Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو ایران پر حملے اور سعودی سے تعلقات استوار کرنے کے جنون میں مبتلا: کلنٹن

Updated: June 17, 2026, 10:05 PM IST | Washington

سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو ایران پر حملے اور سعودی سے تعلقات استوار کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے دور اقتدار میں نیتن یاہو نے متعدد بار ایران پر حملے کا مطالبہ کیا۔

Former US Secretary of State Hillary Clinton. Photo: X
سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن۔ تصویر: ایکس

سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بدھ کو کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو ان کے دورِ وزارت خارجہ میں ایران پر حملے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاملے پر ’’ضدی‘‘ اور ’’جنونی‘‘ تھے۔نیویارک شہر میں ایک تقریب کے دوران نیویارکر کے ایڈیٹر ڈیوڈ ریمنک کو دیے گئے انٹرویو میں کلنٹن نے نتن یاہو کے طرزِ عمل پر گفتگو کی۔کلنٹن نے کہا کہ نتن یاہو ایران پر حملے کے لیے مسلسل اصرار کرتے تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’’وہ کہتے تھے،آپ کو ایران پر حملے میں ہماری حمایت کرنی ہوگی۔ یہ۲۰۰۹ء سے۲۰۱۲ء کے عرصے کی بات ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی تجزیہ کاروں نے امریکہ-ایران ڈیل سے بے دخلی کے بعد نیتن یاہو کو ’جھوٹا‘ اور ’ناکام‘ قرار دیا

کلنٹن کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کا موضوع بار بار اٹھتا تھا ۔ بعد ازاں انہوں نے نتن یاہو اور اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کے ساتھ طویل فون گفتگو کو یاد کیا۔کلنٹن نے کہا، ’’وہ کہہ رہے تھے،ہمارے طیارے رن وے پر کھڑے ہیں۔ اور میں کہتی،اچھا، نیک خواہشات۔ میرا مطلب، ٹھیک ہے، لیکن تم یہ کیوں کر رہے ہو؟‘‘ تاہم جب ریمنک نے کہا، ’’تو ایک اتحادی ہونے کے ناطے جو بڑی امداد وصول کرتا ہے، وہ آپ کے ساتھ کھیل رہے تھے،‘‘ تو کلنٹن نے جواب دیا’’ہمیشہ۔ یقیناً۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے اسرائیل کو دستخط سے قبل ایران معاہدے کا متن دکھانےسے انکار کیا: رپورٹ

مزید برآں کلنٹن نے کہا کہ نتن یاہو ان کے دورِ عہدہ میں ایران پر حملے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے دونوں معاملات میں طویل عرصے سے جنون میں مبتلا تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہی طرزِ عمل نتن یاہو کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ۲۸؍ فروری کو امریکہ نے اسرائیل کے اشتراک سے ایران پر حملے کا آغاز کردیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامہ ای سمیت ۴۰؍ سے زائد فوجی و سیاسی لیڈران کی شہادت ہوئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے ڈرون اور میزائلوں سے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اور آبنائے ہرمز کو اپنے قبضے میں لے کر اسے دشمن کے بحری جہازوں کیلئے بند کردیا۔ خبر یہ ہے کہ ایران اور امریکہ جنگ بندی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم نیتن یاہو اس کیلئے تیار نہیں ہے، اور جنگ جاری رکھنے پر اصرار کررہا ہے۔نیتن یاہو کا عمل سے ہلیری کلنٹن کے بیان کی تصدیق بھی کرتاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK