امریکہ نے اسرائیل کوجنیوا میں دستخط سے قبل ایران معاہدے کا متن دکھانے سے انکار کر دیا،میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیل کی جانب سے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا جائزہ لینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
EPAPER
Updated: June 17, 2026, 5:02 PM IST | Washington
امریکہ نے اسرائیل کوجنیوا میں دستخط سے قبل ایران معاہدے کا متن دکھانے سے انکار کر دیا،میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیل کی جانب سے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا جائزہ لینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس اور اسرائیلی صحافیوں کے مطابق، امریکہ نے جنیوا میں رسمی دستخط سے قبل پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا متن اسرائیل کو دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں جو ایران امن معاہدے اور لبنان کی لڑائی پر پہلے ہی متصادم ہیں۔اسرائیلی براڈکاسٹر نیوز ۲۴؍ آئی کے سفارتی نامہ نگار گائے عزرائیل نے بھی اس رپورٹ کی تصدیق کی۔عزرائیل نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’میں اب تصدیق کر سکتا ہوں کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر ایران مفاہمت کی یادداشت تک رسائی کی درخواست کی اور اسے مسترد کر دیا گیا۔ قریبی اتحادیوں کے درمیان ایسی اہم قومی سلامتی کی اہمیت کے معاملے پر یہ ایک قابل ذکر اور غیر معمولی پیش رفت ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’میں جل چکا ہوتا‘‘: امریکی شہری کا اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کا چشم دید بیان
واضح رہے کہ یہ مفاہمت کی یادداشت، جس پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے، امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران کی آبنائے ہرمز پر پابندیوں کے خاتمے پر مشتمل ہے جس کے بدلے ایران نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف عہد کیا ہے۔یہ ایران کے جوہری پروگرام اور کشیدگی میں کمی پر۶۰؍ روزہ مذاکرات کا آغاز کرتی ہے، جس میں پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے۔
یورپی لیڈروں نے اس قدم کو سراہا اور ایران نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا، تاہم اسرائیل نے متن تک رسائی پر تشویش کا اظہار کیا۔جبکہ لبنان کے تعلق سے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلاف اب بھی برقرار ہیں۔اس سے قبل بھی امریکہ ایران کے ساتھ معاہدے کی کوشش کے دوران بیروت پر حملہ نہ کرنےکی حکم عدولی پر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سخت سست کہا تھا۔ٹرمپ نے بعد میں انٹرویومیں تصدیق کی کہ وہ اسرائیل کی ’’لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی‘‘ سے پریشان تھے اور انہوں نے اپنی ناراضگی ان پر ظاہر کردی تھی، تاہم یہ بھی کہا کہ وہ ذاتی طور پر نیتن یاہو کو پسند کرتے ہیں۔پیر کو امریکہ اور ایران کے عبوری معاہدے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل، اسرائیل نے دوبارہ لبنانی دارالحکومت پر حملہ کیا جبکہ ٹرمپ نے حزب اللہ کے جوابی حملے کو چھوٹا اور بے معنی قرار دیتے ہوئے حساس وقت میں اسرائیلی حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ساتھ ہی منگل کو فرانس میں جی۷؍ اجلاس میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کے بارے میں اچھے تعلقات کا حوالہ دے کر نیتن یاہو کو زیادہ ذمہ دار ہونے کا مشورہ دیا۔ساتھ ہی اسرائیلی طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال پر تنقید کی ۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی ویزا مشکلات کے باعث ایتامار بن گویر کا اہل خانہ کے ساتھ دورہ منسوخ
دریں اثناء امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع ہیں۔ اگرچہ فوری طور پر درست شرائط معلوم نہیں ہوسکیں، لیکن ایران اور ثالث پاکستان نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کا تقاضا کرتا ہے۔جبکہ نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیل کا جنوبی لبنان پر حملہ جاری رہے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ موقف امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔پیر کو ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے واضح طور پر کہا کہ اسرائیل امریکہ-ایران معاہدے کی شرائط نہیں جانتا۔ یاہو نے مزید کہا کہ وہ ابھی تک نہیں جانتے کہ معاہدے میں کیا لکھا ہے، اور کہا کہ اسرائیل کو مذاکرات سے خارج کر دیا گیا تھا، وہ دستخط کنندہ نہیں ہے، اور اس لیے وہ اس کا پابند نہیں ہے۔