حالات اب بھی بہتر نہ ہونے کے سبب ٹور آپریٹرس متفکر۔ روانگی پوری طرح بند بھی نہیں۔ الگ الگ روٹ سے معتمرین کو وطن لانے اور مقررہ مدت سے زیادہ قیام کے سبب پی ٹی او پرمالی بوجھ پڑا۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 3:14 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
حالات اب بھی بہتر نہ ہونے کے سبب ٹور آپریٹرس متفکر۔ روانگی پوری طرح بند بھی نہیں۔ الگ الگ روٹ سے معتمرین کو وطن لانے اور مقررہ مدت سے زیادہ قیام کے سبب پی ٹی او پرمالی بوجھ پڑا۔
موجودہ حالات میں ممبئی اور مہاراشٹر کے بیشتر معتمرین کو متعینہ مدت پوری ہونے کے بعد کچھ ٹورآپریٹرس کے ذریعے۸؍ دن بعد تو کچھ کے ذریعے ایک ہفتے بعد واپس لانے میں کامیابی ملی۔ اس سے ان پر کافی مالی بوجھ پڑا۔ دوسری جانب اب بھی بحرانی حالات کے سبب کئی ایئر لائنز نے۲۸؍ اکتوبر تک اپنی خدمات روک دی ہیں جبکہ کچھ کی جانب سے۱۵؍ نومبر تک خدمات معطل رہنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ معتمرین خود بھی حالات میں بہتری کے منتظر ہیں ۔ عمرہ گروپ کی روانگی پوری طرح بند بھی نہیں ہے۔ ان حالات میں اسرائیل میں ہونے والے انتخابات کا بڑا دخل بتایا جارہا ہے۔ ٹورآپریٹرس کو اس سے مزید اندیشہ ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو نومبر میں دیوالی کی تعطیلات کے دوران مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور چھٹیوں کے سیزن میں مزید نقصان ہوسکتا ہے۔
’’معتمرین کو کیسے لایا گیا، وہ ہم جانتے ہیں‘‘
حاجی پیر ٹور کے ذمہ دار محمد صدیق نے نمائندہ انقلاب کو بتایا کہ ان کے گروپ کے۲۵؍معتمرین مقررہ مدت کے ایک ہفتہ بعد واپس لائے جاسکے۔ انہیں مکہ مکرمہ سے بذریعہ بس طائف لایا گیا، وہاں سے بذریعہ طیارہ مسقط لایا گیا پھر دوسرے جہاز سے ممبئی۔ چونکہ یہ معتمرین احمد آباد کے تھے، احمدآباد کیلئے راست طیارہ نہ ہونے کے سبب انہیں ممبئی سے بذریعہ ٹرین احمد آباد روانہ کیا گیا۔ اس طرح عمرہ کے لئے گئے ایک شخص پر۱۵؍ ہزار روپے سے زائد اضافی خرچ بھی ادا کرنا پڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں بڑا دخل اسرائیل میں انتخابات قرار دیئے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دسویں کے امتحان سے محرومی سے میڈیکل کی منزل تک، ایک غیر معمولی سفر
’’۲۸؍اکتوبر کو جہاز ہے مگر کچھ پتہ نہیں ‘‘
الحطیم ٹور کے ذمہ دار مولانا محمد عارف قاسمی کے مطابق ۲۸؍اکتوبر کو ہم لوگوں کی اکاسا ایئر لائن کے ذریعے روانگی ہے مگر اب تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ جہاز روانہ ہوگا یا نہیں ، امید کم ہی ہے۔
ان کے مطابق سعودی ایئرلائن کی خدمات جاری ہیں ، ۲۲؍ اکتوبر کی شب ان کے اور تین دیگر ٹور والوں کا ۴۱؍ معتمرین کا گروپ سعودی ایئرلائن سے روانہ کیا گیا ہے۔ مولانا نے بھی اسرائیل میں انتخابات کو بڑی وجہ بتایا۔
الخالد ٹور اینڈ ٹراویلس کے ذمہ دار ڈاکٹر یوسف کھیراڈا کے مطابق حالات یقینا خراب ہیں مگر عمرہ خدمات پوری طرح ٹھپ نہیں ہیں۔ ہم چونکہ سعودی ایئر لائن سے معتمرین کو بھیجتے ہیں، اس لئے مسئلہ نہیں ہے مگر حالات کی سنگینی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
’’مسئلہ نومبر کا اور زیادہ اہم ہے‘‘
آل انڈیا حج عمرہ ٹور آرگنائزرس اسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عمران علوی نے بتایا کہ ان کے ذریعے عمرہ کا گروپ گیا تھا مگر حالات خراب ہوتے ہی معتمرین سے مشورہ کرکے انہیں قبل از وقت بلالیا گیا۔ ان کے مطابق اب سب سے زیادہ فکر نومبر کے مہینے کی ہے ، اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو چھٹیوں کا پورا سیزن خراب ہوجائے گا۔ ویسے بھی ایئرلائن نے دونوں جانب کے کرائے کا دام ایک جانب سے کردیا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھادیا گیا ہے، یہ بڑا بوجھ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈومبیولی: ریلوے کی ’ریل جن سنواد‘ مہم ناکام، پیشگی اطلاع نہ دینے پر مسافر تنظیمیں برہم
’’ہم نے ابھی گروپ روک دیا ہے‘‘
آل انڈیا حج عمرہ ٹور آرگنائزرس اسوسی ایشن کے چیئرمین شوکت تمبولی نے انقلاب کو بتایا کہ ہر دس پندرہ دن میں میری عمرہ کمپنی کے ذریعے عمرہ گروپ روانہ کیا جاتا ہے مگر
حالات کے سبب یہ سلسلہ روک دیاگیا ہے۔ حالات خراب ہونے کے سبب ہمارا گروپ۸؍ دن کی تاخیر سے وطن لوٹا ، اس سے کافی مالی بوجھ پڑا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب بھی غیر یقینی حالات ہیں ۔ اکاسا، انڈیگو اور انڈیا ایکسپریس کی خدمات متاثر ہیں اور آئندہ ماہ کے وسط تک یہی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ان کا روٹ الگ ہے اور سعودی کا الگ ، اس لئے ہوائی کمپنیاں کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی ہیں۔
شوکت تمبولی سے یہ پوچھنے پر کہ کیا کسی آپریٹر نے معتمرین کے پھنسے رہنے کی اسوسی ایشن میں شکایت کی ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں، ایسی شکایت نہیں ملی ہے، ممبئی اور مہاراشٹر کے بیشترمعتمرین آگئے ہیں، ممکن ہے کچھ بچے ہوں، ان کے لئے بھی ہر سطح پر کوشش جاری ہے۔
وزارتِ خارجہ کا فضائی کمپنیوں اور ٹور آپریٹرس کے ساتھ رابطہ
ٹور آپریٹرس کے مطابق سینئر افسر جیسوال کے ذریعے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ریاض میں ہندوستانی سفارتخانہ اور جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ متعلقہ فضائی کمپنیوں اور ٹور آپریٹرس کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ متاثرہ زائرین کی جلد وطن واپسی کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ دیگر عمرہ زائرین کی بھی جلد از جلد واپسی میں مدد کیلئے ضروری انتظامات پر بات چیت جاری ہے۔ بھارتی سفارتی مشن، مقامی رضاکاروں کے تعاون سے متاثرہ ہندوستانی شہریوں کو امداد اور فلاحی سہولتیں بھی فراہم کروا رہے ہیں۔