• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین: یومیہ ۲۰ء۱؍ ڈالر کمانے والی لڑکی چین کی امیر ترین خاتون بن گئی

Updated: November 01, 2026, 2:02 PM IST | Beijing

کبھی گھڑیوں کے شیشے بنانے والی فیکٹری میں معمولی اجرت پر کام کرنے والی ژو چنفے آج چین کی امیر ترین خاتون ہیں۔ اسمارٹ فون کی اسکرینوں کے لیے شیشہ تیار کرنے والی کمپنی Lens Technology کی بانی نے ۲۰۲۶ء کی ہورون فہرست میں ۱۲۷؍ ارب یوآن، یعنی تقریباً ۹ء۱۸؍ ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ ان کی کامیابی کی کہانی غربت، تعلیم ادھوری چھوڑنے، محنت اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں کاروباری مواقع شناخت کرنے کی مثال بن گئی ہے۔

Chinese businesswoman Zhou Qunfei. Photo: X
چین کی کاروباری خاتون ژو چنفے۔ تصویر: ایکس

چین کی ۵۶؍ سالہ کاروباری خاتون ژو چنفے نے ایک بار پھر ملک کی امیر ترین خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ کبھی گھڑیوں کے شیشے تیار کرنے والی فیکٹری میں روزانہ محض ۲۰ء۱؍ ڈالر کمانے والی ژو چنفے آج اربوں ڈالر کی کمپنی Lens Technology کی بانی ہیں، جو ایپل، سام سنگ اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ٹچ اسکرین اور اسمارٹ فون کے شیشے تیار کرتی ہے۔ ہورون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ۲۸؍ اکتوبر کو جاری کردہ Hurun Richest Women in China 2026 فہرست میں ان کی دولت ۱۲۷؍ ارب یوآن، یعنی تقریباً ۹ء۱۸؍ ارب ڈالر لگائی گئی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ان کی دولت میں ۱۵؍  فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ژو چنفے نے یہ مقام پہلی مرتبہ حاصل نہیں کیا۔ وہ ۲۰۱۵ء میں بھی چین کی امیر ترین خاتون بنی تھیں، جب ان کی کمپنی نے شینزن کے اسٹاک ایکسچینج میں اپنا کاروبار درج کرایا تھا۔ اب ۱۱؍ سال بعد انہوں نے دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ تازہ فہرست میں ان کے بعد ہان سُو فارماسیوٹیکل کی بانی ژونگ ہوئی جُوآن دوسرے نمبر پر ہیں، جن کی دولت ۱۲۴؍ ارب یوآن، یعنی تقریباً ۵ء۱۸؍ ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ دونوں کے درمیان دولت کا فرق محض ۳؍ ارب یوآن ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جاپان: سومیٹومو فارما کی رعشہ کی بیماری کیلئے دنیا کی پہلی اسٹیم سیل برین سرجری

ژو چنفے کی زندگی کا آغاز چین کے صوبہ ہونان کے ایک گاؤں میں ہوا۔ وہ ۱۹۷۰ء میں پیدا ہوئیں اور نوعمری ہی میں اسکول چھوڑنا پڑا۔ بہتر روزگار کی تلاش میں وہ شینزن پہنچیں، جہاں ایک فیکٹری میں گھڑیوں کے شیشے بنانے کا کام شروع کیا۔ اس وقت ان کی یومیہ آمدنی تقریباً ۲۰ء۱؍ ڈالر تھی۔ لیکن انہوں نے فیکٹری کی ملازمت کو اپنی منزل نہیں سمجھا۔ شیشے کی تیاری کے عمل کو قریب سے دیکھتے ہوئے انہوں نے اس صنعت کی تکنیکیں سیکھیں اور اپنی مہارت کو کاروبار میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ صرف ۲۳؍ سال کی عمر میں، یعنی ۱۹۹۳ء میں، انہوں نے شیشے کی پروسیسنگ کی اپنی چھوٹی ورکشاپ قائم کرلی۔ اس دوران انہوں نے خود ہی جدید اسکرین پرنٹنگ اور خم دار شیشہ تیار کرنے کی تکنیکیں سیکھیں۔ ان کی یہی مہارت آگے چل کر ایک بڑے صنعتی کاروبار کی بنیاد بنی۔ بعد میں انہوں نے Lens Technology قائم کی، جو اسمارٹ فونز کی ٹچ اسکرین کے لیے شیشے کے کور تیار کرنے والی اہم کمپنی بن گئی۔ 
ان کی کمپنی کی قسمت اس وقت تیزی سے بدلی جب ۲۰۰۷ء میں اس نے ایپل کے ابتدائی آئی فون ماڈلز کے لیے شیشے کے کور فراہم کرنا شروع کیے۔ کمپنی کے پراسپیکٹس کے مطابق ۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۴ء کی پہلی ششماہی کے درمیان ایپل سے حاصل ہونے والی آمدنی Lens Technology کے بنیادی کاروبار کی مجموعی آمدنی کا تقریباً نصف تھی۔ آئی فون کی عالمی مقبولیت اور اسمارٹ فون کی بڑھتی ہوئی مانگ نے کمپنی کو غیر معمولی ترقی دی۔ مارچ ۲۰۱۵ء میں شینزن کے اسٹاک مارکیٹ میں کمپنی کی فہرست بندی نے ژو چنفے کی دولت میں بڑا اضافہ کیا اور انہیں پہلی مرتبہ چین کی امیر ترین خاتون بنا دیا۔ تاہم کاروباری سفر ہمیشہ یکساں نہیں رہا۔ ۲۰۱۸ء میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی اور ایپل کی فروخت سے متعلق خدشات کے باعث Lens Technology کے حصص کی قیمت میں نمایاں گراوٹ آئی، جس سے ژو چنفے کی دولت بھی متاثر ہوئی۔ اس کے بعد کمپنی نے صرف اسمارٹ فونز پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے کاروبار کو وسعت دی۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ڈسپلے، مصنوعی ذہانت سے متعلق ہارڈویئر اور روبوٹکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں بڑھائی گئیں۔ جولائی ۲۰۲۵ء میں کمپنی نے ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں دوسری بار فہرست بندی کے ذریعے توسیع کے لیے سرمایہ بھی حاصل کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ کشیدگی: یورپی فضائی ٹریفک میں ایک لاکھ۱۰؍ ہزار پروازوں کی کمی متوقع

مصنوعی ذہانت کی صنعت میں تیزی نے ژو چنفے کی کمپنی کے لیے ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ ہورون ریسرچ کے مطابق ان کی تازہ کامیابی کے پیچھے AI hardware، اسمارٹ کار ڈسپلے اور اسمارٹ گلاسز جیسے شعبوں میں بڑھتی ہوئی مانگ کا اہم کردار ہے۔ ژو چنفے نے ۲۰۲۶ء کے پوجیانگ انوویشن فورم میں کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں صنعت کاروں کو صرف کمپیوٹنگ پاور اور الگورتھم پر توجہ دینے کے بجائے پورے نظام میں مسلسل جدت پیدا کرنا ہوگی۔ یہی حکمت عملی کمپنی کو اسمارٹ فون کے شیشے سے آگے نئی ٹیکنالوجی کی منڈیوں تک لے جارہی ہے۔ ژو چنفے کی بڑھتی ہوئی کاروباری اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مئی ۲۰۲۶ء میں بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعزاز میں دی گئی سرکاری ضیافت میں انہیں ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کُک اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کے درمیان بٹھایا گیا تھا۔ یہ تقریب ٹیکنالوجی اور کاروباری دنیا کی نمایاں شخصیات کی موجودگی کے باعث بھی اہم سمجھی گئی۔
ہورون کی اسی فہرست میں چین کی ۵۰؍ امیر ترین خواتین کی مجموعی دولت ۹۳ء۱؍ کھرب یوآن تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے ۶۵؍ فیصد خواتین نے اپنی دولت خود کاروبار قائم کرکے حاصل کی، جبکہ ۳۵؍ فیصد کو دولت وراثت میں ملی۔ فہرست میں شامل خواتین کے کاروبار اب صرف روایتی شعبوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ الیکٹرانکس، صحت، صنعتی مصنوعات، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں بھی ان کی موجودگی بڑھ رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK