چینی صدر شی جن پنگ نے انتباہ دیا ہے کہ اگر تائیوان کا مسئلہ غلط طرز پر حل کیا گیا تو تنازع اور تصادم کا خطرہ ہو سکتا ہے، تائیوان جسے چین اپنا صوبہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان خود کو ایک آزاد ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: May 14, 2026, 8:59 PM IST | Beijing
چینی صدر شی جن پنگ نے انتباہ دیا ہے کہ اگر تائیوان کا مسئلہ غلط طرز پر حل کیا گیا تو تنازع اور تصادم کا خطرہ ہو سکتا ہے، تائیوان جسے چین اپنا صوبہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان خود کو ایک آزاد ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو خبردار کیا کہ’’ اگر تائیوان کا مسئلہ مناسب طریقے سے نہ سنبھالا گیاتو چین اور امریکہ کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے،‘‘واضح رہے کہ تائیوان کا سوال چین-امریکہ تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے،۔ شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں میزبانی کے دوران بتایاکہ اگر اسے مناسب طریقے سے سنبھالا گیا تو دو طرفہ تعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہیں گے۔ بصورت دیگر، دونوں ممالک میںتنازع اور یہاں تک کہ تصادم بھی ہو سکتا ہے، جس سے دو طرفہ تعلقات شدید خطرے میں پڑ جائں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے دورۂ چین میں امریکی وفد کو فون چھوڑنے کی ہدایت
شی نے کہا،’’تائیوان میں امن تائیوان اور تائیوان کی آزادی ،آگ اور پانی کی طرح ہیں، جو کبھی باہم مل نہیں سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کا تحفظ دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا مشترک نقطہ ہے۔ اس کے علاوہ ونوں لیڈروں کی بات چیت کے ایجنڈے میں مشرق وسطیٰ کا تنازع، تائیوان، تجارت اور محصولات سرفہرست ہونے کی توقع ہے۔اس سے قبل ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ تائیوان کے دفاع کی حمایت کریں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ صدر شی کے ساتھ یہ بات چیت کریں گے۔ صدر شی چاہیں گے کہ ہم ایسا نہ کریں، اور اس تعلق سے میں بات چیت کروں گا۔ یہ ان بہت سی چیزوں میں سے ایک ہے جن پر میں بات کروں گا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کو عظیم لیڈر قرار دیا
بعد ازاں دی نیویارک ٹائمز کے مطابق، سینیٹرز کے ایک گروپ نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان کے لیے۱۴؍ ارب ڈالر کے ریکارڈ ہتھیاروں کے پیکج کو آگے بڑھائیں جو امریکی محکمہ خارجہ میں مہینوں سے رکا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ تائیوان کو سب سے بڑے ہتھیار فراہم کنندہ کے طور پر، امریکہ نے گزشتہ سال۱۱؍ ارب ڈالر کی ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی، جس پر بیجنگ نے احتجاج کیا تھا۔ذہن نشین رہے کہ چین خود مختار جزیرے تائیوان کو اپناعلیحدگی پسند صوبہ سمجھتا ہے، جبکہ تائیوان ۱۹۴۹ء سے اپنی آزادی پر زور دیتا آیا ہے۔