مذہب کی بنیاد پر بڑھتی نفرت کو ختم کرنے کیلئے یک روزہ ’کانکلیو‘ میں دہلی کے سابق گورنر نجیب جنگ، گلوکار ٹی ایم کرشنا اور مختلف مذاہب کے رہنمائوں کا خطاب۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 10:03 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
مذہب کی بنیاد پر بڑھتی نفرت کو ختم کرنے کیلئے یک روزہ ’کانکلیو‘ میں دہلی کے سابق گورنر نجیب جنگ، گلوکار ٹی ایم کرشنا اور مختلف مذاہب کے رہنمائوں کا خطاب۔
ہندوستان میںسیاسی اور مختلف قسم کے ناجائز فائدوں کے لئے مذہب کو بنیاد بنا کر عوام کو تقسیم کرنے اور ان کے درمیان نفرت بڑھانے کے واقعات میں اضافہ کے پیش نظر ان سازشوں کو ناکام بنانے اور عوام کے درمیان سے غلط فہمیوں کو دور کرنے کے مقصد سے تشکیل دیئے گئے ’انٹر ریلجیئس سالیڈیریٹی کونسل‘ (آئی آر ایس سی) کی جانب سے سنیچر کو جوہو میں واقع جے ڈبلیو میرٹ ہوٹل میںیکروزہ ’کانکلیو‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے مختلف مذاہب کے رہنمائوں اور دانشوروں نے شرکت کرکے اظہار خیال کیا اور امن کا پیغام دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایس ایس سی میں کامیاب جامعہ کی طالبات گریجویشن کی بھی خواہاں
اس پروگرام کا انعقاد ’سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم‘ کے اشتراک سے کیا گیا تھا اور جماعت اسلامی ہند نے بھی ہر طرح سے اس میں مدد کی تھی۔ جوہو میں واقع ’جے ڈبلیو میرٹ‘ ہوٹل میں محدود افراد کیلئے پروگرام منعقد کئے جانے کے سوال پر پروگرام میں موجود جماعت اسلامی کے نمائندے شیخ ہمایوں نے بتایا کہ ’’قومی یکجہتی کیلئے بین المذاہب کے کئی پروگرام منعقد کئے جاچکے ہیں لیکن ایسی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ملک کے دانشوروں، سرکردہ اور ایسے افراد کو پروگرام میں مدعو کیا جائے جو زیادہ افراد تک اپنی بات پہنچا سکتے ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس پروگرام میں صرف مدعو کئے گئے افراد کو داخلہ دیا گیا تھا لیکن امید ہے کہ ان کے ذریعہ بڑی آبادی تک یکجہتی کا پیغام پہنچے گا۔‘‘
اس پروگرام میں مختلف مقررین کے خطاب کا لب لباب یہی تھا کہ ’’ہم اس خیال کی نفی کرتے ہیںکہ مذہب لازمی طور پر انسانیت کو تقسیم کرتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے دوسرے مذاہب کے افراد کو سماج میں اپنے ساتھ جگہ دینے اور انہیں قبول کرنے سے نفرت ختم ہوسکتی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کسی کو اپنے سے کمتر تصور کرنا یا غیرضروری طور پر کسی طبقہ کے تعلق سے خوف اور دوری پیدا کرنا اختلافات اور دوریوں کو ہوا دے گا۔
یہ بھی پڑھئے: جنوبی ممبئی میں دوسرے دن بھی پانی سپلائی بند ہونے سے مکین بے حال
کانکلیو میں جنوبی ہند کے معروف انعام یافتہ گلوکار اور مصنف ٹی ایم کرشنا کا اہم خطاب تھا اور دہلی کے سابق گورنر نجیب جنگ مہمان خصوصی تھے جبکہ فادر فریزر مسکرنہس کی نظامت میں اجمیر شریف سے آئے ہوئے ڈاکٹر حاجی سید عنبر چشتی، شری گرو سنگھ سبھا کی ڈاکٹر سریندر کور، تبت سے آئے ہوے بودھ اسکالر گیشے تینزن دماچو، راما کرشنا مشن کے سوامی سروالوکانندا، وارکری سمپرادائے کی تیجاشری انگائولے،ڈاکٹر زرین شفیع،اداکارجوائے سین گپتا اور آرک ڈیوسیز آف بامبے بشپ ڈومینک ساویو فرنانڈیز نے ’بریجیز آف بیلیفس: ہیلنگ ڈیوائڈس‘ (عقائد کے بریج: تقسیم کی شفایابی) عنوان پر گفتگو کی۔
ان کے علاوہ لیوک روڈریجز کی نظامت میں دیگر مہمانوں نے ’اسٹیورڈس آف دی ارتھ: اے ملٹی فیتھ کال ٹو ایکو۔سینٹرزم‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔
ٹی ایم کرشنا نے اپنے طویل خطاب میںکہا کہ عوام نے مذہب کی بنا پر رنگوں اور علاقوں کی بنیاد پر خود کو بانٹ لیا ہے کہ فلاں رنگ میرا ہے فلاں رنگ دوسرے کا ہے اور اپنے شہر میں رہتے ہوئے بھی انسان کسی ایسے علاقے میں چلا جائے جہاں دیگر مذہب کے افراد کی تعداد زیادہ ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ علاقہ اس کا نہیں ہے جبکہ اپنا ملک اور اپنا شہر ہونے کی بناء پر اس طرح کا خیال نہیں آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں ایک دوسرے کے تعلق سے جو غیر ضروری خوف پیدا ہوگیا ہے اس خوف کو ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے سنسکرت کے اشلوک پڑھ کر ان کا ترجمہ بتایا، آئین ہند تحریر کرنے والوں کے ذریعہ آئین کو لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھنے کی مثال دی کہ انہوں نے کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر ترجیح نہیں دی۔
انہوں نےشکاگو میں بین المذاہب کے جلسہ میں مجاہد آزادی سوامی وویکانند کے تقریر، علامہ اقبال کے ’مذہب نہیں سکھاتا آپاس میں بیر رکھنا‘، غالب کی شاعری، اولیا اور صوفی سنتوں کے اقوال کی مثالیں دیں کہ کس طرح انہوں نے مذہب کو جوڑنے کا ذریعہ بنایا تقسیم کا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جوگیشوری تا اندھیری ۲۰؍ بس اسٹاپ پر شیڈ نہیں۔ مسافروں کودشواریاں
پروگرام کے منتظمین میں شامل عرفان انجینئر کے مطابق اس جلسہ کے اخیر میں مجموعی طور پر تمام مقررین نے جن باتوں کو اتفاق رائے سے قبول کیا ان کی طویل فہرست میں یہ باتیں شامل ہیں کہ پوری دنیا اور ہمارے اپنے سماج میں نفرت کو معمول اور شناختوں کو ہتھیار بنادیا گیا ہے اور اس رواج کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہم اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ مذہب لازمی طور پر انسانیت کو تقسیم کرتا ہے۔
مزیدیہ کہ ’ہم آہنگی‘ کا مطلب قطعی طور پر یکسانیت نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ مل جل کر رہنے کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے ہمارے جیسے یا ہم دوسرے کی طرح بن جائیں۔ ان کے مطابق یکجہتی کے وجود میں آنے کیلئے تنوع کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ اگر وقار اور کھلے دل کے ساتھ کسی سے ملا جائے تو ہمارے درمیان جو فرق ہے وہ ہمارے لئے رشتوں کو جوڑنے اور باہمی تبدیلی کے سیکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔