آسام کے وزیر اعلیٰ نے ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ اگر بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آئی تو ’’ میاں‘‘ کی کمر توڑ دیں گے، تاکہ وہ آسامی عوام کے سامنے آنکھ اٹھانے کی جرائت نہ کرسکیں۔
EPAPER
Updated: March 28, 2026, 7:05 PM IST | Guwahati
آسام کے وزیر اعلیٰ نے ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ اگر بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آئی تو ’’ میاں‘‘ کی کمر توڑ دیں گے، تاکہ وہ آسامی عوام کے سامنے آنکھ اٹھانے کی جرائت نہ کرسکیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسواشرما نے جمعہ کو کہا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اسمبلی انتخابات میں دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو ان کی حکومت ریاست میں ’میاں‘ کی کمر توڑ دے گی۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق لکھیم پور ضلع کے دھاکوخانہ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ ان کی حکومت نے ’ریاست کے مقامی لوگوں‘ کے لیے کام کیا ہے۔پی ٹی آئی نے وزیر اعلیٰ کے حوالے سے کہا، ’اور جو لوگ بنگلہ دیش سے آئے اور آسام کی زمین اور گھروں پرقبضہ کیا، ہم نے ان کے ہاتھ پاؤں سیاسی طور پر توڑ دیے۔‘انہوں نے مزید کہا ’’ اس بار ہم بنگلہ دیشی میاں کی کمر توڑ دیں گے، تاکہ وہ آسامی لوگوں کے سامنے آنکھ اٹھانے کی جرأت نہ کر سکیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’کوئی لاک ڈائون نہیں لگ رہا ہے، شہری افواہوں پر دھیان نہ دیں ‘‘
واضح رہے کہ آسام میں ’میاں‘ ایک طنزیہ لفظ ہے جو غیر دستاویزی تارکین وطن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر بنگالی مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے۔جن پر اکثر الزام ہوتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے غیر دستاویزی مہاجر ہیں۔آسام میں کبھی یہ لفظ توہین آمیز تھا، لیکن جنوبی ایشیائی مسلمانوں میں ’’میاں‘‘ بطور احترام استعمال ہوتا ہے۔ بعد ازاں گزشتہ مہینوں میں،شرما نے’’ میاں‘‘ کے خلاف متعدد بیانات دیے ہیں، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ ’انہیں تکلیف دینا‘ ان کا کام ہے، اور یہ کہ انہوں نے بی جے پی کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ میاں مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے کٹوانے کے لیے درخواستیں دیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۳۹؍ اراکین اسمبلی اشوک کھرات سے ملا کرتے تھے
۲۶؍ فروری کو گوہاٹی ہائی کورٹ نے ہیمنت بسواشرما سے مسلمانوں کے خلاف مبینہ نفرت انگیز تقریر کے الزام میں ان کے خلاف کارروائی کی درخواستوں پر جواب طلب کیا۔اس سے قبل فروری میں سپریم کورٹ نے ان کے خلاف ایسے ہی الزامات پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواستوں پر سماعت سے انکار کر دیا تھا۔ پی ٹی آئی کے مطابق جمعہ کو انتخابی مہم کے دوران شرما نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں میں’’ میاں ‘‘سے ڈیڑھ لاکھ بگھہ قابض زمین خالی کرائی ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ ۲۰۱۶ء میں آسام میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ریاست میں متعدد انہدام مہم چلائی گئی ہیں، جن کا ہدف زیادہ تر بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی آبادی والے علاقے رہے ہیں۔آسام میں اسمبلی انتخابات۹؍ اپریل کو ہوں گے اور نتائج۴؍ مئی کو اعلان کیے جائیں گے۔