• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی اخبارات کی سرخیاں: ایس آئی آر کے فیصلوں پر الیکشن کمشنرز کے اعتراضات سرِفہرست

Updated: September 24, 2026, 9:32 PM IST | New Delhi

مختلف اخبارات میں اس تنازع کی کوریج مختلف انداز میں کی گئی۔ بعض اخبارات نے اس رپورٹ کو الیکشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق ۲۰۲۳ء کے قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو سپریم کورٹ کی جانب سے بڑی بینچ کے سپرد کرنے کے فیصلے سے جوڑ کر پیش کیا۔ دوسری جانب ’دی ہندو‘ نے مبینہ ”غیر قانونی طرزِ عمل“ پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے اپوزیشن کے مطالبے اور سپریم کورٹ کی زیرِ نگرانی تحقیقات کے مطالبات کو شہ سرخی بنایا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ملک کے متعدد بڑے اخبارات نے جمعرات کے روز اپنے صفحہ اول کی شہ سرخیوں میں ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی اس تحقیقاتی رپورٹ کو نمایاں کیا جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دو الیکشن کمشنرز نے گزشتہ ۱۰ ماہ کے دوران انتخابی فہرستوں کے خصوصی جامع جائزے (Special Intensive Revision - SIR) سے متعلق فیصلوں پر ۱۴ مرتبہ اعتراضات درج کروائے۔

یہ بھی پڑھئے: اسپیکر اوم برلا کے طرز عمل پر سپریم کورٹ کا حیرت کااظہار

دی انڈین ایکسپریس نے بدھ کے روز رپورٹ کیا کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ان کے علم میں لائے بغیر کئے گئے فیصلوں پر باضابطہ طور پر اعتراضات اٹھائے۔ ان فیصلوں میں نئے ووٹر رجسٹریشن، فارم ۶ میں ترامیم، مغربی بنگال میں ووٹرز کو شامل کرنے سے متعلق اپیلوں اور گوا میں ووٹر ڈیٹا کی ہینڈلنگ سمیت دیگر معاملات سے جڑے فیصلے شامل ہیں۔ ایک تحریری اعتراض میں سندھو نے مبینہ طور پر دونوں کمشنرز کی شمولیت کے بغیر کئے گئے ایک فیصلے کو ”غیر مجاز اور غیر قانونی“ قرار دیا۔ کمشنرز نے ڈجیٹل انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا بیس تک رسائی سے متعلق بھی خدشات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھئے: گیانیش کمار کی گرفتاری، دوبارہ الیکشن اور ایس آئی آر پر روک کی مانگ

مختلف اخبارات میں اس تنازع کی کوریج مختلف انداز میں کی گئی۔ بعض اخبارات نے اس رپورٹ کو الیکشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق ۲۰۲۳ء کے قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو سپریم کورٹ کی جانب سے بڑی بینچ کے سپرد کرنے کے فیصلے سے جوڑ کر پیش کیا۔ دوسری جانب ’دی ہندو‘ نے مبینہ ”غیر قانونی طرزِ عمل“ پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے اپوزیشن کے مطالبے اور سپریم کورٹ کی زیرِ نگرانی تحقیقات کے مطالبات کو شہ سرخی بنایا۔

’دی ہندوستان ٹائمز‘ نے اپنے صفحہ اول پر سپریم کورٹ کے ریفرنس پر توجہ مرکوز رکھی اور نشان دہی کی کہ ۲۰۲۳ء کا قانون کمشنرز کی تقرری کرنے والی سلیکشن کمیٹی میں حکومت کو ۲:۱ کی اکثریت دیتا ہے، جو وزیرِ اعظم، مرکزی کابینہ کے ایک وزیر اور قائدِ حزبِ اختلاف پر مشتمل ہوتی ہے۔ عدالت اس قانون کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی چھ درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ اخبار نے کمار کے خلاف نیا مواخذہ لانے کے اپوزیشن کے منصوبوں کو بھی رپورٹ کیا اور اور اندرونی صفحے پر ایک رپورٹ شائع کی جس میں سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا کا حوالہ دیا گیا، جنہوں نے کمشنرز کے خدشات کو ”انتہائی سنگین“ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمشنروں کی تقرری کے قانون پرآئینی بنچ میں سماعت

اصل رپورٹ کے جواب میں، الیکشن کمیشن نے کہا کہ ”مسودہ تیار کرنے کے مراحل کے دوران کمیشن کے ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے آپریشنل سوالات یا آراء معیاری انتظامی طریقہ کار کا حصہ ہیں“ جن کا مقصد رائے دہندگان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ”مختلف آراء اور مشاہدات کسی بھی ادارے میں غور و خوض کا ایک معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا کہ ۱۰ ماہ کے عرصے کے داخلی نوٹس پر توجہ مرکوز کرنا ”جبکہ منظوریوں، فیصلوں، ہدایات اور اقدامات کے وسیع تر مجموعے کو نظر انداز کر دینا“ صرف ایک نامکمل تصویر پیش کرنے کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK