• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوکے: گورٹن ضمنی انتخاب: گرین پارٹی کی اردو مہم پر سیاسی ہنگامہ

Updated: February 26, 2026, 3:58 PM IST | London

گورٹن اور ڈینٹن ضمنی انتخاب میں گرین پارٹی نے مسلم ووٹروں کو متحرک کرنے کے لیے اردو زبان میں مہم چلائی، جس پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔ مخالفین نے اسے شناختی سیاست قرار دیا، جبکہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ کمیونٹی تک براہِ راست رسائی کی کوشش ہے۔ پولنگ ۲۶؍ فروری کو ہوگی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گریٹر مانچسٹر کے حلقے گورٹن اور ڈینٹن میں ہونے والے ضمنی انتخاب نے غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے۔ اندازاً ۷۶؍ ہزار ممکنہ ووٹرز میں سے ایک چوتھائی سے زائد مسلم ورثے سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ تقریباً ۱۹؍ فیصد کی جڑیں پاکستانی کمیونٹی سے وابستہ سمجھی جاتی ہیں۔ گرین پارٹی کی امیدوار ہینا اسپینسر نے انتخابی مہم میں اردو زبان کو مرکزی حیثیت دی۔ وہ ویڈیوز میں اردو میں خطاب کرتی نظر آئیں اور مقامی کاروباری مراکز اور مساجد کے باہر مہم چلاتی دکھائی دیں۔

 

اردو پمفلٹس اور فلسطین کا حوالہ
مہم کے کتابچوں میں، جو انگریزی اور اردو دونوں میں شائع کیے گئے، اسپینسر کو سرخ و سیاہ کیفیہ پہنے مسجد کے سامنے دکھایا گیا۔ اردو متن میں درج تھا:’’گرتی ہوئی دیواروں کو ایک بار پھر دھکیل دو۔ غزہ کے لیے مزدور کو سزا ملنی چاہیے۔ اصلاح کو ہرانا چاہیے اور گرین کو ووٹ دینا چاہیے۔ مسلمانوں کے لیے مضبوط آواز کے لیے گرین پارٹی کو ووٹ دیں۔‘‘انگریزی میں شامل کیا گیا:
Stop Islamophobia. Stop Reform.
ویڈیو مواد میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی عالمی لیڈروں بشمول نریندر مودی سے مصافحہ کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔

لیک شدہ پیغامات اور تنقید
برطانوی اخبار دی ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، مبینہ لیک شدہ پیغامات میں گرین کارکنوں کو رمضان کے دوران ’’مساجد کے باہر‘‘ مسلم ووٹروں تک پہنچنے کی ہدایت دی گئی۔ ایک پیغام میں لکھا تھا:’’یہ مہم کا آخری جمعہ ہے… یہ رمضان بھی ہے، جو ہماری کوششوں کو مساجد کے باہر کتابچہ بھیجنے اور مسلم کمیونٹی تک پہنچنے کے لیے مزید اہم بناتا ہے۔‘‘
اس انکشاف کے بعد دائیں بازو کے حلقوں نے گرین پارٹی پر مذہبی شناخت کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مخصوص مذہبی کمیونٹی کو ہدف بنا کر مہم چلانا ’’تقسیم کی سیاست‘‘ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی افواج کارٹیل کے سربراہ کے خلاف کارروائی میں شامل نہیں: صدر میکسیکو

گرین پارٹی کا مؤقف
گرین پارٹی کا کہنا ہے کہ اردو یا بنگلہ جیسی زبانوں میں مہم چلانا محض کمیونٹی کی نمائندگی اور شمولیت کو فروغ دینے کا طریقہ ہے۔ پارٹی نے تنقید کے بعد بنگلہ زبان میں بھی مہم ویڈیو جاری کی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، ’’متنوع حلقے میں مختلف زبانوں میں رابطہ کرنا جمہوری عمل کا حصہ ہے، نہ کہ تقسیم کی کوشش۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: روس کا برطانیہ اور فرانس پر یوکرین کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا سنگین الزام

سیاسی مضمرات
گورٹن اور ڈینٹن کا ضمنی انتخاب اس وقت ہو رہا ہے جب لیبر اور ریفارم پارٹی بھی اسی ووٹ بینک پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ گرین پارٹی کا براہِ راست ’’مسلم ووٹرز‘‘ کو مخاطب کرنا برطانوی سیاست میں شناختی سیاست کے سوال کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔ کچھ مبصرین کے مطابق، یہ حکمت عملی مقامی نمائندگی کو مضبوط کر سکتی ہے، مگر خطرہ یہ بھی ہے کہ اس سے انتخابی مباحث مذہبی خطوط پر منقسم ہو جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK