رام نومی کے جلوس کے دوران مسلم اکثریتی علاقہ میں توڑ پھوڑ کے بعد کشیدگی برقرار، سنگھ پریوار سے وابستہ عناصر گرفتار، ٹی ایم سی نے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 9:28 AM IST | Kolkata
رام نومی کے جلوس کے دوران مسلم اکثریتی علاقہ میں توڑ پھوڑ کے بعد کشیدگی برقرار، سنگھ پریوار سے وابستہ عناصر گرفتار، ٹی ایم سی نے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
ایسے وقت میں جبکہ مغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن کیلئے انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے، جمعہ کو مرشد آباد کے راگھو ناتھ گنج میں رام نومی کےجلوس کے دوران شرپسندی اور مسلمانوں کی دکانوں پر حملے نیز ان کی املاک کو نذر آتش کئے جانے کے بعد سنیچر کو بھی کشیدگی برقرار ہے۔ فرقہ وارانہ تصادم کے ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے سنگھ پریوار سے وابستہ کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ ٹی ایم سی لیڈر ابھیشیک بنرجی نے بی جےپی کو’’فسادیوں کی پارٹی‘‘کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے اسے مرشد آباد کے فرقہ وارانہ تصادم کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق اب تک اس تشدد کے سلسلے میں۳۰؍ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت کاصارفین پر پی این جی کے استعمال پر زور
فرقہ وارانہ تصادم کا سیاسی فائدہ
واضح رہے کہ بی جے پی کسی بھی صورت میں مغربی بنگال میں اقتدار ٹی ایم سی سے چھین لینا چاہتی ہے۔الزام ہے کہ وہ اور اسے وابستہ گروپ اس کیلئے ریاست میں فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑ کر ووٹرس کو ہندو اورمسلم کے خانوں میں تقسیم کررہے ہیں۔زعفرانی پارٹی کو امید ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ہونےوالی ووٹنگ سے اسے فائدہ حاصل ہوگا۔ جمعہ کو فرقہ وارانہ تصادم کے معاملات میں پیش پیش رہنےوالے افراد کے تعلق سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ سنگھ پریوار سے وابستہ ہیں اس لئے یہ اس الزام کو مزید تقویت حاصل ہورہی ہے کہ فساد ہوا نہیں بلکہ کروایاگیا ہے۔
جمعہ کو مرشد آباد میں کیا ہوا؟
رپورٹ کے مطابق زعفرانی لباس پہنے ہجوم نے جمعہ کی دوپہر تقریباً۴۰؍مسلم دکانوں پر حملہ کیا، انہیں لوٹا اور کئی کو آگ لگا دی۔ اس واقعے نے اسمبلی انتخابات سے قبل علاقے میں مسلمانوں کو نشانہ بنا کر ہونےوالے حملوں کے بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔تشدد فل تالا کے علاقے میں پیش آیا، جو جنگی پور سب ڈویژنل اسپتال کے قریب واقع ہے اور جہاں مسلم آبادی کی اکثریت ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر مکانات، چھوٹے کاروبار، پھلوں کے ٹھیلے اور کھانے پینے کی دکانیں مسلمانوں کی ملکیت ہیں۔دی ٹیلی گراف کے مطابق کشیدگی اس وقت بڑھی جب رام نومی کا جلوس، جس میں تیز موسیقی بجائی جارہی تھی اور رقص ہورہاتھا، جمعہ کی نماز کے دوران فل تالا کراسنگ سے تقریباً۲۰۰؍میٹر دور واقع ایک مسجد کے سامنے سے گزرا۔ نماز ادا کرنے والوں نے اس پر اعتراض کیا جس کی وجہ سے ٹکراؤ ہوگیا۔ جلوس آگے بڑھ کر فل تالا چوراہے تک پہنچا جہاں صورتحال مزید بگڑ گئی۔ الزام ہے کہ ہندوتوا ہجوم کے افراد مسلمانوں کے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے، زعفرانی جھنڈے لہرائے، املاک کو نقصان پہنچایا، دکانوں کو آگ لگائی اور مقامی افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھئے: بیڑ میں ۱۴؍ ماہ کے دوران ۳۰۵؍ کسانوں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا
پولیس اور مرکزی فورسیز کی موجودگی میں تشدد
واضح رہے کہ الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد مغربی بنگال کی انتظامیہ پر الیکشن کمیشن کا کنٹرول ہے۔اس نے بڑی تعداد میں مرکزی فورسیز کو یہاں تعینات کیا ہے ۔ تشدد سے متاثرہ علاقے کے افراد کا الزام ہے کہ ریاستی پولیس اور مرکزی فورسیز کی موجودگی کے باوجود تشدد کافی دیر تک جاری رہا اور انہوں نے مداخلت کیلئے خاطر خواہ اقدام نہیں کیا۔ یہ واقعہ راگھو ناتھ گنج پولیس اسٹیشن سے محض۵۰۰؍ میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں کی بار بار اپیل کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیامگر تب تک صورتحال کافی خراب ہو چکی تھی۔
’’فساد نہیں منصوبہ بند تشدد‘‘
جنگی پور کے ایم ایل اے اور ترنمول کانگریس کے امیدوار ذاکر حسین نے الزام لگایا ہے کہ یہ تشدد انتخابات سے قبل منصوبہ بندی کے تحت کروایا گیا۔انہوں نے کہاکہ’’بی جے پی نے جان بوجھ کر انتخابات سے پہلے یہ واقعہ کروایا ہے۔ پارٹی جنگی پور میں اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کر کے ہندو ووٹوں کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نتائج کو سمجھے بغیر انہوں نے تشدد کو ہوا دی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اگر بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آئی تو’ میاں‘ کی کمر توڑ دیں گے: ہیمنت بسوا شرما
بی جےپی ’’فسادیوں کی پارٹی‘‘
ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما ابھیشیک بنرجی نےبی جے پی کو’’فسادیوں کی پارٹی‘‘قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہےکہ اس نے ریاست میں رام نومی کے جلوسوں کے دوران تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔ بیر بھوم ضلع کے لابھ پور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ٹی ایم سی لیڈر نے کہا کہ مغربی بنگال کے لوگ تمام تہواروں کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ مناتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ’’کیا آپ نے درگا پوجا، کالی پوجا، جگدھاتری پوجا، عید، چھٹھ پوجا، کرسمس یا جین برادری کے جلوسوں کے دوران کسی فسادات یا جھڑپ کی خبر سنی ہے؟‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’’پھر کیوں ایک مقدس موقع جیسے رام نومی کو (بی جے پی کی جانب سے) تشدد اور افراتفری پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟‘‘