Updated: September 05, 2026, 10:07 PM IST
| Beijing
شاپنگ مالز، میٹرو اسٹیشنوں، ہائی اسپیڈ ریل اسٹیشنوں اور شہر کے بڑے ایل ای ڈی اسکرینوں پر تجارتی اشتہارات کی جگہ سائنسدانوں کی تصاویر اور ان کی خدمات کا تعارف پیش کیا جارہا ہے؛ مہم شاندونگ سے شروع ہوکر چین کے کئی صوبوں تک پہنچ چکی ہے۔ یہ مہم پورے ستمبر جاری رہے جسے ’’سائنس پوپیولرائزیشن منتھ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
چین میں ایک منفرد عوامی مہم کے تحت وہ جگہیں جو عام طور پر مصنوعات، فلمی ستاروں اور تجارتی برانڈز کے اشتہارات سے بھری رہتی ہیں، اب سائنسدانوں کی تصاویر سے سجائی جارہی ہیں۔ بڑے ایل ای ڈی اسکرین، بل بورڈ، شاپنگ مالز، میٹرو اسٹیشن، ہائی اسپیڈ ریل اسٹیشن اور ٹرینوں کے اندر موجود اسکرینوں پر چین کے ممتاز سائنسدانوں کے پورٹریٹ، ان کے کارنامے اور مختصر تعارف دکھائے جارہے ہیں۔اس مہم میں راکٹ سائنسدان Qian Xuesen، جوہری سائنسداں Deng Jiaxian، زرعی سائنسداں Yuan Longping، طب کی نوبیل انعام یافتہ Tu Youyou ، ریڈیو فلکیات کے ماہر Nan Rendong اور دیگر ممتاز محققین کو نمایاں کیا جارہا ہے۔ ان کے ساتھ بعض مقامات پر Lin Qiaozhi، Qian Sanqiang، Gu Fangzhou، Wu Mengchao اور Cheng Kaijia جیسے سائنسدانوں کے کارنامے بھی دکھائے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کا ’’نقشہ‘‘ درست کرنے کا فیصلہ، افریقہ کو اصل حجم میں دکھانے کی مہم کامیاب
یہ سلسلہ شاندونگ کے شہر ہیزے سے نمایاں طور پر شروع ہوا، جہاں تجارتی مراکز نے اپنے اہم اشتہاری مقامات پر سائنسدانوں کے بڑے پوسٹر لگائے۔ اس کے بعد زیبو، بن ژو، تائی آن، ڈونگ ینگ اور جینان سمیت شاندونگ کے متعدد شہروں میں یہ مہم پھیل گئی۔ اس کے بعد اندرونی منگولیا کے ہولن بئیر، آنہوئی کے ہیفئی، جیانگ شی کے جی آن، ہینان کے ژینگ ژو اور دیگر علاقوں میں بھی ایسے مناظر سامنے آئے۔ جینان میں اس مہم نے خاصا وسیع پیمانہ اختیار کیا ہے۔ شہر کی میٹرو لائن ۴؍ پر ’’روشنی کی طرف سفر، سائنسدانوں کی روح کا فروغ‘‘ کے عنوان سے خصوصی ٹرین چلائی گئی ہے۔ اس کی ۶؍ بوگیوں میں قدیم چینی سائنسی شخصیات سے لے کر جدید دور کے ممتاز سائنسدانوں تک کے کارنامے دکھائے گئے ہیں۔ میٹرو کے ایک اسٹیشن میں سائنسدانوں کے لیے مستقل موضوعاتی دیوار بھی بنائی گئی ہے۔
شاندونگ کی اس مہم لو ’’۱۰؍ ہزار اسکرینوں کے باہمی رابطے‘‘ کے منصوبے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ صوبے میں ۲۵؍ ہائی اسپیڈ ریل اسٹیشنوں کے بڑے اسکرین، ۲۱۲؍ تیز رفتار ٹرینوں کی اندرونی اسکرینیں اور جینان میٹرو کی تقریباً ۸۷۰۰؍ اسکرینیں سائنسدانوں کی خدمات سے متعلق مواد دکھا رہی ہیں۔ شاندونگ ایئرپورٹ کے حفاظتی جانچ والے علاقوں میں بھی سائنسدانوں کے بارے میں ویڈیوز نشر کی جارہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ صرف سرکاری تشہیری مہم کی صورت میں شروع نہیں ہوا۔ شاندونگ کے بعض تجارتی مراکز نے خود اپنے قیمتی اشتہاری مقامات پر سائنسدانوں کو جگہ دی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز گردش کرنے لگیں اور دیگر شہروں کے مراکز بھی اس میں شامل ہوتے گئے۔ جینان میں بعض تجارتی مراکز نے بتایا ہے کہ وہ سائنسدانوں کے پوسٹر مستقل طور پر دکھانے پر غور کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایرک ٹرمپ کے نئے پاسپورٹ پر والد کی غصے والی تصویر، کہامجھے یہ بے حد پسند ہے
اس مہم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ کئی پوسٹروں میں سائنسدانوں کی جوانی کی تصاویر استعمال کی گئی ہیں۔ منتظمین اور حامیوں کے مطابق اس کا مقصد نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ آج جن شخصیات کو قومی سائنس کی تاریخ کے بڑے ناموں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، وہ بھی کبھی انہی کی طرح خواب دیکھنے والے نوجوان تھے۔ اس طرح سائنسی کامیابی کو کتابوں اور عجائب گھروں تک محدود رکھنے کے بجائے روزمرہ شہری زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چینی ذرائع نے اس تبدیلی کو سب سے نمایاں مقام سائنسدانوں کو دینے سے تعبیر کیا ہے۔ جینان میں ایک مسافر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میٹرو میں اتنے سائنسدانوں کو دیکھنا غیر متوقع تھا اور عوامی مقامات پر ان کی خدمات اجاگر ہونے سے زیادہ لوگ ان کے بارے میں جان سکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ایس آئی آر قانونی عمل تو ہے لیکن غیر منصفانہ: سابق الیکشن کمشنر لواسا
چین میں ستمبر کو قومی سائنس مقبولیت ماہ کے طور پر بھی بڑے پیمانے پر سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ شاندونگ سائنس اسوسی ایشن اور دیگر اداروں نے ۲۰۲۶ء کے قومی سائنس ماہ کے لیے پورے صوبے میں سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا موضوع ’’ٹیکنالوجی زندگی بدلتی ہے، جدت مستقبل جیتتی ہے‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس دوران سائنسی شخصیات، سائنس کے تجربات، عجائب گھروں اور عوامی آگاہی پروگراموں کو مختلف ذرائع سے عوام تک پہنچانے پر زور دیا گیا ہے۔ مہم نے چین سے باہر بھی توجہ حاصل کی ہے۔ ہندوستانی صنعت کار ہرش گوئینکا نے ۳۱؍ اگست کو سوشل میڈیا پر چین کی مثال دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہندوستان میں بڑے عوامی اشتہاری مقامات زیادہ تر سیاست دانوں اور فلمی ستاروں سے کیوں بھرے رہتے ہیں۔ انہوں نے سائنسدانوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، اختراع کاروں اور ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرنے والی دیگر شخصیات کو بھی نمایاں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرہ جن لوگوں کو نمایاں طور پر سراہتا ہے، اس سے بچوں کی خواہشات اور رول ماڈل بھی متاثر ہوتے ہیں۔
چینی مہم کے حامیوں کے نزدیک اصل تبدیلی صرف یہ نہیں کہ ایک دن کے لیے اشتہاری پوسٹر بدل دیے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو روزمرہ زندگی میں بار بار ایسے نام اور چہرے دکھائی دیں جن کی پہچان شہرت یا دولت نہیں بلکہ تحقیق، دریافت اور عوامی خدمت ہو۔ سائنسدانوں کو شہر کے ان مقامات پر لانا جہاں عام طور پر سب سے زیادہ نظریں پڑتی ہیں، اسی سوچ کو عملی شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔