• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

واڈیا اسپتال میں شہر کا پہلا پیڈیاٹرک ہارٹ ٹرانسپلانٹ کامیاب

Updated: October 24, 2026, 3:17 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

۲۲؍سالہ نوجوان کے عطیہ کردہ دل کے ذریعے نوی ممبئی کے ۱۷؍سالہ لڑکےکےدل کی پیوندکاری کی گئی۔ اسپتال انتظامیہ اور کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے ۲۰؍لاکھ روپے سے علاج کیاگیا۔

Wadia Hospital, located in Parel. Photo: INN
پریل میں واقع واڈیا اسپتال۔ تصویر: آئی این این

پریل میں بچوں کے بائی جربائی واڈیا اسپتال  میں پہلا پیڈیاٹرک ہارٹ ٹرانسپلانٹ کامیاب رہا۔ نوی ممبئی ،گھنسولی کے ۱۷؍سالہ تنمے اشوک شندے جوگزشتہ ۹؍ برس سے عارضہ قلب میں مبتلا تھا ، ۶؍ اکتوبر کو پیڈیاٹرک کارڈیک سرجن ڈاکٹر بسوا پانڈا کی قیادت والی ٹیم نے اس کا کامیاب ہارٹ ٹرانسپلانٹ کر کے اسے نئی زندگی عطا کی۔

تنمے کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ ایک ۲۲؍سالہ نوجوان کے عطیہ کردہ دل کے ذریعے کیا گیا۔ عطیہ کردہ   دل کی دھڑکن بند ہونے سے لے کر تنمے کے سینے میں ٹرانسپلانٹ شدہ دل کی دھڑکن شروع ہونے تک کا کل وقت تقریباً ۳؍گھنٹے تھا۔ سرجری کے بعدتنمے کو ایک ہفتہ آئی سی یو میں رکھا گیا ۔تنمے کو کارڈیو مایوپیتھی اور دل کی شدید بیماری لاحق تھی۔یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے جہاں دل کے عضلات بڑے اور کمزور ہو جاتے ہیں  جس سے خون کو موثر طریقے سے پمپ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ دسمبر ۲۰۱۵ءمیں تشخیص ہونے کے بعد وہ اس مرحلے پر پہنچ گیاتھا  جہاں دواؤں سے ٹھیک ہونے کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ پچھلے ۱۲؍ مہینوں سے مسلسل سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری اور تھکاوٹ کی شکایت نے تنمے کو مایوس اور پریشان کر دیا تھا۔ اس کی وجہ سے اس کی پڑھائی کابھی نقصان ہو رہا تھا ۔ دسمبر ۲۰۲۵ء میں زیادہ طبیعت خراب ہونے پر اسے تشویشناک حالت میں واڈیا اسپتال لایا گیا جہاں کے ڈاکٹروں نے تنمے کیلئے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا مشورہ دیا اوریہی اس کا واحد علاج بتایا۔ یہاں تنمے کو ایک ۲۲؍ سالہ برین ڈیڈ کا دل بطور عطیہ ملا جس کے دل سے تنمے کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی اور مہاراشٹر کے بیشتر معتمرین کو واپس لانے کی کوشش کامیاب

  تنمے کی ماں سجاتا شندے نے عطیہ دینے والے خاندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ’’ میرا بیٹا بہت پریشان ہو گیا تھا لیکن ٹرانسپلانٹ کے بعد وہ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ اب وہ خوش ہے اور اسپتال کے عملے سے بات چیت کر رہا ہے مگران کی پریشانی یہیں ختم نہیں ہوئی ہے کیونکہ تنمے کے ۱۱؍ سالہ چھوٹے بھائی پرناو کو بھی دل کی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے اور وہ واڈیا اسپتال کے ذریعہ کارڈیک ٹرانسپلانٹ کیلئے ویٹنگ لسٹ میں  ہے ۔

تنمے کے والد اشوک شندے بس کنڈکٹر   ہیں ۔ نوی ممبئی کے گھنسولی سے تعلق رکھنے والا خاندان سرجری کا متحمل نہیں تھا ۔ ڈاکٹر پانڈا نے کہا کہ سرجری سے پہلے کے ٹیسٹ، اصل اعضاء کی منتقلی کے اخراجات  اور سرجری کے بعد کے علاج کےسارے اخراجات کیلئے اسپتال اور اس کے نیٹ ورک بشمول کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے ادا کئے گئے ۔ ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا کل خرچ ۲۰؍لاکھ روپے آیا ہے ۔

واڈیا اسپتال میں فی الحال ۳۷۰؍ سے زیادہ بچے دل کے مسائل کا علاج کر ا رہے ہیں ۔ ان میں سے ۱۹؍ بچوں کا کارڈیک ٹرانسپلانٹ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تنمے کے بعد اسپتال نے دل کی پیوند کاری کیلئے زونل ٹرانسپلانٹ کوآرڈنیشن سینٹر کو۷؍سے ۱۵؍سال کی عمر کے مزید ۳؍ بچوں کی فہرست دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK