۴۸؍ معاملات ایسے ہیں جن میں انتظامیہ نے خود کشی کو تسلیم نہیں کیا یعنی ان مہلوک کسانوں کے خاندان کو سرکاری معائوضہ نہیں ملے گا۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 9:43 AM IST | Beed
۴۸؍ معاملات ایسے ہیں جن میں انتظامیہ نے خود کشی کو تسلیم نہیں کیا یعنی ان مہلوک کسانوں کے خاندان کو سرکاری معائوضہ نہیں ملے گا۔
ضلع بیڑ میں کسانوں کی خود کشیوں کا سنگین مسئلہ بدستور برقرار ہے، اور حالیہ اعداد و شمار نے ایک چونکا دینے والی صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔ اطلاع کے مطابق گزشتہ ۱۴؍ مہینوں میں مجموعی طو ر پر ۳۰۵؍ کسانوں نے خود کشی کی، جن میں سے ۴۸؍ معاملات کو نااہل یعنی ان کے خاندانوں کو حکومت کی ایک لاکھ روپے کی مالی امداد سے محروم ہونا پڑے گا، جبکہ ۲۰؍ معاملات اب بھی زیر التواء ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء کے آغاز ہی سے کسانوں کی خود کشیوں کا سلسلہ نہیں تھما ہے، اور اب تک ۴۹؍ کسان اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ ان میں سے ۸؍ معاملات نااہل قرار دیئے گئے ہیں جبکہ باقی کیس پر کارروائی جاری ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گیورائی اور آشٹی تعلقہ میں سب سے زیادہ ۔ ۱۰۔ ۱۰؍کسانوں نے خودکشی کی ہے۔جبکہماجلگاؤں اور پرلی میں خود کشی کے ۵۔ ۵؍ کیس سامنے آئے ہیں۔نیز بیڑ، دھارور، وڈوانی، امباجوگائی اور کیج میں۔ ۳۔۳؍ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ گزشتہ سال (۲۰۲۵ء میں) ضلع بیڑ میں ۲۵۶؍ کسانوں نے خودکشی کی تھی، جن میں سے ۲۱۴؍ خاندانوں کو حکومتی امداد کیلئے اہل قرار دیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق کسانوں کی خودکشیوں کی بڑی وجوہات میں شدید قرض، موسمی تباہی جیسے بے وقت بارش، خشک سالی، فصلوں کی بربادی اور سودخوروں کا دباؤ شامل ہیں۔ گھریلو مسائل اور ذہنی دباؤ بھی اس المیے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت کاصارفین پر پی این جی کے استعمال پر زور
انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی معاملات میں اگر کسان نے نشے کی حالت میں خودکشی کی ہو تو سرکاری رپورٹ میں اسے ’نشے کی وجہ سے خودکشی‘ قرار دے کر خاندان کو امداد سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ ۱۴؍ مہینوں میں ۴۸؍ ایسے معاملات درج کئےگئے ہیں، جس سے متاثرہ خاندان مزید مشکلات میں گھر گئے ہیں۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کسان نشے کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں اور وہ کس قدر ذہنی دباؤ کا شکار ہیں؟ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔مسلسل بڑھتی ہوئی خودکشیوں، زیر التواء رپورٹوں اور نااہل قرار دیئے گئے کیس کی وجہ سے کسان خاندانوں کے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین اور عوامی نمائندوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ اس سنگین بحران پر قابو پایا جا سکے اور کسانوں کو راحت فراہم کی جا سکے۔