• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الیکشن کمیشن کی ڈی جی ( آئی ٹی) سیما کھنہ کی ذمہ داری میں تبدیلی

Updated: November 06, 2026, 3:30 PM IST | Agency | New Delhi

سیما کھنہ کو اب اپنی فائلیں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر کے توسط سے کمیشن کے سامنے پیش کرنی ہوں گی، تین ماہ قبل اختیارات تبدیل کردیئے گئے تھے۔

Election Commission DG Seema Khanna. Photo: INN
الیکشن کمیشن ڈی جی سیما کھنہ۔ تصویر: آئی این این

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ایک نئے حکم نامے کے ذریعے محکمہ جاتی ذمہ داریوں کی تقسیم میں تبدیلی کرتے ہوئے ڈی جی (آئی ٹی) سیما کھنہ کو دوبارہ سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر (ڈی ای سی ) کی نگرانی میں دے دیا ہے۔ اب انہیں اپنی فائلیں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر کے توسط سے کمیشن کے سامنے پیش کرنی ہوں گی۔ اس سے قبل جاری  کئے گئے حکم نامے کے تحت انہیں براہِ راست کمیشن کے سامنے فائلیں پیش کرنے کی آزادی حاصل ہوگئی تھی اور فائلوں کو ڈپٹی الیکشن کمشنر کے ذریعے بھیجنے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ اس فیصلے پر دو الیکشن کمشنروں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاملہ کابینہ سیکریٹری کے سامنے اٹھایا تھا۔

الیکشن کمیشن میں محکمۂ اطلاعاتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے کام کاج اور اس کی نگرانی کے نظام سے متعلق تنازع کے تقریباً تین ماہ بعد اب سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر کے ذریعے نگرانی کا نظام بحال کردیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بدھ کی رات ذمہ داریوں کی نئی تقسیم سے متعلق حکم نامہ جاری کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا جرم نہیں ہے‘‘، الٰہ آباد ہائی کورٹ

اس کے تحت ڈی جی (آئی ٹی) سیما کھنہ کو اب اپنی فائلیں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر پون کمار شرما کے ذریعے کمیشن کے  سامنے پیش کرنی ہوں گی۔اس طرح  ۲۸؍جولائی کو جاری کئے گئے اس حکم نامے میں تبدیلی کردی گئی ہے، جس کے تحت آئی ٹی اور آئی سی ٹی کے محکموں کو سیما کھنہ کے براہ راست کنٹرول میں دے دیا گیا تھا۔ اس حکم نامے پر دو الیکشن کمشنروں نے اعتراض کیا تھا اور اس معاملے کو کابینہ سکریٹری ٹی وی سومناتھن کے سامنے بھی اٹھایا تھا۔

الیکشن کمیشن کے تازہ حکم نامے کے مطابق سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر پون کمار شرما کو آئی ٹی/آئی سی ٹی محکموں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اب سیما کھنہ کو متعلقہ محکموں کی فائلیں انہی کے توسط سے کمیشن کے سامنے پیش کرنی ہوں گی۔یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب الیکشن کمیشن کے اندر ذمہ داریوں کی تقسیم اور انتظامی نگرانی کے نظام کو لے کر دو الیکشن کمشنروں کے اعتراضات سامنے آچکے تھے۔واضح رہے کہ ۲۸؍جولائی کو الیکشن کمیشن نے کام کی تقسیم اور انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق ایک حکم نامہ جاری کیا تھا۔ اس کے تحت آئی ٹی اور آئی سی ٹی کے محکموں کو اُس وقت کے سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر سنجے کمار کی نگرانی سے ہٹا کر ڈی جی (آئی ٹی) سیما کھنہ کے ماتحت کردیا گیا تھا۔ اس انتظام کے نتیجے میں سیما کھنہ کو براہ راست الیکشن کمیشن کے سامنے فائلیں پیش کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا تھا۔ یعنی آئی ٹی محکمے کی فائلوں کو سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر کے ذریعے آگے بھیجنے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔کمیشن کے اندر اس تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا کسی افسر کو اس طرح براہ راست کمیشن کے سامنے فائلیں پیش کرنے کا اختیار دینے سے محکمے کی نگرانی اور انتظامی کنٹرول کا روایتی نظام متاثر نہیں ہوگا؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK