’’اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا جرم نہیں ہے‘‘، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کو راحت دیدی۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 3:26 PM IST | Agency | New Delhi
’’اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا جرم نہیں ہے‘‘، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کو راحت دیدی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی منتخب عوامی نمائندے کو کسی بھی طبقے یا برادری کے مسائل اور حقوق کےلئے آواز اٹھانے کا آئینی حق حاصل ہے۔ اقلیتوں کے حقوق پر سوال اٹھانا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں ہے۔جسٹس وکرم چوہان کی عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل ۱۹؍(۱)(اے) کے تحت اظہارِ رائے کی آزادی بنیادی حق ہے اور کسی بیان پر فوجداری کارروائی کا مطالبہ کرتے وقت عدالتوں کو احتیاط سے کام لینا چا ہئے۔ محض شبہات کی بنیاد پر کسی شخص کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا کیونکہ شک کبھی ثبوت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: نیہا سنگھ راٹھور کے معاملہ میں خواتین کمیشن اچانک خاموش
واضح رہے کہ یہ معاملہ راہل گاندھی کے ۲۰۲۴ء میں امریکہ کے دورے پر سکھ برادری سے متعلق بیان سے جڑا ہے۔ اخباری خبروں کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں سکھ خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے ہیں۔عرضی گزار ناگیشور مشرا نے وارانسی کی عدالت میں راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دائر کی تھی، جسے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے ۱۷؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں سیشن کورٹ نے بھی ۹؍ جولائی کو نظرثانی کی درخواست خارج کر دی۔ ان دونوں احکامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ہائی کورٹ نے کہا کہ راہل گاندھی کے خلاف الزام بنیادی طور پر اخبارات میں شائع خبروں پر مبنی ہے لیکن مبینہ بیان کی تاریخ، وقت اور مقام تک واضح نہیں کئےگئے۔ دو سال گزرنے کے باوجود کوئی ٹھوس ثبوت بھی پیش نہیں کیا جا سکا کہ اس بیان سے علیحدگی پسندی، مسلح بغاوت یا ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو کوئی خطرہ لاحق ہوا۔عدالت نے مزید کہا کہ کسی بیان سے اختلاف کرنا زندہ جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن اختلافِ رائے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر کوئی تیسرا شخص کسی بیان کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری مقررہ حالات کے مطابق اسی شخص پر عائد ہوگی، نہ کہ بیان دینے والے پر۔ہائی کورٹ کے مطابق کسی عوامی نمائندہ کے بیان کا جواب فوجداری مقدمے کے بجائے پارلیمانی بحث اور عوامی مکالمہ کے ذریعے دیا جانا چاہئے۔ ہمیں اختلاف رائے کو خوشدلی سے قبول کرنا چاہئے۔