سی آئی اے نے فارسی زبان میں ویڈیو پوسٹ کرکے ایرانیوں پر زور دیا گیا کہ وہ آن لائن انٹیلی جنس شیئر کریں، امریکی خفیہ ادارے کا یہ اقدام مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 7:04 PM IST | Tehran
سی آئی اے نے فارسی زبان میں ویڈیو پوسٹ کرکے ایرانیوں پر زور دیا گیا کہ وہ آن لائن انٹیلی جنس شیئر کریں، امریکی خفیہ ادارے کا یہ اقدام مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر فارسی زبان میں بھرتی کا ایک پیغام جاری کیا جس میں ایرانی شہریوں سے شہری اور فوجی خفیہ معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی گئی۔ یہ متعدد زبانوں میں جاری کی جانے والی مہم کی تازہ ترین کڑی ہے، جس میں فارسی، کورین، روسی اور مینڈارن شامل ہیں۔ اس کا مقصد ایران، شمالی کوریا، روس اور چین سے افراد کو بھرتی کرنا اور انہیں سی آئی اے سے رابطہ کرنے کے محفوظ طریقے فراہم کرنا ہے۔واضح رہے کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں ایران پر حملے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکا پہلے ہی یورپ اور بحیرہ روم میں اپنی اب تک کی سب سے بڑی فوجی طاقت جمع کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روس کا برطانیہ اور فرانس پر یوکرین کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا سنگین الزام
منگل ۲۴؍ فروری کو اپنے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔سی آئی اے کے پیغام میں کہا گیا ہے، ”ہیلو۔ سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) آپ کی آواز سن سکتی ہے اور آپ کی مدد کرنا چاہتی ہے۔ ذیل میں اس بارے میں ضروری رہنمائی دی گئی ہے کہ ہم سے محفوظ طریقے سے کس طرح رابطہ کیا جا سکتا ہے۔“اس پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی منسلک ہے جس میں کچھ اقدامات کی تفصیل دی گئی ہے، جیسے کہ ڈسپوزایبل ڈیوائس کا استعمال، انٹرنیٹ پابندیوں سے بچنے کے لیے وی پی این کا استعمال، پرائیویٹ ویب براؤزرز کا استعمال، اور نشانات مٹانے کے لیے انٹرنیٹ ہسٹری ڈیلیٹ کرنا۔ اس میں صارفین کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ”روس، ایران یا چین میں قائم نہ ہونے والے“ قابل اعتماد ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک یا ٹور نیٹ ورک استعمال کریں، جو ڈیٹا کو انکرپٹ کرتا ہے اور صارف کے آئی پی ایڈریس کو چھپاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایران جنگ اور امن دونوں کیلئے تیار ہے‘‘
مزید برآں ایجنسی سے رابطہ کرنے والے صارفین سے ان کے مقامات، نام، ملازمت کے عہدے اور ”ہماری ایجنسی کے لیے دلچسپی کی معلومات یا مہارتوں تک رسائی“ شیئر کرنے کو کہا گیا۔ ایکس پر اس پوسٹ کو بدھ کی صبح تک۳۴؍ لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے۔تاہم، ایجنسی نے پہلے کی بھرتی ویڈیوز کے نتیجے میں ملنے والے نئے نکات یا ذرائع کے بارے میں تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں۔ ڈائریکٹر ریٹ کلف کا کہنا ہے کہ ان پوسٹس کا اثر ہو رہا ہے۔ لیکن باہر سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے کہ خفیہ ادارہ مشکلات کا شکار ہے اور وہ انٹیلی جنس حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل مہم چلا رہا ہے۔ اس سے وہ انسداد انٹیلی جنس کے جال میں پھنسنے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ چونکہ ایران میں امریکا کا کوئی سفارت خانہ نہیں ہے، اس لیے اس کے پاس ذرائع کی جانچ پڑتال کے لیے سفارتی ڈھال موجود نہیں ہے۔ اسے کرد تنظیم جیسے مقامی ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ انسانی انٹیلی جنس کے لیے سب سے اہم شراکت دار ہیں۔تاہم ایران نے امریکہ کرد تعلقات پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے، اور اس کی ایجنسی زمینی ذرائع پر نظر رکھ کر سی آئی اے کے لیے بدامنی پھیلانا مشکل بنا رہی ہے۔