Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستانی وزیرِ دفاع نے اسرائیل کو سرطانی ریاست کہا، اسرائیل کی مذمت، پوسٹس حذف

Updated: April 10, 2026, 1:01 PM IST | Islamabad

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کو’’ کینسر‘‘ (cancerous)اور’’انسانیت کیلئے ایک لعنت‘‘ قرار دیا ہے جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی بیان جاری کیا۔ بعد ازاں خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کردی۔

Khawaja Asif and Netanyahu. Photo: INN
خواجہ آصف اور نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات شروع ہونے سے۴۸؍ گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر متعدد پیغامات پوسٹ کئے جن میں انہوں نے اسرائیل کو’’برائی اور انسانیت کیلئے ایک لعنت‘‘ قرار دیا اور یہ امید ظاہر کی کہ جن لوگوں نے ’’فلسطینی سرزمین پر یورپی یہودیوں کو نکالنے کیلئے یہ سرطانی ریاست قائم کی ہے وہ جہنم واصل ہوں۔ ‘‘ بعد ازاں یہ پوسٹس حذف کر دی گئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: پوتن کا۱۱؍ اور ۱۲؍ اپریل کو یوکرین کے ساتھ ایسٹر جنگ بندی کا اعلان

خواجہ آصف نے ایکس پر کیا لکھا تھا؟
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کو’’ کینسر (cancerous)‘‘ اور’’انسانیت کیلئے ایک لعنت‘‘ قرار دیا ہے، یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایک روز قبل اسرائیل نے لبنان پر بمباری کی جس میں ۳۰۰؍سے زائد لبنانی ہلاک اور تقریباً۱۲۰۰؍ زخمی ہوئے۔ یہ حملے صرف۱۰؍ منٹ میں کئے گئے اور مبینہ طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق کے فوراً بعد ہوئے۔ خواجہ آصف نے جمعرات کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ’’اسرائیل برائی ہے اور انسانیت کیلئے لعنت ہے، جبکہ اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا،’’اسرائیل کے ہاتھوں بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں، پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی مسلسل جاری ہے۔ ‘‘

ایکس پر سے خواجہ آصف کی پوسٹ کا عکس۔تصویر: ایکس

آصف نے مزید لکھا: ’’میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے فلسطینی سرزمین پر یورپی یہودیوں کو نکالنے کیلے یہ سرطانی ریاست قائم کی، وہ جہنم واصل ہوں۔ ‘‘اس ہفتے ایران نے امریکہ کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں ایک نازک دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جو امن مذاکرات کی طرف لے جا سکتی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے دھمکیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ سنیچر کو امریکہ اور ایران کے حکام اسلام آباد میں مذاکرات کیلئے ملاقات کریں گے، جہاں پاکستان اس اہم جنگ بندی میں ثالثی کر رہا ہے اور پسِ پردہ مذاکرات کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔ تاہم، پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد اسرائیل نے لبنان کے۱۰۰؍ سے زائد علاقوں پر بمباری کی، جسے لبنان میں ۱۹۹۰ءمیں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے سب سے بڑی اجتماعی ہلاکتوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران آبنائے ہرمز سے فیس وصولی فوراً بند کرے: ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ

ان حملوں پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے، جن میں مقامی میڈیا کے مطابق زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے، پاکستان نے فوری طور پر لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور امریکہ-ایران مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے امکان سے خبردار کیا۔ اسلام آباد اور ایران کا کہنا ہے کہ لبنان بھی امریکہ-ایران جنگ بندی معاہدے کا حصہ تھا، تاہم اسرائیل اور امریکہ نے اس کی تردید کی ہے۔ بیروت نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ لبنان کو وسیع تر امریکہ-ایران جنگ بندی کا حصہ بنانے کو یقینی بنائے۔ 
پاکستان کے بیانات پر اسرائیل کا رد عمل 

پاکستان کے بیانات کے جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ’’ آصف کی اسرائیل کے خاتمے کی اپیل انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ یہ ایسا بیان ہے جو کسی بھی حکومت، خصوصاً اس حکومت سے برداشت نہیں کیا جا سکتا جو خود کو امن کی غیر جانبدار ثالث کہتی ہے۔ ‘‘وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا کہ ’’اسرائیل کو سرطانی ریاست کہنا دراصل اس کے خاتمے کی اپیل کے مترادف ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا: ’’اسرائیل ان دہشت گردوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا جو اس کی تباہی کا عزم رکھتے ہیں۔ ‘‘اس دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعرات (۹؍ اپریل) کی شام کہا کہ اسرائیل ’جلد از جلد‘ لبنان کے ساتھ مذاکرات شروع کرے گا، جن کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان مکمل امن معاہدہ کرنا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK