Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین: ICE چھاپوں، اغوا، نسلی حملوں سے نمٹنے کی مشقیں کرائی جانے لگیں

Updated: July 27, 2026, 9:02 PM IST | Beijing

امریکہ میں سخت امیگریشن پالیسیوں اور بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر چین میں ایسے نجی تربیتی کیمپ سامنے آئے ہیں جہاں امریکہ جانے والے طلبہ کو ICE (امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کے ممکنہ چھاپوں، اغوا، فون فراڈ، نسلی امتیاز اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کی عملی تربیت دی جا رہی ہے۔ ان کیمپوں میں فرضی چھاپے، اغوا کے مناظر اور ہنگامی ردعمل کی مشقیں شامل ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد بچوں کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں بیرونِ ملک ممکنہ خطرات کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

امریکہ میں امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ، ICE کی کارروائیوں اور غیرملکی طلبہ سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان چین میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے۔ متعدد نجی ادارے ایسے ’’ہائی رسک انوائرمنٹ ٹریننگ کیمپ‘‘ چلا رہے ہیں جہاں امریکہ کی جامعات میں داخلہ لینے والے طلبہ کو مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کیمپوں میں ICE اہلکاروں سے ممکنہ سامنا، اغوا، ڈکیتی، فون اسکیمز، نفرت انگیز جرائم (Hate Crimes) اور نسلی امتیاز جیسے حالات کی نقل تیار کر کے طلبہ کو ردعمل سکھایا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک مشق میں طلبہ کے کمرے میں نقاب پوش افراد داخل ہوتے ہیں، انہیں باندھ کر فرضی اغوا کا منظر پیش کیا جاتا ہے اور ان سے تاوان کی ویڈیو ریکارڈ کروائی جاتی ہے تاکہ وہ دباؤ اور خوف کی کیفیت میں مناسب ردعمل دینا سیکھ سکیں۔ دیگر مشقوں میں فرضی ICE اہلکاروں کے ساتھ گفتگو، شناختی دستاویزات سے متعلق سوالات، ہنگامی رابطوں کا استعمال اور ذاتی حفاظت کے طریقے بھی شامل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی اپیل عدالت نے ٹرمپ کا وفاقی ووٹر فہرست منصوبہ ۲۳؍ریاستوں میں روک دیا

ایک طالبہ لولو لو نے تربیت مکمل کرنے کے بعد کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ مجھے ان میں سے کسی چیز کا کبھی استعمال نہیں کرنا پڑے گا، لیکن یہ سب سیکھنے کے بعد میں پہلے سے کہیں زیادہ محتاط اور باخبر محسوس کرتی ہوں۔‘‘ ان تربیتی مراکز کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد طلبہ میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ انہیں حقیقت پسندانہ انداز میں ممکنہ خطرات کے لیے تیار کرنا ہے۔ ان کے مطابق والدین خاص طور پر امریکہ میں امیگریشن پالیسیوں، چینی شہریوں سے متعلق سخت جانچ پڑتال اور حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے بعض واقعات کے بعد اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے زیادہ فکر مند ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اب بھی بیرونِ ملک تعلیم کے لیے چینی طلبہ کی پہلی ترجیح ہے اور گزشتہ تعلیمی سال میں ۲؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار سے زائد چینی طلبہ امریکی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم تھے، اگرچہ یہ تعداد چند برس پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔ بعض والدین نے انہی خدشات کی وجہ سے امریکہ کے بجائے برطانیہ کو ترجیح دینا بھی شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی میزائل کے ذخائر میں کمی، ٹرمپ کا اپنی فوج کو ایران پر حملے روکنے کا حکم

چینی حکام کی جانب سے بھی حالیہ عرصے میں امریکہ جانے والے طلبہ کے لیے سفری احتیاطی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن میں امیگریشن حکام کے ساتھ ممکنہ سخت پوچھ گچھ اور سفری دستاویزات کی مکمل تیاری پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم یہ تربیتی کیمپ سرکاری پروگرام نہیں بلکہ نجی اداروں کے زیر انتظام چلائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کیمپوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات، سخت امیگریشن پالیسیاں اور بین الاقوامی طلبہ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے والدین کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حفاظتی آگاہی مفید ہو سکتی ہے، لیکن فرضی اغوا اور انتہائی خطرناک منظرناموں پر مبنی تربیت نوجوانوں میں غیر ضروری خوف بھی پیدا کر سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK