• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوکین نے کولمبیا کی سب سے بڑی برآمدی صنعت کے طور پر تیل کو پیچھے چھوڑ دیا

Updated: September 01, 2026, 4:03 PM IST | Bogota

کولمبیا میں غیر قانونی کوکین کی تجارت نے پہلی مرتبہ خام تیل کی برآمدات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ بن گیا۔ میڈیلین کی ای اے ایف آئی ٹی یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۲۴ءمیں کولمبیا کی غیر قانونی کوکین برآمدات کی مالیت تقریباً ۵ء۱۶؍ ارب ڈالرس رہی جبکہ اسی عرصے میں پیٹرولیم صنعت نے تقریباً ۱۵؍ ارب ڈالر کمائے۔

Cocaine.Photo:INN
کوکین۔ تصویر:آئی این این

کولمبیا میں غیر قانونی کوکین کی تجارت نے پہلی مرتبہ خام تیل کی برآمدات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور  یہ ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ بن گیا۔ میڈیلین کی ای اے ایف آئی ٹی  یونیورسٹی  کی ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۲۴ءمیں کولمبیا کی غیر قانونی کوکین برآمدات کی مالیت تقریباً ۵ء۱۶؍ ارب ڈالرس رہی  جبکہ اسی عرصے میں پیٹرولیم صنعت نے تقریباً ۱۵؍ ارب ڈالر  کمائے۔

یہ بھی پڑھئے:’’آج ہماری پوری زندگی اسکرین تک محدود ہوکر رہ گئی ہے‘‘

رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے کولمبیا کی معیشت میں غیر قانونی منشیات کی تجارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو نمایاں کیا ہے۔ کولمبیا دنیا میں کوکین کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے اور عالمی سپلائی کا تقریباً ۷۰؍فیصد  حصہ فراہم کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی کوکین کی معیشت اب کولمبیا کی مجموعی گھریلو پیداوار یعنی جی ڈی پی  کے تقریباً ۴ء۴؍ فیصد  کے برابر ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق  ۲۰۱۳ء میں یہ شرح صرف ۸ء۰؍ فیصد  تھی، جو ایک دہائی میں بڑھ کر ۲۰۲۴ء میں ۴؍ فیصد سے تجاوز کر گئی۔
کولمبیا میں سالانہ کوکین کی پیداوار میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۱۳ء میں جہاں پیداوار ۳۰۰؍ میٹرک ٹن سے کم  تھی، وہیں ۲۰۲۴ء میں یہ تقریباً  ۳؍ہزار میٹرک ٹن  تک پہنچ گئی، یعنی تقریباً دس گنا اضافہ ہوا۔ ای اے ایف آئی ٹی   کے محققین کے مطابق کولمبیا کے بڑے برآمدی شعبوں میں کوئلہ تقریباً ۱ء۷؍ ارب ڈالرس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد قانونی سونے کی برآمدات۱ء۴؍ارب ڈالرس اور غیر قانونی سونے کی کان کنی تقریباً  ۶ء۳؍ ارب ڈالرس رہی۔ اس طرح غیر قانونی معیشت صرف کوکین تک محدود نہیں بلکہ سونے کی غیر قانونی کان کنی بھی ملک کی اقتصادی سرگرمیوں میں نمایاں حصہ رکھتی ہے۔
 رپورٹ نے کوکین کی غیر قانونی سپلائی چین میں قیمتوں کے بڑے فرق کی بھی نشاندہی کی ہے۔ کولمبیا کے دیہی علاقوں میں ایک کلو خام  کوکا کے پتوں  کی قیمت تقریباً  ۴۶۸؍ ڈالرس بتائی گئی ہے۔ خفیہ مقامی لیبارٹریز میں پروسیسنگ کے بعد ایک کلو کوکین ہائیڈروکلورائیڈ کی قدر تقریباً ۱۴۰۰؍ ڈالرس تک پہنچ جاتی ہے۔ جب کولمبیا کے جرائم پیشہ گروہ بین الاقوامی تقسیم کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق برآمد کے وقت کولمبیائی کارٹلز کو فی کلو تقریباً۵۹۲۰؍ ڈالرس کی اوسط قیمت ملتی ہے جبکہ یورپ جیسے منزل کے بازاروں میں تھوک قیمت  ۷۸۰۰۰؍ ڈالرس فی کلو سے بھی زیادہ  ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اپوزیشن پارٹیوں کے ووٹروں کے نام بڑی تعداد میں حذف کا الزام

تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سپلائی چین میں کولمبیا کے جرائم پیشہ گروہوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے انہیں بیرون ملک پیدا ہونے والے بڑے منافع کا حصہ حاصل کرنے کا موقع دیا ہے۔رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ کوکین کی پیداوار اور اسمگلنگ میں اس قدر تیزی سے اضافہ کولمبیا کی معیشت، سلامتی اور قانونی کاروباری شعبوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ غیر قانونی کوکین کی برآمدات کا خام تیل سے آگے نکل جانا اس بات کی علامت ہے کہ منشیات کی معیشت ملک کی مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں کس حد تک اثر انداز ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK