جسٹس رنجنا دیسائی کی قیادت میں ۷؍ رکنی کمیٹی بنائی گئی لیکن اقلیتی طبقے کا کوئی رکن نہیں ہے ، ۶؍ ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی ۔
دیویندرفرنویس۔ تصویر:آئی این این
ودھان بھون میں جاری اسمبلی کے مانسون اجلا س میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے جمعرات کواعلان کیا کہ ریاست میں یکساں سول کوڈ(یو سی سی) کا مسودہ تیار کرنے کیلئے سپریم کورٹ کی سبکدوش جج جسٹس رنجنا دیسائی کی صدارت میں ۷؍رکنی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ان اراکین میں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک بھی رکن شامل نہیں ہے ، اس لئے سماجوادی لیڈر اور رکن اسمبلی رئیس شیخ نے وزیر اعلیٰ سے اس تعلق سے مطالبہ کیاکہ مسلمانوں یا اقلیتوں کو بھی نمائندگی دی جائے۔ وہ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات بھی کریں گے ۔ اس سےقبل وزیر اعلیٰ فرنویس نے کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں ریاست کے رہنما اصولوں کے مطابق یہ ہدایات درج ہیں کہ ہر ریاست کو یکساں سول کوڈ پر غور کرنا چاہئے۔ اسی مناسبت سے۲۰۲۶ءکے بجٹ اجلاس میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ لہٰذا یہ کمیٹی ریاستی حکومت قائم کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ مذکورہ کمیٹی آئندہ ۶؍ماہ کے اندر اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گی ۔اس رپورٹ کی بنیاد پر حکومت ناگپور میں منعقد ہونے والے آئندہ سرمائی اجلاس میں یکساں سول کوڈ بل کو اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرے گی۔‘‘جس وقت وزیر اعلیٰ نے یو سی سی کمیٹی کا اعلان کیا ، چند اراکین اسمبلی کی جانب سے بھارت ماتا کی جے کے نعرے بلند کئے گئے۔
کمیٹی میں کون کون ہیں
کمیٹی میں جسٹس رنجنا دیسائی(سابق جج، سپریم کورٹ)، جسٹس آر سی چوان(سابق جج، بامبے ہائی کورٹ)، جسٹس ایس جی مہرے (سابق جج، بامبے ہائی کورٹ)، ڈی کے جین(سابق چیف سیکریٹری، مہاراشٹر)، ایڈوکیٹ وریندر سراف(سابق ایڈوکیٹ جنرل، مہاراشٹر)، رمیش پتنگے (پدم شری اور آئینی اسکالر) اور ڈاکٹر سوورنا راول(ماہر تعلیم اور سماجی کارکن) شامل ہیں۔
مسلم کمیونٹی کو نمائندگی نہ دینے پر سوال
یکساں سول کوڈ ایکٹ کا مسودہ تیار کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ نے جس کمیٹی کا اعلان کیا ہے اس کے تعلق سے سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ اس کمیٹی میں تمام اقلیتی برادریوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی ہے ۔اس سلسلے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ مہاراشٹر میں اقلیتی برادری۲۰؍ فیصد ہے۔ اس میں ۶؍برادریاں شامل ہیں یعنی مسلمان، عیسائی، بدھسٹ، جین، سکھ اور پارسی۔ ان کمیونٹیز میں سب سے زیادہ تعداد مسلم کمیونٹی کی ہے جو ریاست کی کل آبادی کا ۱۱؍ فیصد ہے۔ رئیس شیخ نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا سب سے گہرا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے۔ اس ضابطہ سے مسلم کمیونٹی میں الجھن ہے۔ اس لئےاس کمیٹی میں مسلم کمیونٹی کو نمائندگی دینے کی ضرورت تھی۔انہوں نے مزید کہاکہ ریاستی حکومت مسلم برادری یا مجموعی طور پر اقلیتی برادری کو اعتماد میں لئے بغیر یکساں سول کوڈ نافذ نہیں کرسکتی۔اسی لئے میرا مطالبہ ہے کہ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس میں مسلم کمیونٹی یا اقلیتوں کے ایک نمائندے کو شامل کرکے کمیٹی کی تشکیل نو کی جائے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اس سلسلے میں جلد ہی وزیر اعلیٰ فرنویس سے ملاقات کریں گے۔