈ کے مراکز چلانے، کرپٹو کرنسی فراڈ کرنے، ایسے مراکز کے لیے افراد بھرتی کرنے یا انسانی اسمگلنگ کے ذریعے لوگوں کو ان مراکز تک پہنچانے والوں کو ۱۰؍  سال قید سے لے کر عمر قید تک کی سزا دی جا سکے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: جاپان: زلزلے کے بعد شاپنگ مال میں خوفناک دھماکہ، سیکڑوں افراد دب گئے

اسی طرح اگر آن لائن فراڈ سے منسلک سرگرمیوں کے دوران تشدد، تشدد کے ذریعے اعتراف کرانا، غیر قانونی حراست یا اغوا جیسے جرائم کا ارتکاب کیا جائے تو مجرم کو عمر قید یا سزائے موت دی جا سکے گی۔ قانون میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایسے جرائم کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہو جائے تو سزائے موت لازمی ہوگی۔ یہ قانون ایسے وقت میں نافذ کیا گیا ہے جب میانمار کے شورش زدہ سرحدی علاقوں میں قائم سائبر فراڈ مراکز بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ متعدد رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان مراکز میں اسمگل کیے گئے افراد کو زبردستی آن لائن فراڈ کرانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جبکہ انکار کرنے والوں کو تشدد، غیر قانونی قید اور دیگر بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حالیہ مہینوں میں میانمار، چین اور تھائی لینڈ نے سرحدی علاقوں میں قائم ان فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ کارروائیاں بھی تیز کی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نیا قانون ان جرائم کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنائے گا، تاہم انسانی حقوق کے بعض حلقوں نے اس میں شامل وسیع نگرانی کے اختیارات اور سزائے موت کی شق پر خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK