• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر قانونی عمل تو ہے لیکن غیر منصفانہ: سابق الیکشن کمشنر لواسا

Updated: September 05, 2026, 11:19 AM IST | Agency | New Delhi

جگدیپ سنگھ چھوکر میموریل لیکچر میں اشوک لواسا نے متنازع عمل پر تحفظات کا اظہار کیا اورکئی سوال قائم کئے۔

Ashok Lavasa. Picture: INN
اشوک لواسا۔ تصویر: تصویر: آئی این این

سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا نے انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کو لاکھوں لوگوں پر مسلط کیا جانے والا ایک غیر منصفانہ عمل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عدلیہ نے اس عمل کی توثیق کی  اور حکومت نے اسے قانونی قرار دیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصفانہ بھی ہے؟ جمعرات کو اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کے زیر اہتمام جَگدیپ سنگھ چھوکر میموریل لیکچر سے خطاب میں  لواسا نے کہا’’یقیناً یہ قانونی ہے، لیکن کیا یہ منصفانہ ہے؟ یہی سوال ہے، کیونکہ انصاف کا اصل مفہوم یہی ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی اخبار کی انوکھی تجویز، مقروض امریکیوں کے قرضے معاف کر کے انہیں ایران پر حملے کیلئے بھیج دو

لواسا نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ’’ قانونی ادارے، آئینی ادارے اور حکومتیں تیزی سے اس اصول پر کام کرتی دکھائی دے رہی ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہی ہیں، وہ صرف اسلئے درست ہے کیونکہ قانوناً اس کی اجازت ہے۔‘‘ انہوں نے ایس آئی آر کارروائی کو لاکھوں شہریوں پر مسلط کیا جانے والا غیر منصفانہ طریقۂ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا تصور اب فرسودہ ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری رکھنے والے اداروں کو قانون کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کی روح کو بھی برقرار رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف صرف قانون کی عبارت پر عمل درآمد کا نام نہیں بلکہ قانون کی روح کا تحفظ بھی انصاف کا حصہ ہے۔ لواسا نے انتخابی فہرستوں سے۱۳؍ کروڑ نام حذف کیے جانے کی منطق پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا یہ یقینی بنانے کیلئے مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں ووٹر خود کو جمہوری عمل سے  دور یا بیگانہ محسوس نہ کریں۔ ایس آئی آر پر  بڑھتی  بے چینی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لواسا نے کہا کہ۳۳؍ فیصد لوگ ووٹ نہیں دیتے، اور اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں شہریوں کو جمہوری عمل سے مزید بددل کر سکتی ہیں۔ جب الیکشن کمیشن بہار میںایس آئی آر  کی تیاری کر رہا تھا، تو اسکے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اسکے نچلی سطح پر کام کرنے والے اہلکاروں نے بنگلہ دیش، نیپال اور میانمار کے کئی شہریوں کی نشاندہی کی ۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے ایسے افراد کی تعداد یا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK