Updated: August 31, 2026, 10:01 PM IST
| Ceuta
اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے سبتہ میں ہجرت کے بحران کے دوران سوشل میڈیا پر گمراہ کن اطلاعات پھیلانے میں روس، اسرائیل اور بین الاقوامی انتہائی دائیں بازو کے عناصر کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق غلط معلومات بھی بڑے پیمانے پر پھیلائی گئیں، جبکہ اسپین کی حکومت کے مطابق ۳۰؍ اور ۳۱؍ جولائی کو تقریباً ۷۲؍ ہزار افراد مراکش سے غیر قانونی طور پر سبتہ میں داخل ہوئے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے پیر کو شمالی افریقی ہسپانوی علاقے سبتہ میں پیدا ہونے والے ہجرت کے بحران کے دوران گمراہ کن معلومات پھیلانے کے معاملے میں روس اور اسرائیل کی جانب اشارہ کیا ہے۔ سانچیز نے نشریاتی ادارے کیڈینا ایس ای آر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایسی جھوٹی اطلاعات پھیلائی گئی تھیں جن کا تعلق ’’روس اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک بین الاقوامی انتہائی دائیں بازو کی تحریک‘‘ سے تھا۔ ان کے بقول یہ عناصر ہجرت کے معاملے کو اسپین ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اسپین کے وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیچھے ضروری نہیں کہ کسی ریاستی فریق کا ہی ہاتھ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سبتہ بحران کی وجوہات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، تاہم اس دوران جھوٹی اطلاعات اور گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: سیلاب کے سبب سرنگ میں بڑی تعداد میں کارکن پھنس گئے
سانچیز کے مطابق اسپین کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کو غلط انداز میں پیش کرکے سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا، جس میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث جرائم پیشہ تنظیمیں بھی شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دعویٰ کیا گیا کہ اگر کوئی شخص تیراکی کرکے سبتہ میں داخل ہوتا ہے تو اسے ملک بدر نہیں کیا جا سکتا، ’’جو درست نہیں ہے‘‘، لیکن اسی غلط معلومات کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز ہنوز بند، ایران نے کہا اجازت کے بغیر آمدورفت ناممکن
اسپین کی حکومت کے سرکاری تخمینے کے مطابق ۳۰؍ اور ۳۱؍ جولائی کو تقریباً ۷۲؍ ہزار افراد مراکش سے غیر قانونی طور پر سبتہ میں داخل ہوئے۔ یہ غیر معمولی آمد اس قدر بڑی تھی کہ مختصر مدت کے لیے علاقے میں پہنچنے والے تارکینِ وطن کی تعداد سبتہ کی مجموعی آبادی کے تقریباً برابر ہو گئی۔ اس بحران کے بعد دیگر یورپی حکومتوں کی جانب سے میڈرڈ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یورپی یونین کے ۲۲؍ رکن ممالک نے ایک مشترکہ کھلے خط پر دستخط کیے، جس میں اسپین کی نسبتاً کھلی ہجرت پالیسیوں کو تارکینِ وطن کے لیے ایک ’’کھینچنے والے عنصر‘‘ (pull factor) قرار دیا گیا۔