Updated: January 31, 2026, 11:29 AM IST
| New Delhi
سی جے پی نے زی نیوز کے فرقہ وارانہ ٹی وی مباحثہ کے خلاف میڈیا واچ ڈاگ سے رجوع کیا، ہندوؤں کے فرضی لنچنگ کے حوالے سے زی نیوز کے یکم جنوری کے پرائم ٹائم پروگرام ،’’کالی چرن مہاراج بمقابلہ چار مولانا... ہندوؤں کی لنچنگ پر ویسفوٹک بحث،‘‘ کے خلاف یہ شکایت درج کرائی گئی ہے۔
ہندوؤں کے فرضی لنچنگ کے حوالے سے زی نیوز کے یکم جنوری کے پرائم ٹائم پروگرام ،’’کالی چرن مہاراج بمقابلہ چار مولانا... ہندوؤں کی لنچنگ پر ویسفوٹک بحث،‘‘ کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے۔شہری برائے انصاف و امن (سی جے پی) کی جانب سے نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (این بی ڈی ایس اے) میں یہ شکایت درج کرائی گئی ہے کہ یہ پروگرام ’’فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کے لیے تیارکردہ ٹیلی ویژن پروگرام اور براڈکاسٹ اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘ سی جے پی کا مقصد نفرت انگیز تقریر کی مثالیں تلاش کرنا اور انہیں بے نقاب کرنا ہے، تاکہ زہریلے خیالات پھیلانے والوں کو بے نقاب کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ہیمنت بسوا شرما کے خلاف سپریم کورٹ سے سو موٹو کا مطالبہ
سی جے پی کی شکایت کے مطابق، مذکورہ شو بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے المناک واقعات کے گرد گھومتا ہے، جسے زی نیوز نے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کیا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ’’ یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ جہاں مسلم پینل مقررین کی پیشہ ورانہ شناخت بشمول اسلامی اسکالرز اور محققین، تعارفی حصے میں تسلیم کی گئی، وہیں چینل نے سنسنی خیز اور جھگڑالو عنوان کالی چرن مہاراج بمقابلہ۴ء مولانا، استعمال کرتے ہوئے انہیں منظم طور پر صرف مذہبی شناخت تک محدود کر دیا۔‘‘شکایت میں دلیل دی گئی ہے کہ پروگرام کی شکل، تشکیل، پینل مقررین کا انتخاب، سوالات کا انتخاب اور اسکرین گرافکس مجموعی طور پر صحافتی غیرجانبداری کو ترک کرتے ہوئے بغیر ایڈیٹوریل جانچ پڑتال کے غیر تصدیق شدہ سازشی دعوؤں کو قومی مباحثے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
تاہم سی جے پی کا موقف ہے کہ شو نے نہ صرف بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے حقائق کو غلط پیش کیا، بلکہ ایسے واقعات کو ہندوستانی مسلمانوں کو تہذیبی خطرے کے طور پر پیش کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کیا۔ سی جے پی کے مطابق، بحث کو،کالی چرن مہاراج بمقابلہ۴؍ مولانا کے طور پر پیش کرنے کا انتخاب اس تبدیلی کی بنیاد بنا۔مسلم مقررین کو ایک اسلامی اسکالر، سیاسی تجزیہ کار، محقق، اور مبصر کے طور پر متعارف کرانے کے باوجود، اینکر اور گرافکس نے بار بار انہیں صرف ’’مولانا‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ جس کا مقصد محاصرے کا تاثر پیدا کرنا تھا، جس میں ایک تنہا ہندو سنیاسی کو ادارہ جاتی مسلم مذہبی شخصیات سے لڑتے ہوئے دکھایا گیا۔سی جے پی کے مطابق، شو کا عنوان اور مجموعی موضوع مکمل طور پر گمراہ کن، فرقہ وارانہ، اور اشتعال انگیز تھا۔شکایت میں ٹائم اسٹیمپ۳؍ بج کر ۴۷؍ منٹ اور ۵؍ بج کر ۵۰؍ منٹ کے درمیان کے حصے کو خاص طور پر مسئلہ قرار دیا گیا۔ شکایت کے مطابق، کالی چرن مہاراج نے اس وقفے کا استعمال کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ قرآنی آیات غیر مسلموں کے خلاف تشدد کا حکم دیتی ہیں، کہ ’’غزوہ ہند‘‘ کی جنگ قریب ہے، اور ہندوستانی مسلمان دہشت گردی، غیر ملکی حملہ اور ہندوؤں کو خطرے میں ڈالنے کا جشن منا رہے ہیں۔شکایت میں کہا گیا کہ میزبان نے ان دعوؤں کو روکنے یا ان کے سیاق و سباق کو واضح کرنے سے گریز کیا، نہ ہی غلط بیانیوں یا تاریخی غلطیوں کو درست کیا۔ سی جے پی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی عدم مداخلت ’’ادارتی رضا مندی‘‘ کے برابر ہے اور این بی ڈی ایس اے کے اینکر کے رویے کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی ہے، جو مباحثے کو فرقہ وارانہ اشتعال سے بچانے اور منصفانہ بحث کو یقینی بنانے کا تقاضا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگالی مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے تبصروں پر آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف شکایت درج
چار مسلم پینل مقررین نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کی مذمت کی، انسانی حقوق کے قرآنی اصولوں کا حوالہ دیا، اور آبادیاتی خطرے کے بیانوں کی منطق پر سوال اٹھائے۔ تاہم، شکایت میں کہا گیا کہ ان تردیدوں کو محدود وقت دیا گیا، انہیں اکثر جملوں کے درمیان کاٹ دیا گیا، یا اینکر نے انہیں اصل مفروضے کے مطابق ڈھالنے کے لیے دوبارہ ترتیب دیا۔سی جے پی کا کہنا ہے کہ اس نے براڈکاسٹ کو مباحثے سے قطبی کشمکش کے ایک مظاہرے میں تبدیل کر دیا، جہاں متضاد حقائق کو صرف اسی حد تک اجازت دی گئی جہاں تک وہ تماشا برقرار رکھ سکیں۔شکایت میں زور دیا گیا ہے کہ پرائم ٹائم مباحثوں کے دوران براڈکاسٹرز کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، جو عوامی بیانیے پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں، اور زی نیوز نے درستگی، انصاف اور فرقہ وارانہ رنگت سے اجتناب کے قائم شدہ معیارات کو نظرانداز کیا، جس سے این بی ڈی ایس اے کے رہنما خطوط اور ذمہ دارانہ میڈیا رویے کے بنیادی اصول دونوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔سی جے پی نے تدارکی کارروائی کی درخواست کرتے ہوئے، براڈکاسٹ کو ہٹانے، عوامی معافی کا اعلان، اور ایسے پروگراموں کی دوبارہ پیشکش کو روکنے کے لیے ادارہ جاتی ہدایات جاری کرنے سمیت اقدامات کی اپیل کی ہے۔ درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ جوابدہی نہ صرف تلافی کے لیے بلکہ ہندوستان کے براڈکاسٹ ماحول میں اخلاقی اصولوں کی بحالی کے لیے بھی ضروری ہے۔واضح رہے کہ ۷؍ جنوری کو زی نیوز کو ایک شکایت بھیجی گئی تھی، جس میں جواب اور تدارکی کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔ چونکہ براڈکاسٹر نے کوئی جواب نہیں دیا، سی جے پی نے بعد میں مقدمہ این بی ڈی ایس اے کو بھیج دیا۔