چھگن بھجبل نے کہا ’’ جن کے گھر کے پاس پی این جی کنکشن دستیاب ہے، ۳؍ ماہ میں وہ کنکشن لے لیں ، انہیں ایل پی جی نہیں دیا جائے گا‘‘
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 9:34 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
چھگن بھجبل نے کہا ’’ جن کے گھر کے پاس پی این جی کنکشن دستیاب ہے، ۳؍ ماہ میں وہ کنکشن لے لیں ، انہیں ایل پی جی نہیں دیا جائے گا‘‘
ایران جنگ کے سبب پیدا شدہ گیس کی قلت کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہےاور عوام کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی کے پیش نظر دہلی میں تمام ریاستوں کے وزراء برائے رسد و خوراک کی میٹنگ بلائی تھی جس میں مہاراشٹر سے چھگن بھجبل نے بھی شرکت کی تھی۔ میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے پی این جی کے استعمال پر زور دیا۔
سنیچر کو ہوئی میٹنگ میں وزراء کے ساتھ متعلقہ محکمے کے سیکریٹریوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ نیز مرکزی وزراء منوہر لال کھٹر، ہر دیپ سنگھ پوری اورپرہلاد جوشی موجود تھے۔ میٹنگ میں تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے۔ چھگن بھجبل نے مطلع کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کے تعلق سے میٹنگ میںتبادلۂ خیال کیا گیا اور صاف ایندھن کی دستیابی بڑھانے اور پائپ لائنوں کے ذریعے پی این جی گیس نیٹ ورک کو وسعت دینے پر مثبت بات چیت ہوئی۔ مہاراشٹر میں شہری گیس کی تقسیم کے منصوبوں کے نفاذ کو تیز کرنے کیلئے ریاستی حکومت نے اجازت کے عمل کو آسان اور تیز تر بنا دیا ہے۔ اس سے کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ بلدیاتی اداروں میں نرخوں کو معیاری بنا کر منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کیا جا رہا ہے۔بھجبل کے مطابق انہوں نے میٹنگ میں اپنا موقف پیش کیا کہ ان تمام پروجیکٹوں کیلئے مرکزی حکومت کی مالی مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ میٹنگ میں مہاراشٹر میں ایل پی جی اور پی این جی گیس کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال میں عین انتخابی مہم کے دوران مرشد آباد میں فرقہ وارانہ تصادم
پی این جی پر زور
میٹنگ میں کہا گیا ہے کہ پی این جی کی توسیع میں تیزی لانے کیلئے نئے ہاؤسنگ پروجیکٹوںمیں پی این جی کی سہولیات کو لازمی قرار دیا جائے، پرانی کالونیوں میں پی این جی کنکشن کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے، ہوٹلوں، ریستورانوں، چھوٹی صنعتوں کیلئے پی این جی لائسنس اور کنکشن کے عمل کو آسان بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پی این جی پائپ لائن کی توسیع کیلئے ضروری منظوری کے عمل کو مرکزی ایجنسیوں کو زیادہ مربوط اور بروقت مکمل کیا جانا چاہئے اور بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر تجارتی استعمال کیلئے ایل پی جی کی تقسیم میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ’’ ہوٹلوں اور ریستورانوں اور اسی طرح رہائشی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فوری طور پر پی این جی کنکشن دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسکی پائپ لائن کیلئے بہت سی درخواستیں دی گئی ہیں لیکن متعلقہ محکمے کی اجازت نہ ملنے سے تاخیر ہو رہی ہے۔ لیکن اب اسے آسان بنایاجائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’کوئی لاک ڈائون نہیں لگ رہا ہے، شہری افواہوں پر دھیان نہ دیں ‘‘
انہوں نے کہا کہ فوری طور پر پی این جی کنکشن لگانے کیلئے دیگر چیزوں کو ایک طرف رکھ دیں۔ جہاں بھی پی این جی کی پائپ لائن ہے وہاں فوری طور پر پی این جی لے لیں۔ ان جگہوں پر ۳؍ماہ میں ایل پی جی بند ہو سکتی ہے، انہوں نے پہلے ایک پرچہ جاری کیا تھا، اس کے مطابق ایل پی جی تین ماہ میں بند ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے ہر کوئی کم از کم پی این جی کیلئے درخواست دے اور زیادہ سے زیادہ کنکشن بنائے۔ انہوں نے بتایا کہ پی این جی بھی سستی کی جا رہی ہے اور اسکا زیادہ سے زیادہ استعمال، تقسیم اور فروغ ہونا چاہئے۔ مہاراشٹر میں ساڑھے ۳؍ہزار کلو لیٹر مٹی کا تیل ہے۔ مٹی کا تیل(راکیل) وہاں پہنچنا چاہئے جہاں پی این جی اورایل پی جی نہیں پہنچ رہی ہے، اس کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عالمی صورتحال نے ایل پی جی کے ساتھ مسائل پیدا کئے ہیں۔بھجبل نے کہا کہ ایندھن دوسرے ممالک سے آرہا ہے اور ہماری ریفائنریز بھی زیادہ سے زیادہ استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔