نندی گرام میں کانگریس نے اپنے پولنگ ایجنٹوں کو زبردستی ہٹانے کاالزام عائد کیا، ریجی نگر میں ہمایوں کبیر کو حراست میں لیا گیا، دونوں ہی حلقوں میں تقریباً ۸۰؍ فیصد پولنگ۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 12:04 PM IST | Agency | New Delhi
نندی گرام میں کانگریس نے اپنے پولنگ ایجنٹوں کو زبردستی ہٹانے کاالزام عائد کیا، ریجی نگر میں ہمایوں کبیر کو حراست میں لیا گیا، دونوں ہی حلقوں میں تقریباً ۸۰؍ فیصد پولنگ۔
چار ریاستوں میں ۶؍ حلقوں کیلئے ووٹنگ کا عمل شام ۶؍بجے مکمل ہوا۔ اس دوران سب سے زیادہ پولنگ تمل ناڈو کے انتخابی حلقے مدورانت کم میں درج کی گئی۔ وہاں پر شام۵؍ بجے تک تقریباً ۸۴؍ فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ مغربی بنگال کے دونوں انتخابی حلقے نندی گرام اور ریجی نگرمیں بھی اچھی پولنگ ہوئی۔ وہاں پرشام ۵؍ بجے تک ۸۰؍ فیصد کے قریب ووٹنگ ہوئی تھی لیکن وہاں دھاندلی کی شکایتیں بھی ہوئیں۔ نندی گرام میں جہاں کانگریس نے بی جے پی پر دھاندلی کاالزام عائد کیا ہے، وہیں ریجی نگر میں ’اے جے یوپی‘ نے انتخابات کو رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوران انتخابات ہی ’اے جے یو پی‘ کے سربراہ اور رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کو پولیس نےمرشد آبادمیں ان کے پارٹی دفتر سےانتخابی بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔ ان کے بیٹے غلام نبی آزاد ریجی نگر سے امیدوار ہیں۔نندی گرام میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس کے امیدوار ملن پردھان نے میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ان کے پولنگ ایجنٹوں کو زبردستی ہٹا دیا گیا ا ور اس کے بعد بوتھوں پر من مانی کی گئی۔ انہوں نے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: روہت ویمولا کی موت پر احتجاج: طلبہ پر درج کیس منسوخ
جن حلقوں میں منگل کو ووٹنگ ہوئی ان میں مغربی بنگال کے نندی گرام اور ریجی نگر، تمل ناڈو میں مدورانت کم اور دھارا پورم، پڈوچیری میں ٹھٹانچاوادی اسمبلی حلقہ اور آسام میں ناگاؤں لوک سبھا حلقہ شامل ہیں۔ تمام نشستوں کے نتائج کا اعلان۹؍ اکتوبر کو کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مغربی بنگال کی دونوں نشستوں پر تقریباً۸۰؍ فیصد رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ انتخابی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اکا دکا جگہوں پر چند ناخوشگوار واقعات کے علاوہ پورے حلقے میں ووٹنگ پرامن رہی۔ خیال رہے کہ نندی گرام میں ضمنی انتخاب کیلئے ووٹنگ سے ٹھیک ایک دن قبل الیکشن کمیشن نے نندی گرام پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (آئی سی) کو تبدیل کردیا تھا۔پیر کو موجودہ افسر اجے کمار مشرا کو ہٹا کر ان کی جگہ دیباشیش سرکار تعینات کردیئے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:ایس آئی آر: ’حق رائے دہی سے محروم کرنے کی انسانی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی‘
اسی طرح آسام کے ناگاؤں لوک سبھا حلقے میں ۷۶؍ فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ وہاں پر بی جے پی، کانگریس اور یو ڈی ایف میں مقابلہ ہے۔یوڈی ایف سے پارٹی سربراہ مولانا بدرالدین اجمل خود امیدوار ہیں۔۲۰۱۹ء اور ۲۰۲۴ء میں اس سیٹ پر کانگریس کے امیدوار منتخب ہوئے تھے جو ابھی چند ماہ قبل بی جے پی میں چلے گئے، اسلئے وہاں پر ضمنی انتخابات کی نوبت آئی۔ کانگریس نے اس حلقے سے شیبا مونی بورا کو امیدوار بنایا ہے جبکہ بی جے پی نے سابق آئی اے ایس افسر دیبا شیش شرما کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہاں ۱۸؍ لاکھ رائے دہندگان میں ۱۱؍ لاکھ مسلم ہیں۔
مغربی بنگال میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ
کانگریس نے ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے کے الزامات کے بعد نندی گرام اور ریجی نگر میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ مغربی بنگال کانگریس کے صدر سبھانکر سرکار نے منگل کو نندی گرام اور ریجی نگر میں مکمل دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دوران انتخابات بوتھوں سے کانگریس کے پولنگ ایجنٹوں کو زبردستی باہر نکال دیا گیا۔اسی طرح ریجی نگر سے کانگریس کے امیدوار محمد عبداللہ کیفی نے بھی مقامی پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ضمنی انتخابات کو منسوخ کرنے اور دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا۔