Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کا دوغلاپن، جنگ بندی کے باوجود لبنان پرحملہ

Updated: June 05, 2026, 1:15 PM IST | Beirut

ایک شخص شہید، کئی افراد زخمی، اسرائیلی حملے کے بعد حزب اللہ نے واشنگٹن میں اعلان کردہ جنگ بندی کے منصوبے کو مسترد کردیا۔

Smoke rises from a damaged building after Israeli shelling in a residential area in Nabitha. Photo: INN
نبیتہ میں رہائشی علاقے میں اسرائیل کی بمباری کے بعد متاثرہ عمارت سے دھواں اٹھتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

معاہدے کے معاملے میں اسرائیل نے پھر دوغلے پن کا ثبوت دیا۔ لبنان کےساتھ امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسیز نے حملے کر دیے۔ لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف مقامات پر اسرائیلی ڈرون حملے کیے گئے جن میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔

اسرائیلی حملے کے بعد حزب اللہ نے امریکی ثالثی میں ہونے والی بات چیت میں لبنانی اور اسرائیلی حکومتوں کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے منصوبے کو مسترد کر دیا کیونکہ اسرائیل نے جمعرات کو جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھتے ہوئےکہا تھا کہ وہ جنوب سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ 

ادھر اسرائیل اور لبنان کے درمیان مشروط جنگ بندی پر اتفاق کے بعد اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر لبنانی شہریوں کو جنوبی علاقوں میں اپنے دیہات اور قصبوں کی جانب جانے سے خبردار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان میں لڑائی ابھی جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج حزب اللہ کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔ ادرعی نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ دریائے الزہرانی کے جنوب میں واقع علاقوں کا رخ نہ کریں اور کہا کہ مزید اطلاع تک ان علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے۔ان کے بقول جو بھی جنوب کی طرف جائے گا، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالے گا۔یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنانی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آج جنوبی لبنان میں زفتا۔ نميریہ چوک کے قریب ایک شہری گاڑی پر اسرائیلی حملے میں ۳؍ افراد زخمی ہوگئے۔ اسی دوران اسرائیلی ڈرون طیاروں کی بیروت اور اس کے نواحی علاقوں کے اوپر پروازیں بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۰؍میں سے۷؍ نوجوانوں کو پہلی نوکری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا: ’اِنڈیڈ‘ رپورٹ

اسرائیلی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور چند گھنٹے قبل ہی اختتام پزیر ہوا۔ یہ مذاکرات دو اور ۳؍ جون کو منعقد ہوئے تھے۔ مذاکرات کے بعد اعلان کیا گیا کہ ایک مشروط جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جائے گا جس کے تحت حزب اللہ شمالی اسرائیل پر حملے بند کرے گی اور اپنے جنگجوؤں کو دریائے لیطانی کے جنوب سے واپس ہٹائے گی۔اس کے بدلے میں لبنانی مسلح افواج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں ابتدائی طور پر ’آزمائشی مرحلے‘ کے تحت مکمل کنٹرول سنبھالیں گی۔ اگر یہ انتظام کامیاب رہا تو بعد ازاں اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلاء کریں گی۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے آج اس سے قبل کہا تھا کہ اسرائیلی فوج اس مقام سے پیچھے نہیں ہٹے گی جسے انہوں نے  پیلی لائن قرار دیا۔ان کا اشارہ سرحدی علاقے کے ان درجنوں قصبوں اور دیہات کی جانب تھاجہاں اسرائیلی افواج گزشتہ چند ماہ کے دوران داخل ہوئی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اگر حزب اللہ اسرائیلی آبادیوں پر حملہ کرتی ہے تو بیروت کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

کاٹزنے زور دیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کے بقول اس مرحلے میں اسرائیلی فوج فائرنگ اور زمینی کارروائیاں جاری رکھے گی، پیلی لائن تک قائم سیکورٹی زون میں موجود رہے گی جس میں الشقیف کا علاقہ بھی شامل ہے۔ فوج شہریوں کی واپسی کو روکے گی اور حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اب ۲۱؍ جون کو مقرر نیٹ امتحان کا پیپر لیک ہونے کا دعویٰ

اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پرمتفق :امریکہ

 واشنگٹن (ایجنسی) امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہوگئے۔ رائٹر کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے باہمی دشمنی کے خاتمے کیلئے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جس سے ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع تر معاہدے کی امیدوں کو تقویت ملی ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا۔ اس سے قبل ایران نے کویت پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہاں کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیاں کیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK