پولیس نے ملزم کے خلاف ۷۰۰؍ صفحات پر مشتمل فرد جرم داخل کیا۔ زہریلے مادہ کی فارنسک رپورٹ کا انتظار، ۱۲؍ اکتوبر کو ملزم کو سیشن کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 2:08 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
پولیس نے ملزم کے خلاف ۷۰۰؍ صفحات پر مشتمل فرد جرم داخل کیا۔ زہریلے مادہ کی فارنسک رپورٹ کا انتظار، ۱۲؍ اکتوبر کو ملزم کو سیشن کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت۔
جنوبی ممبئی میں جلوس عاشورہ کے دوران تقریباً ۱۵؍ ہزار شرکاء کو زہر دینے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار شخص کے خلاف پولیس نے ۷۰۰؍ صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ البتہ زہر کے تعلق سے فارنسک جانچ کی رپورٹ کا اب بھی انتظار ہے۔چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد مجگائوں کے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے اس کیس کو سیشن کورٹ منتقل کردیا ہے اور ۱۲؍ اکتوبر کو ملزم کو سیشن کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یاد رہے کہ ۲۶؍ جون ۲۰۲۶ء کو جلوس عاشورہ کے دوران مجگائوں میں ایک شخص شرکاء کو دوا، اینرجی اور چاکلیٹ کے نام پر ’کیپسول‘ تقسیم کررہا تھا۔ اس کیپسول کو کھانے والے چند افراد کی طبیعت خراب ہوگئی اور انہیں علاج کیلئے اسپتال داخل کرنا پڑا تھا۔ اسپتال میں زیر علاج گوونڈی کے رہنے والے سلمان سید (۲۶) کی شکایت پر بائیکلہ پولیس نے نامعلوم شخص کے خلاف کیس درج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مولانا ابرار الحق کے خلیفہ صوفی انصار احمد کامل چائلی الٰہ آبادی کی ممبئی میں رحلت
اس دوران چند شرکاء اور بندوبست پر مامور پولیس اہلکاروں کی بیداری سے پولیس نے کیپسول تقسیم کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تھا جس کی شناخت فیاض پریم جی (۳۹) کے طور پر کی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم ۱۵؍ ہزار شرکاء کو زہر دینا چاہتا تھا تاہم زیادہ مقدار میں زہریلے کیپسول کی تقسیم سے قبل ہی اسے گرفتار کرلیا گیا تھا۔
چارج شیٹ کے مطابق ملزم نے ۵۰؍ کلو انتہائی زہریلا مادہ زِنک فوسفائیڈ (جو عام طور پر چوہے مارنے کی دوا میں استعمال ہوتا ہے) اور خالی کیپسول آن لائن منگوائے تھے۔ ملزم کا تعلق پونے سے ہے اور وہ جلوس سے ۲؍ ہفتے قبل ہی ممبئی آگیا تھا اور ڈونگری کے ایک لاج میں مقیم تھا۔ اسی لاج میں رہتے ہوئے اس نے ایک ایک کیپسول میں زنک فوسفائیڈ بھرنا شروع کردیا تھا اور تقریباً ۱۵؍ ہزار کیپسول میں یہ مادہ بھر دیا تھا۔
عاشورہ کی شام جلوس میں تھکے ماندے شرکاء کو ملزم نے زہریلے کیپسول کو پین کلر دوا، اینرجی اور چاکلیٹ کہہ کر تقسیم کرنا شروع کردیا۔ جن افراد نے ان کیپسول کو کھایا ان کو قے اور دیگر تکلیف کی شکایت ہوگئی جس پر انہیں اسپتال داخل کرنا پڑا۔
پولیس نے مجگائوں کورٹ میں اس کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں ۳۰؍ سے زائد گواہوں کے بیانات درج ہیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے کیپسول میں زنک فوسفائیڈ ہی بھرا تھا تاہم اس مادہ کے نمونے جانچ کیلئے فارنسک سائنس لیباریٹری بھیجے گئے ہیں جن کی حتمی رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ ایف ایس ایل کی رپورٹ ملنے کے بعد اسے اضافی چارج شیٹ کے طور پر داخل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:گجرات کے وفد کا جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے دفتر کا دورہ
فی الحال ملزم آرتھر روڈ جیل میں قید ہے۔ واضح رہے کہ زنک فوسفائیڈ زہریلا مادہ ہوتا ہے اس لئے ہر کوئی اسے آن لائن نہیں منگوا سکتا لیکن پونے سے تعلق رکھنے والے ملزم فیاض پریم جی نے بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی ہے اور پونے میں ہی رنگ (پینٹ) بنانے کا کاروبار کرتا ہے۔ اپنی تجارت کے لائسنس کی بنیاد پر وہ یہ زہریلا مادہ بڑی مقدار میں آن لائن منگوا سکا تھا۔ اس نے ڈونگری کے لاج میں رہتے ہوئے یہ مادہ اور ۳۰؍ ہزار کیپسول منگوایا تھا۔ البتہ پولیس نے اس کے پاس سے ۱۴؍ ہزار ۹۰۰؍ کیپسول ضبط کی تھی جس میں متذکرہ مادہ بھرا ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق تقریباً ۱۰؍ افراد نے متذکرہ کیپسول کھائے تھے جس سے ان کی طبیعت بگڑ گئی لیکن صرف ۲؍ ہی افراد نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔ پولیس کو یہ بھی شبہ ہے کہ شاید زیادہ افراد نے کیپسول کھایا ہوگا لیکن بروقت علاج ہونے اور طبیعت ٹھیک ہوجانے کی وجہ سے وہ پولیس سے رجوع نہیں ہوئے۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ وہ خود بھی خوجہ شیعہ سماج سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی قوم کے ہی چند افراد نے اس کا جینا دوبھر کردیا تھاجس کی وجہ سے اس نے یہ حرکت کی تھی۔