جانوروں کی نگرانی کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں کے خودساختہ ٹھیکیدار سرگرم ۔اس کے پیش نظر ٹرانسپورٹیشن ضابطے کے مطابق ہی جانوروں کو لانے پرتوجہ دلائی گئی۔
بکرا منڈی۔ تصویر:آئی این این
جانوروں کی پکڑ دھکڑ کی شکایتیں شروع ہوگئی ہیں۔ عید قرباں کے ایام قریب آتے ہی جانوروں کی حفاظت کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں کے خودساختہ ٹھیکیدار سرگرم ہونے لگےہیں۔اس لئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قانون ہاتھ میںلینے والے ان افراد پر حکومت نگاہ رکھے۔دوسری جانب جانوروں کے ٹرانسپورٹیشن ضابطہ شکنی کی بھی شکایات موصول ہورہی ہیںیعنی گنجائش سے زیادہ جانور لادے جارہے ہیں۔ اس کے سبب بھی ایسی تنظیموں اور پولیس والوں کو موقع ملتا ہے اس لئے قریش برادری کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہمیں خود بھی ضابطے کا خیال رکھنا ہے تاکہ شرپسندوں کو موقع نہ مل سکےاورنہ ہی گاڑیاں روکنے کا انہیں جواز ملے۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ روزانہ ذبح کئے جانے والے جانوروں کی بھی کمی ہونے لگی ہے ۔
ممبئی سبربن بیف ڈیلرس اسوسی ایشن کے صدر محمدعلی قریشی نےاس بارے میں کہاکہ ’’ ہاں شکایتیں مل رہی ہیںاور جیسے جیسے عید قرباں کے ایام قریب آتے جائیںگے، یہ شکایات بڑھتی جائیں گی مگرایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹرانسپورٹیشن کے تعلق سے بھی ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ایسی تفصیلات بھی ملی ہیں جن میں تاجروں کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن ضابطے کوملحوظ نہیںرکھا جارہا ہے جس سے جانوروں کی نگرانی کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں کے خود ساختہ ذمہ داران کو مزید موقع ملتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہےکہ وہ ابھی سے اس جانب توجہ دے تاکہ رخنہ اندازی کرنے والوں کوموقع نہ ملے۔‘‘
انہوں نے روزانہ ذبح کئےجانے والے جانوروں کی کمی کے تعلق سےبتایا کہ ’’ جانور پالنے والے قربانی کے قریب اچھے جانور روک لیتے ہیں، انہیں قربانی میں فروخت کرتے ہیں تاکہ اچھی قیمت ملے ۔ اس لئے جانوروں کی کمی ہورہی ہے مگر کسی طرح کام چلایاجارہا ہے ۔‘‘
قریش ویلفیئراسوسی ایشن کےجنرل سیکریٹری محمد عمر انصاری نے کہاکہ ’’ ان ہی شکایات کے سبب ہم نے اورتنظیم کےصدر آصف قریشی نے ڈپٹی سیکریٹری نورتّی برمالے سےمنترالیہ میںچند دن قبل ملاقات کی تھی جس پر انہوں نے یقین دہانی کروائی تھی اورفون بھی کیا تھا ،اس کے سبب جانوروں کی پکڑدھکڑمیںکچھ کمی واقع ہوئی ہے۔‘‘گلریزقریشی نے بتایاکہ ’’بڑے ہی نہیں بکروں کی گاڑیاںبھی روکی جارہی ہیں۔ انہوں نےمارچ سےاب تک ایسے ۴؍واقعات کاتذکرہ کیا۔ ان کاکہنا ہے کہ اگرگنجائش سے زائدبکرے کسی گاڑی میں ہوں تو ضابطے کے تحت انتظامیہ فی بکرا ۵۰؍روپے زائد لے لے مگر گاڑیاں روکنے کا کیا جواز ہے۔‘‘ انہوںنے یہ بھی بتایاکہ ’’جانوروں کی پکڑدھکڑکے تعلق سے جلد ہی نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے سے ملاقات کی جائے گی اور مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔‘‘