• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمنی: بائیں بازو کی لیڈر ایلف ایرالپ کا مطالبہ، فلسطینی موقف کو تسلیم کیا جائے

Updated: September 22, 2026, 4:36 PM IST | Berlin

جرمنی کی بائیں بازو کی جماعت ’دی لیفٹ‘ کی لیڈر ایلف ایرالپ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے جرمن حکومت سے فلسطینیوں، مسلمانوں اور یہودیوں کے مختلف نقطۂ نظر کو زیادہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ برلن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید اور سام دشمنی کے درمیان واضح فرق قائم رہنا چاہئے۔ ایرالپ نے جرمنی میں مسلمانوں اور فلسطینیوں کو بلا ثبوت قصوروار سمجھنے اور تعصب کا نشانہ بنانے کو ناقابل قبول قرار دیا۔

Elif Eralp. Picture: INN
ایلیف ایرلپ۔ تصویر: آئی این این

برلن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایلف ایرالپ نے کہا کہ جرمن حکومت نے اسرائیل فلسطین تنازع کے دوران مسلمانوں اور فلسطینیوں کے نقطۂ نظر پر بہت کم توجہ دی ہے، جبکہ بہت سے یہودیوں کے موقف کو بھی مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق تمام فریقوں کے مختلف نقطۂ نظر کو تسلیم کرنا اور انہیں ایک ساتھ لانا ان کی ترجیح ہے۔ ایرالپ نے کہا کہ ان کی جماعت اسرائیلی حکومت پر کی جانے والی تنقید کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کرتی ہے اور ہر قسم کی سام دشمنی کی بھی مخالفت کرتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت پر تنقید اور سام دشمنی کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں اور دونوں کے درمیان واضح فرق قائم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے جرمنی کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) پر الزام عائد کیا کہ وہ اس فرق کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بچوں کے قتل پر اسرائیلی ماڈل کے بیان پر فرانسسکا البانیز کا ردعمل

ایرالپ نے کہا کہ اگر وہ برلن کی میئر بنتی ہیں تو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ان کی بنیادی ترجیح ہوگی۔ ان کے مطابق شہر کے بہتر انتظام اور پالیسی سازی کے لیے ایسا تعمیری مکالمہ ضروری ہے جس میں مختلف طبقات اور فریقوں کے نقطۂ نظر کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے جرمنی میں مسلمانوں اور فلسطینیوں کے خلاف مبینہ تعصب اور انہیں بلا ثبوت قصوروار قرار دینے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ایرالپ نے کہا کہ ایسا رویہ ناقابل قبول ہے اور سی ڈی یو کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق برلن میں ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو مختلف برادریوں کو ایک ساتھ لے کر چلیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایم پی میں بچوں کی اموات پر رپورٹنگ کے دوران پولیس نے ہوٹل چھوڑنےپر مجبور کیا: کاویہ کرناٹک کا الزام

پریس بریفنگ میں ’دی لیفٹ‘ کی شریک چیئرپرسن انیس شویرٹنر نے بھی اسرائیلی حکومت اور فوج پر تنقید کو سام دشمنی کے مترادف قرار دینے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی میں سام دشمنی اور یہودیوں سے نفرت کے حقیقی مسئلے سے نمٹنا ضروری ہے، تاہم اسرائیلی حکومت اور فوجی کارروائیوں پر تنقید کی گنجائش بھی برقرار رہنی چاہئے۔ شویرٹنر نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے متعلق جنگی جرائم کے الزامات پر بھی بات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 
ایرالپ کا یہ موقف اسرائیل فلسطین تنازع پر ’دی لیفٹ‘ کے اندر جاری بحث کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں بھی ایرالپ نے اپنی جماعت کی ریاست لوئر سیکسنی کی ایک قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حماس حملے اور یہودیوں کے تحفظ کے حق کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ اسی موقع پر انہوں نے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت، اپنی ریاست اور امن و سلامتی کے حق کو بھی تسلیم کیا تھا۔ ایرالپ نے اس وقت کہا تھا کہ اسرائیل کے وجود اور یہودیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا ان کے لیے غیر متنازع ہے، جبکہ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور امن و سلامتی کو بھی وہ بنیادی حق سمجھتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK