Inquilab Logo Happiest Places to Work

۵؍ سال میں ۱۰۰؍ کروڑ سے زائد سالانہ آمدنی ظاہر کرنے والوں کی تعداد ۴؍ گنا بڑھی: مرکز

Updated: July 28, 2026, 9:09 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ ہندوستان میں سالانہ ۱۰۰؍ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ آمدنی ظاہر کرنے والے افراد کی تعداد گزشتہ پانچ برس میں تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔ مالی سال ۲۲۔۲۰۲۱ء میں ایسے افراد کی تعداد ۱۴۲؍ تھی، جو ۲۶۔۲۰۲۵ء میں بڑھ کر ۵۷۶؍ ہو گئی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت نے پیر کو پارلیمنٹ میں بتایا کہ سالانہ ۱۰۰؍ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ آمدنی ظاہر کرنے والے افراد کی تعداد گزشتہ پانچ برس کے دوران تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔ یہ معلومات پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں پیش کی گئیں، جس میں ملک میں ارب پتی افراد کی تعداد کے بارے میں استفسار کیا گیا تھا۔ وزارتِ خزانہ نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ ’’انکم ٹیکس ایکٹ میںبِلینیئر‘‘کی کوئی قانونی تعریف موجود نہیں ہے۔ اسی لیے حکومت نے ارب پتی افراد کی تعداد فراہم کرنے کے بجائے ان افراد کے اعداد و شمار پیش کیے جنہوں نے ہر مالی سال میں ۱۰۰؍ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ سالانہ آمدنی ظاہر کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیرالا: آر ایس ایس لیڈر کے جنتر منتر کے متنازع بیان پر پولیس تحقیقات کا حکم

حکومت کے مطابق ۲۲۔۲۰۲۱ء میں ۱۴۲؍ افراد نے ۱۰۰؍  کروڑ روپے یا اس سے زیادہ آمدنی ظاہر کی۔ ۲۳۔۲۰۲۲ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۳۰۱؍ ہو گئی، یعنی ایک ہی سال میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ایسے افراد کی تعداد مزید بڑھ کر ۵۷۶؍ تک پہنچ گئی۔ اس سال ۱۶۱؍ نئے افراد بھی اس زمرے میں شامل ہوئے۔ وزارتِ خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کے پاس ہندوستانی ارب پتیوں کی مجموعی دولت سے متعلق کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، کیونکہ ویلتھ ٹیکس ایکٹ کو ۲۰۱۶ء میں ختم کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اس نوعیت کا ریکارڈ مرتب نہیں کیا جاتا۔ 
اسی دوران نجی اداروں کی رپورٹس بھی ہندوستان میں دولت کے ارتکاز کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ عالمی پراپرٹی کنسلٹنسی Knight Frank کی اپریل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ہندوستان  میں ۲۰۷؍ ڈالر ارب پتی (Dollar Billionaires) موجود ہیں، جبکہ ۱۹۸۵۰؍ سے زائد الٹرا ہائی نیٹ ورتھ افراد (Ultra-High Net Worth Individuals) ہیں۔ رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا گیا کہ ۲۰۳۱ء تک ہندوستان میں ڈالر ارب پتیوں کی تعداد ۳۱۳؍ اور الٹرا ہائی نیٹ ورتھ افراد کی تعداد ۲۵۲۰۰؍ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ نائٹ فرینک کے مطابق الٹرا ہائی نیٹ ورتھ افراد وہ ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت ۳۰؍ ملین امریکی ڈالر (تقریباً ۲۸۷؍ کروڑ روپے) یا اس سے زیادہ ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے: کون ہیں محمد عرفان جن سے ملنے راہل گاندھی اُن کی جھوپڑی میں گئے

یہ سرکاری اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ورلڈ اِن ایکوالٹی رپورٹ ۲۰۲۶ء نے ہندوستان کو دنیا کے سب سے زیادہ غیر مساوی ممالک میں شمار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی اوپری ایک فیصد آبادی مجموعی دولت کا تقریباً ۴۰؍ فیصد اپنے پاس رکھتی ہے، جبکہ سب سے امیر ۱۰؍ فیصد افراد کے پاس تقریباً ۶۵؍ فیصد دولت موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حالیہ برسوں میں ہندوستان میں معاشی عدم مساوات میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ اسی تناظر میں Centre for Financial Accountability اور Tax the Rich مہم کی جانب سے یکم اپریل کو جاری ہونے والی Wealth Tracker India 2026 رپورٹ میں کہا گیا کہ ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ہندوستان کے پانچ امیر ترین خاندانوں کی دولت میں تقریباً ۴۰۰؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ملک کی نچلی ۵۰؍ فیصد آبادی کا دولت میں حصہ ۲۰۲۴ء تک صرف ۴ء۶؍ فیصد پر جمود کا شکار رہا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسکولوں کے پاس اناج کا ذخیرہ ختم ، مڈڈے میل کی کھچڑی خطرےمیں

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف ۱۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی ظاہر کرنے والوں کی تعداد میں تیز اضافہ اعلیٰ آمدنی والے طبقے کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے، تو دوسری جانب دولت کی تقسیم سے متعلق مختلف مطالعات یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اقتصادی ترقی کے فوائد معاشرے کے مختلف طبقات تک کس حد تک یکساں انداز میں پہنچ رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK