مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث برآمدات میں تیزی کے درمیان چین کی معیشت نے رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 9:06 PM IST | Beijing
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث برآمدات میں تیزی کے درمیان چین کی معیشت نے رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث برآمدات میں تیزی کے درمیان چین کی معیشت نے رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ قومی ادارۂ شماریات کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی سے ستمبر کے دوران چین کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ۵ء۴؍ فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شرح دوسری سہ ماہی میں درج ۳ء۴؍ فیصد سے زیادہ رہی اور بیشتر تجزیہ کاروں کی پیش گوئیوں سے بھی بہتر ہے۔
یہ بھی پرھئے:ٹائیگر شروف فائرنگ معاملہ: کوٹا سے ۳؍ مشتبہ افراد گرفتار
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران چین کی جی ڈی پی میں سالانہ بنیاد پر ۶ء۴؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت کی تیزی کے باعث چین کی ٹیکنالوجی سے متعلق برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم کمزور داخلی طلب اور جائیداد کے بحران نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی نے ۲۰۲۶ء کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف ۵ء۴؍ سے۵؍ فیصد مقرر کیا ہے۔ کووڈ ۱۹؍ وبا کے دور کو چھوڑ کر یہ کئی دہائیوں میں ترقی کی نسبتاً سست رفتار میں شمار ہوگی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی برآمدات میں ۱۶؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور ان کی مالیت۱۹ء۲۳؍ کھرب یوآن (۴۷ء۳؍ کھرب ڈالر) تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ سیمی کنڈکٹرز اور دیگر ٹیکنالوجی سے متعلق مصنوعات کی مضبوط مانگ رہی۔ ملکی کھپت کے اہم پیمانے، خردہ فروخت میں ستمبر کے دوران گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں ۱ء۱؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوری سے ستمبر تک اس میں ۶ء۲؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:عمرخالد اور شرجیل امام کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی: جسٹس سُدھانشو دھولیا
مینوفیکچرنگ اور کان کنی جیسے شعبوں کی پیداوار کی عکاسی کرنے والی صنعتی پیداوار میں ستمبر کے دوران ۵ء۵؍ فیصد اضافہ ہوا۔ اس طرح رواں سال کے پہلے نو ماہ میں صنعتی پیداوار کی شرح نمو ۳ء۵؍فیصد رہی۔ دوسری جانب، جائیداد، کارخانوں اور مشینری سمیت مستقل اثاثوں میں سرمایہ کاری گزشتہ ماہ محض ۷ء۰؍ فیصد بڑھی، جبکہ جنوری سے ستمبر کے دوران اس میں ۲ء۷؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول آف بزنس میں مالیات کے پروفیسر ژیگو ہی نے کہا کہ چین کی معیشت سرکاری ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے، تاہم بیجنگ برآمدات پر بڑھتے ہوئے انحصار کے تسلسل کے حوالے سے محتاط رہے گا۔انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’میری توقع ہے کہ بیجنگ اپنی مطلوبہ ۵ء۴؍ فیصد شرح نمو حاصل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، ترقی کی رفتار میں بتدریج اور قابو میں رہنے والی سست روی ہی بیجنگ کے لیے بہترین ممکنہ صورت حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کا شعبہ اب بھی سکڑ رہا ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جس کی بیجنگ توقع کر رہا تھا اور اسے مثبت پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے۔ چین کے گھرانے بھی اس صورت حال کے مطابق اپنی توقعات کو ڈھال رہے ہیں۔