سابق نوکرشاہوں نے گیانیش کمار کے خلاف ’عوامی تحریک مواخذہ‘ میں ۶؍ الزامات پیش کئے،کہا: جو الیکشن کمیشن دنیا بھر میں ہندوستان کیلئے باعث فخر تھا وہ رسوائی کا سبب بن گیا۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 10:52 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
سابق نوکرشاہوں نے گیانیش کمار کے خلاف ’عوامی تحریک مواخذہ‘ میں ۶؍ الزامات پیش کئے،کہا: جو الیکشن کمیشن دنیا بھر میں ہندوستان کیلئے باعث فخر تھا وہ رسوائی کا سبب بن گیا۔
ممتاز سماجی کارکنوں اور سابق بیوروکریٹس جنہیں پیر کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک نہیں جانے دیاگیاتاکہ وہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف ’چارج شیٹ‘ اور ’ عوامی تحریک مواخذہ‘ پیش کرکے ذاتی طور پر ان سے مستعفی ہونے کی درخواست کرسکیں، نے ایس آئی آر کوحق رائے دہی سے محرومی کی انسانی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچنے سے روک دیئے جانے کےبعدانجلی بھاردواج اور یوگیندر یادو کے ساتھ مذکورہ سابق اعلیٰ افسران نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں میڈیا سے کے گیانیش کمار کے خلاف ’’ چارج شیٹ ‘‘ پیش کی اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جو الیکشن کمیشن عالمی سطح پر ہندوستان کیلئے باعث افتخار تھا،و ہ شرمندگی کا باعث بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا شیوسینا کا نشان اُن کو دینا مناسب ہے جو دَل بدلی کے ملزم ہیں: سپریم کورٹ
گیانیش کمار کے خلاف مذکورہ ’چارج شیٹ اور مواخذہ کےنوٹس ‘‘کو مذکورہ کارکنوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیا۔ اس پر دستخط کرنے والوں میں دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، سابق مرکزی ہوم سیکریٹری جی کے پلئی، انٹیلی جنس بیورو کے سابق اسپیشل ڈائریکٹر یشوردھن آزاد، مرکزی حکومت کے سابق سیکریٹری امیتابھا پانڈے اور سماجی کارکن یوگیندر یادو، انجلی بھاردواج، اور آئشی گھوش سمیت کئی معروف سابق سرکاری افسران اور کارکن شامل ہیں۔ چارج شیٹ میں۶؍ الزامات عائد کئے گئے ہیں اورآئین کی دفعہ۳۲۴(۵) کا حوالہ دیتےہوئے کہاگیاہے کہ یہ گیانیش کمار کے مواخذہ کی بنیاد ہیں۔ خط میں چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’مزید بدنامی سے بچنے‘ کیلئے استعفیٰ دے دیں۔
خط میں گیانیش کمار پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اب چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ پر فائز رہنے کے اہل نہیں ہیں۔ ان پر ایس آئی آر کے ذریعہ بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کرکے ’بالغ شہریوں کے حق رائے دہی کے بنیادی اصول کو انتہائی بے احتیاطی سے نظرانداز‘ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ا س موقع پر ریٹائرڈ آئی ایف ایس افسر اور سابق سفیر اشوک کمارشرما نے مختلف ملکوں میں بطورسفیر اپنی خدمات کے حوالے سے بتایا کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد بہت سے ایشیائی اور افریقی ممالک کو آمریت کا سامنا کرنا پڑا مگر ہندوستان استثنیٰ تھا اور یہی ہندوستان کی خاص شناخت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’فارین سروس کا ایک اہم کام ہندوستان کی شبیہ، ہندوستان کے مفادات اور ہندوستان کے مؤقف موثر انداز میں پیش کرنا ہے۔ جب ہندوستان کے خلاف کوئی بات ہوتی تھی تو ہمارے پاس سب سے مضبوط دلیل ہماری جمہوریت ہوتی تھی۔ہمارے دلائل ہمیشہ یہی ہوتے تھے کہ ہندوستان دنیا کا انتہائی متنوع ملک ہے۔ یہاں متعدد زبانیں ہیں، مختلف مذاہب ہیں اور مختلف ثقافتیں ہیں۔ آزادی سے پہلے جس ملک کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ متحد نہیں رہ سکتا، وہی ملک جمہوریت کے ساتھ کامیاب رہا۔‘‘
اس بات پر افسوس کرتے ہوئے آج الیکشن کمیشن ملک کی رسوائی کا سبب بن رہاہے، مختلف ممالک میں ہندوستانی سفیر کے طور پر کام کرنےوالے اشوک شرما نے بتایا کہ’’جب ہم دنیا کے سامنے ہندوستان کی جمہوریت پیش کرتے تھے تو ہمارا سب سے بڑا حوالہ ہندوستان کے انتخابات کا حجم اور ان کی کامیابی ہوتی تھی۔جب میں لندن میں ہائی کمشنر تھا تو سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی وہاں تشریف لائے تھے۔ میں نے پارلیمنٹ میں ان کی ایک تقریر کا انتظام کیا تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ آئے۔ جب انہوں نے اعداد و شمار بتانا شروع کیے کہ کتنے پولنگ بوتھ ہیں، کیا انتظامات کرنے پڑتے ہیں، پہاڑوں سے لے کر صحراؤں اور جنگلات تک کروڑوں ووٹروں کے لیے کس طرح انتخابات کرائے جاتے ہیں، اور الیکشن کمیشن کو کس طرح خودمختاری حاصل ہے، تو برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان حیران رہ گئے تھے۔‘‘ اس سے قبل جی کے پلئی اور دیگر سینئر افسران نے بھی گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھئے:یوپی میں ۱۶؍ لاکھ نئے پُراسرار ووٹرس کی شناخت خفیہ کیوں؟
گیانیش کمار کے مواخذہ کیلئے۶؍ الزامات
۱) الیکشن کمیشن آف انڈیا کام کرنے کے اجتماعی طریقہ کار کو سبوتاژ کیاگیا۔ الیکشن کمیشن تین افراد پر مشتمل ادارہ ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر نےیکطرفہ فیصلے کئے۔
۲) فارم-۶؍ میں غیر مجاز اور قانونی طور پرتبدیلی کی گئی ۔
۳) انتخابی فہرستوں کی تیاری کو غیر قانونی طور پر مرکز سے کنٹرول کیاگیا اور ای سی آئی نیٹ پرمقامی افسران کی رسائی محدود کی گئی۔
۴)ایس آئی آر کے ذریعے غیر معمولی پیمانے پر لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیاگیا۔
۵) الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کو متاثر کیاگیا۔ کمیشن سیاسی انتظامیہ کے اشارے پر کام کرتا معلوم ہورہاہے۔
۶) قانونی اور آئینی طور پر الیکشن کمیشن کے جو فرائض ہیں ان کی خلاف ورزی کی گئی۔