Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا پوپ سے معافی مانگنے سے انکار، وینس نے ٹرمپ کا دفاع کیا، میلونی نے ٹرمپ کے تبصروں پر تنقید کی

Updated: April 14, 2026, 5:05 PM IST | Washington/Rome

ٹرمپ نے پوپ لیو چہار دہم پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ پوپ کو ”اپنی اصلاح کرنی چاہئے“ اور ”انتہا پسند بائیں بازو کی خوشامد بند کرنی چاہئے۔“ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کہا تھا کہ ”پوپ کا موجودہ طرزِ عمل کیتھولک چرچ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔“

Trump and Pope Leo XIV. Photo: X
پوپ لیو اور ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیتھولک لیڈر پوپ لیو چہار دہم پر کھلے عام شدید تنقید کرنے کے بعد ان سے معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ”مجھے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ پوپ نے ایسی باتیں کہی ہیں جو غلط ہیں۔“ انہوں نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے پوپ پر ”جرائم کے معاملے میں کمزور“ اور ”خارجہ پالیسی کے لحاظ سے انتہائی برے“ ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاپائے روم کو ”سیاست میں دخل نہیں دینا چاہئے۔“

ٹرمپ نے کووڈ-۱۹ کی وبا کے دوران مالی امداد کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے کسی بھی حالیہ امریکی صدر کے مقابلے کیتھولک چرچ کی زیادہ حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا پوپ سے براہِ راست رابطہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پوپ کے ممکنہ دورہ امریکہ کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ”ان (پوپ) پر منحصر ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: امریکی حکام کا ایرانیوں کے ساتھ دوسری ملاقات پر غور: سی این این کا دعویٰ

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں پوپ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو ایران جنگ کی مخالفت میں سخت بیانات جاری کر چکے ہیں۔ اس کے بعد ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں انہیں مسیح علیہ السلام کے جیسے حلیہ میں دکھایا گیا تھا، اس تصویر پر ٹرمپ کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ٹرمپ نے بعد میں اپنے اکاؤنٹ سے یہ تصویر ڈیلیٹ کر دی، تاہم انہوں نے اس کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ خود کو ”ایک ڈاکٹر کے طور پر... لوگوں کو بہتر بناتے ہوئے“ پیش کرنا چاہتے تھے۔ ٹرمپ کی تنقید کے جواب میں پوپ لیو نے ”نوآبادیاتی“ طاقتوں کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور امریکہ کا براہِ راست نام لئے بغیر امن کی اپیل کرتے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جے ڈی وینس نے ٹرمپ کی پوسٹ کا ’مذاق‘ کہہ کر دفاع کیا

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کے ذریعے پوسٹ کردہ متنازع تصویر کا دفاع کرتے ہوئے اسے ”مذاق“ قرار دیا۔ وینس نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ”میرا خیال ہے کہ صدر مذاق کر رہے تھے... انہوں نے محسوس کیا کہ بہت سے لوگ ان کی حسِ مزاح کو نہیں سمجھ پاتے ہیں۔“ وینس نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا براہِ راست رابطے کا انداز ان کی طاقتوں میں سے ایک ہے اور صدر ”سوشل میڈیا پر چیزوں کو مکس کرنا پسند کرتے ہیں۔“ وینس نے ویٹیکن کے ساتھ اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم پوپ کا احترام کرتے ہیں... لیکن ہم وقتاً فوقتاً ٹھوس سوالات پر اختلاف بھی کریں گے۔“ انہوں نے مزید مشورہ دیا کہ ویٹیکن کو اخلاقی اور مذہبی معاملات پر توجہ دینی چاہئے، جبکہ امریکی قیادت کو قومی پالیسی کے فیصلے سنبھالنے چاہئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اہل غزہ کو صہیونی فورسیز نے دھمکایا:’’جلد ہی تمہارے ساحل پر کافی پئیں گے‘‘

جارجیا میلونی نے ٹرمپ کے تبصروں کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا

اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے پوپ کے بارے میں ٹرمپ کے تبصروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں ”ناقابلِ قبول“ قرار دیا۔ میلونی نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ ”پوپ کیتھولک چرچ کے سربراہ ہیں اور یہ درست اور معمول بات ہے کہ انہیں امن کی اپیل کرنی چاہئے اور ہر طرح کی جنگ کی مذمت کرنی چاہئے۔“ 

واضح رہے کہ ٹرمپ نے پوپ لیو پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ پوپ کو ”اپنی اصلاح کرنی چاہئے“ اور ”انتہا پسند بائیں بازو کی خوشامد بند کرنی چاہئے۔“ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کہا تھا کہ پوپ کا موجودہ طرزِ عمل ”کیتھولک چرچ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK