ایک معلمہ کی ڈائری سے(حقیقی سانحہ پر مبنی)۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 2:43 PM IST | Ansari Nikhat | Mumbai
ایک معلمہ کی ڈائری سے(حقیقی سانحہ پر مبنی)۔
آج دل بہت اُداس تھا، پھر یوں ہوا کہ آنکھوں سے بہنے والے اشک الفاظ کا پیرہن پہن کر کاغذ پر بکھرنے لگے.... جون کا مہینہ ہمیشہ سے ہی نئی شروعات کا پیامبر رہا ہے؛ چاہے وہ بارش کی پہلی بوند ہو یا نئے تعلیمی سال کی پہلی گھنٹی....
ممبئی میں جب پہلی بارش زمین کو ٹھنڈک عطا کرتی ہے تو اسکولوں میں بھی نئی رونق لوٹ آتی ہے۔ گرمیوں کی طویل تعطیلات کے بعد ننھے ننھے قدم دوبارہ اسکول کی دہلیز پار کرتے ہیں۔ نئے بستے، نئی کتابیں، نئی جماعتیں اور سب سے بڑھ کر نئے چہرے.... اور ایک استاد کیلئے نئے چہروں سے بڑھ کر کوئی دلچسپ کتاب نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھئے: اچھی کتابیں پڑھنے سے نسلیں با شعور اور صاحبِ فکر بنتی ہیں
ہر بچہ اپنے اندر ایک الگ دنیا لئے ہوتا ہے۔ کسی میں اعتماد کو جگانا ہوتا ہے، کسی سے جھجک دور کرنی ہوتی ہے، کسی کے لہجے کو سنوارنا ہوتا ہے اور کسی کی صلاحیت کو صرف پہچان لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ میں اپنی آٹھویں جماعت کے نئے طلبہ و طالبات کی سابقہ تعلیمی استعداد جانچ رہی تھی۔ ایک ایک بچے کو اپنے میز کے قریب بلاتی، کتاب سے سبق پڑھواتی، ان کی روانی، تلفظ، لکھنے پڑھنے کی مہارت اور خود اعتمادی کا جائزہ لیتی۔ انہی بچوں میں ایک سانولی، مٹیالے رنگت والی، نہایت سادہ سی بچی میرے سامنے آ کر کھڑی ہوئی.... ’’نام؟‘‘ اس نے آہستہ سے کہا.... ’’قیصر جہاں۔‘‘ اس نے کتاب کھولی اور بغیر کسی جھجک کے اُردو پڑھنا شروع کیا.... مَیں سنتی رہی.... روانی ایسی جیسے برسوں سے کتاب اس کی دوست ہو۔ پھر مَیں نے ہندی پڑھوائی.... اس نے وہ بھی خوب پڑھی.... پھر انگریزی....
وہ بھی اعتماد کے ساتھ۔
اس دن جو بچے اچھی کارکردگی دکھا رہے تھے، مَیں انہیں کبھی ’Very Good‘، کبھی ’Good‘، کبھی ’بہت اچھا‘ اور کبھی ’شاباش‘ کہہ کر ان کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔
جب مَیں نے قیصر جہاں سے کہا....
’Very Good!‘
تو اس کے چہرے پر ایسی معصوم خوشی نمودار ہوئی جسے لفظوں میں قید کرنا آسان نہیں.... اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی.... جیسے کسی نے اس کے ننھے دل میں یقین کا چراغ روشن کر دیا ہو۔
ایک استاد کی زبان سے نکلنے والے دو لفظ کسی بچے کے لئے کتنی بڑی دولت ہوتے ہیں، شاید ہم استاد بھی ہمیشہ اس کا اندازہ نہیں لگا پاتے۔
اسی روز جب اُردو کا پہلا سبق، حمد، پڑھایا گیا تو ایک اور بات معلوم ہوئی۔
قیصر جہاں صرف اچھی قاریہ ہی نہیں تھی.... اس کی آواز بھی بے حد شیریں تھی.... وہ حمد بڑی سوز اور روانی سے پڑھ رہی تھی....
اس وقت باہر بارش برس رہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ : خواب حقیقت بنتے ہیں
گرمی کے بعد وہ ٹھنڈی ہوا کتنی بھلی لگ رہی تھی.... کھڑکی سے آتی بارش کی خوشبو، بچوں کی آوازیں اور نئی جماعت کی رونق....
مجھے کیا معلوم تھا کہ قدرت اسی بارش کے پردے میں ایک ایسا فیصلہ لکھ رہی ہے جسے قبول کرنے میں میرے دل کو بہت وقت لگنے والا تھا....
شام ہوتے ہوتے بارش نے شدت اختیار کرلی.... گھر پہنچی تو جسم میں ہلکی ہلکی حرارت محسوس ہوئی۔ رات تک تیز بخار اور بدن درد نے مجھے بستر سے لگا دیا.... مَیں نے فیصلہ کر لیا کہ اگلے روز یعنی سنیچر کو اسکول جانا ممکن نہیں ہوگا.... ویسے بھی موسلادھار بارش کی وجہ سے بچوں کی حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔ اگلی دوپہر تک شدید بارش کی وجہ سے محکمۂ تعلیم کی جانب سے اسکول بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا۔ بارش مسلسل بڑھتی جا رہی تھی۔ محکمۂ موسمیات بار بار خبردار کر رہا تھا کہ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں، اپنے گھروں میں محفوظ رہیں۔ اگلا دن اتوار تھا۔ اسکول تو ویسے بھی بند تھے، مگر بارش بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
ممبئی کے مختلف علاقے زیر ِ آب آچکے تھے۔ کہیں درخت گرنے کی خبر.... کہیں پانی میں کرنٹ آنے کی اطلاع.... کہیں کوئی گڑھے میں بہہ گیا.... کہیں گھروں میں پانی بھر گیا.... ٹی وی چینلوں پر صرف بارش تھی.... صرف حادثے تھے.... صرف پریشانیاں تھیں۔
اتوار کی شام ایک خبر آئی۔ ممبئی مضافات کے ایک گنجان آبادی والا علاقہ مانخورد میں ایک تین منزلہ گھر گر گیا تھا۔ ملبے تلے دب کر پانچ بچے اور ایک خاتون جاں بحق ہوگئے تھے۔ مَیں نے بھی وہ خبر سنی.... افسوس ہوا۔ دل دہلا.... لیکن سچ کہوں تو اسے بھی بارش کے موسم کی دوسری افسوسناک خبروں کی طرح سن کر آگے بڑھ گئی۔
....پیر کو بھی بارش کے باعث تعطیل رہی.... منگل کو بھی حالات معمول پر نہ آسکے، اگرچہ بارش کی شدت کچھ کم محسوس ہونے لگی تھی۔
میری طبیعت بھی قدرے بہتر ہوگئی تھی....
اسی شام میرے ایک سابق طالب علم کی والدہ، جن سے میرے اچھے تعلقات ہیں، نے اچانک وہاٹس ایپ پر ایک تصویر بھیجی۔ ساتھ صرف اتنا لکھا تھا: ’’یہ آپ کے اسکول کی بچی ہے؟ مانخورد میں جو عمارت گری تھی، اس میں اس کا انتقال ہوگیا۔‘‘ مَیں تصویر کو بار بار دیکھتی رہی.... تصویر فلٹر والی تھی.... پہچان نہ سکی۔ مَیں نے فوراً اُنہیں کال بیک کی۔ انہوں نے بتایا.... ’’آٹھویں جماعت میں گئی تھی۔‘‘
بس.... یہ سنتے ہی میرا دل دھک سے رہ گیا۔ کیونکہ آٹھویں جماعت کی معلمہ تو مَیں تھی!
یہ بھی پڑھئے: افسانہ : کاسۂ الفت
مَیں نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر وہ تصویر اپنی جماعت کے وہاٹس ایپ گروپ میں بھیج دی اور بچوں سے پوچھا: ’’کیا تم میں سے کوئی اِسے پہچانتا ہے؟‘‘ چند ہی لمحوں میں تین چار پیغامات ایک ساتھ آئے... ’’ٹیچر.... یہ قیصر جہاں ہے۔‘‘ وہ الفاظ پڑھتے ہی یوں لگا جیسے میرے قدموں تلے زمین کھسک گئی ہو۔ میری آنکھوں کے سامنے فوراً وہی منظر آگیا.... میرا میز.... قیصر جہاں.... اس کا روانی سے اُردو پڑھنا.... اور ’Very Good‘ سن کر چمکتی ہوئی آنکھیں۔
اتوار کی شام کی وہ خبر، جسے مَیں نے بارش کی ایک عام خبر سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا، دراصل میری اپنی جماعت کی طالبہ کی آخری خبر تھی۔ مَیں نے فوراً اس جماعت کی سابقہ معلمہ عاصمہ مس کو فون کیا۔ وہ بھی سکتے میں آگئیں۔ آخر دو برس تک انہوں نے بھی تو اسی بچی کو پڑھایا تھا۔ انہوں نے کہا ’’سیدہ سے بات کرو، وہ اسی علاقے میں رہتی ہے، شاید وہ کچھ تفصیل بتا سکے۔‘‘
مَیں نے فوراً سیدہ کو فون کیا.... اور پھر جو کچھ سنا.... اس نے میرے وجود کی ساری طاقت چھین لی۔ چار منزلہ عمارت قیصر جہاں کے اس چھوٹے سے آشیانے پر آ گری تھی جو صرف ٹین اور پترے سے بنے ایک کمرے پر مشتمل تھا.... اس حادثے میں قیصر جہاں.... اس کے تین چھوٹے بہن بھائی.... اس کی والدہ اور ایک پڑوسی بچہ بھی.... سب ملبے تلے دب کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ صرف والد اس لئے محفوظ رہے کہ وہ اس وقت گھر سے باہر تھے۔
مَیں نے پوچھا ’’تدفین کہاں ہوئی؟‘‘
’’والد چاروں بچوں اور اپنی اہلیہ کے جنازے لے کر اتر پردیش اپنے آبائی گاؤں روانہ ہوگئے۔ وہیں سب کی تدفین ہوئی۔‘‘
’’مجھے اب تک خبر کیوں نہیں کی تھی؟‘‘ میرا سوال.... ’’ٹیچر، میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا، دماغ کام نہیں کر رہا تھا۔‘‘ اس کے بعد شاید میرے پاس کوئی سوال باقی نہیں رہا تھا....
اور اگر تھے بھی تو ان کے جواب اس دنیا میں کسی کے پاس نہیں تھے۔
مَیں پوری رات ایک عجیب صدمے میں مبتلا رہی.... بار بار آنکھ کھل جاتی.... ہر بار قیصر جہاں کا چہرہ سامنے آجاتا.... مَیں سوچتی.... کاش اس دن میں اس سے کچھ دیر اور بات کر لیتی.... کاش ایک بار اور کہہ دیتی.... ’’شاباش بیٹا!‘‘ کاش اس کی آواز ایک بار اور سن لیتی۔
اس کا بھائی جلال الدین بھی تو میری ہی اسکول کی چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔
کتنے خواب ایک ہی لمحے میں ملبے کے نیچے دب گئے تھے۔
محکمۂ موسمیات کی وہ ہدایات کہ ’’اپنے گھروں میں محفوظ رہئے، غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلئے۔‘‘ کتنی بے معنی سی لگ رہی تھیں۔ اس حادثے میں تو جو گھر سے باہر تھا، وہ محفوظ رہا....
اور جو اپنے ہی گھر میں تھے، وہ کسی طور محفوظ نہ رہ سکے۔ زندگی بعض اوقات ایسے سوال چھوڑ جاتی ہے جن کا جواب صرف خاموشی کے پاس ہوتا ہے۔ ایک استاد اپنی پوری ملازمت میں ہزاروں بچوں کو پڑھاتا ہے۔ اکثر بچوں کے نام وقت کے ساتھ حافظے سے دھندلا جاتے ہیں۔
مگر کچھ بچے....
صرف رجسٹر میں درج نہیں ہوتے....
وہ استاد کے دل پر لکھے جاتے ہیں۔
قیصر جہاں بھی انہی بچوں میں سے ایک ہے۔ اسے شاید میری جماعت میں آئے چند ہی دن ہوئے تھے....
مگر اس نے اپنی مسکراہٹ، اپنی آواز اور اپنی آنکھوں کی وہ چمک ہمیشہ کے لئے میرے دل میں چھوڑ دی۔
اللہ تعالیٰ قیصر جہاں، اس کے بہن بھائیوں اور والدہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اور ان کے والد کو صبرِ جمیل عطا فرمائے (آمین)۔
(مضمون نگار بی ایم سی میونسپل اسکول میں معلمہ ہیں)