چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات میں یہ مطالبہ کیا،دو ریاستی حل پر زور دیا، فریقین کو مذاکرات کی میزپر لانےکا عزم۔
EPAPER
Updated: October 17, 2026, 11:41 AM IST | Agency | Beijing
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات میں یہ مطالبہ کیا،دو ریاستی حل پر زور دیا، فریقین کو مذاکرات کی میزپر لانےکا عزم۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زبردستی غیر قانونی بستیاں قائم کرنا بند کرے اور اس سلسلے میں کئے گئے اقدامات کو بھی واپس لے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق وانگ یی نے ہرزوگ سے ملاقات میں ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بیجنگ، فلسطین کے مسئلے کو اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی سمجھتا ہے۔
وانگ یی نے کہا ہے کہ خطے میں امن اور مفاہمت کو فروغ دینا چین کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا بنیادی حصہ ہے اور مسئلے کے حل کا سب سے مناسب راستہ دو ریاستی حل ہے۔
وانگ یی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ فوری ترجیح محصور غزہ میں داخلے کے تمام راستے مکمل طور پر کھولنا ہے، تاکہ ایک انسانی تباہی کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی مخالفت کے باوجود کولمبیا کا مغربی یروشلم میں سفارت خانہ قائم
وانگ یی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کو زبردستی قائم کرنے کی پالیسی ختم کرنی چاہئے۔ چین بحران کے سیاسی حل اور فریقین کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیئے جانے کے باوجود۱۹۶۷ء سے جاری اسرائیلی قبضے کے بعد سے اب تک۵؍ لاکھ سے زائد غیر قانونی یہودی آبادکاروں کو مغربی کنارے میں آباد کیا جا چکا ہے۔ اسرائیل پر حکمراں انتہائی دائیں بازو کے اتحاد کی سربراہی کرنے والے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غیر قانونی بستیوں کی منظوری کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سال کی پہلی ششماہی میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملےروزانہ اوسطاً ۶؍ مرتبہ پیش آئے جن میں فلسطینیوں کے ساتھ مارپیٹ، توڑ پھوڑ اور آتشزنی جیسے واقعات بھی شامل ہیں۔