Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین دنیا بھر کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کیلئے لنکڈ ان کا استعمال کر رہا ہے؟

Updated: June 05, 2026, 1:22 PM IST | Washington

امریکہ کے خفیہ ذرائع نے رپورٹ پیش کی ہے کہ بیجنگ روزگار کیلئے استعمال کی جانے والی ویب سائٹ کو مختلف ممالک کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے کام میں لا رہا ہے۔

Social media is being used for espionage. Photo: INN
سوشل میڈیا کا استعمال جاسوسی کیلئے ہو رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

مریکہ اور اس کے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے اتحاد ’فائیو آئیز‘ کے شراکت داروں نے بدھ کے روز ایک غیر معمولی مشترکہ انتباہ جاری کیا ہے۔ اس میں تصدیق کی گئی ہے کہ چین دنیا بھر کے سیکوریٹی  اور فوجی ماہرین سے خفیہ معلومات حاصل کرنے  کیلئے لنکڈ ان  اور دیگر پیشہ ورانہ بھرتی کے پلیٹ فارموں کا استعمال کر رہا ہے۔یہ انتباہ بیجنگ کی جانب سے مصنوعی ذہانت( اے آئی)کی تکنیکوں اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتا ہے، جن کے ذریعے جعلی پروفائل اور فرضی ملازمت کی پیشکش تیار کی جاتی ہے۔ ان کا ہدف انٹیلی جنس افسران اور وہ افراد ہیں جن کی رسائی  حساس معلومات تک ہوتی ہے۔

امریکی اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ’چینی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیاں ... فائیو آئیز اتحاد کے رکن ممالک کے حکومتی اور فوجی ملازمین کو ہدف بنانے کیلئے پیشہ ورانہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور آن لائن بھرتی کے پلیٹ فارمز کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہی ہیں۔‘‘یہ پہلا عوامی مشترکہ انتباہ ہے جو اس انٹیلی جنس اتحاد کے اراکین (جن میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں) کی جانب سے پیشہ ورانہ سوشل میڈیا اور بھرتی کے پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اتحاد نے چینی سائبر خطرات اور انٹیلکچوئل پراپرٹی کی چوری کے بارے میں محدود مشترکہ بیانات جاری  کئے تھے۔انتباہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ چینی انٹیلی جنس اہل کار ’نجی مشاورتی کمپنیوں، تحقیقی مراکز یا ہیومن ریسورس کے اداروں کے ملازمین کا روپ دھارتے ہیں اور آن لائن ملازمت کے اشتہارات شائع کرتے ہیں‘ تاکہ ان افراد کو متوجہ کیا جا سکے جن کی رسائی مذکورہ ۵؍ ممالک کے ریاستی رازوں تک ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا دوغلاپن، جنگ بندی کے باوجود لبنان پرحملہ

یہ انتباہ امریکی ایف بی آئی، برطانوی داخلی سیکوریٹی ایجنسی ( ایم فائی)اور دیگر رکن ممالک کی متعلقہ ایجنسیوں کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ ادارے گذشتہ برسوں کے دوران علیحدہ طور پر ایسے ہی انتباہات جاری کر چکے تھے۔

بیان میں نشان دہی کی گئی ہے کہ جو لوگ ان پیشکشوں کا جواب دیتے ہیں، انہیں بعد ازاں نا معلوم کلائنٹس کیلئے’عوامی سطح پر دستیاب نہ ہونے والی‘ معلومات فراہم کرنے کیلئے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اکثر مالی مراعات کے عوض ہوتا ہے اور بعد ازاں یہ معلومات چینی سیکوریٹی ایجنسیوں تک پہنچا دی جاتی ہیں۔گزشتہ اکتوبر میں برطانوی داخلی سیکوریٹی ایجنسی نے برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کو خبردار کیا تھا کہ انہیں سوشل میڈیا، فشنگ میسیج اور ہیکنگ کی کوششوں کے ذریعے چین، روس اور ایران کی جانب سے جاسوسی کے خطرات کا سامنا ہے۔ اس کا مقصد ایسی معلومات حاصل کرنا ہے جنہیں قانون سازوں کو بلیک میل کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکے۔جاسوسی کے الزامات بدستور مغربی ممالک اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کے متعدد اعلیٰ ایگز یکٹیوز کے ہمراہ چین کا دورہ کیا تھا، یہ وہ شعبے ہیں جنہیں سکیورٹی ایجنسیاں طویل عرصے سے چینی جاسوسی کی سرگرمیوں کا مسلسل ہدف مانتی آئی ہیں۔ ان خدشات کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کی بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK