Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ہمیں کیسا ملک چاہئے!

Updated: August 25, 2026, 2:48 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai

بہت سے لوگ اپنے حال سے نالاں رہتے ہیں مگر مستقبل کے بارے میں نہیں سوچتے کہ تمام اہل وطن کا مشترکہ مستقبل کیسا ہونا چاہئے اور اس خواب کی تعبیر کیلئے ہم انفرادی طور پر کیا کرسکتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ایک ملک جس کے کروڑوں شہری مسلسل یہ محسوس کریں کہ انہیں برابر کا شہری نہیں سمجھا جارہا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی پوری صلاحیت استعمال نہیں کرسکتے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی آبادی کی تعداد نہیں بلکہ اس کی تنوع سے بھری انسانی صلاحیت ہے۔ اگر ہم کسی بھی شہری کو صرف اس کی مذہبی یا سماجی شناخت کی وجہ سے پیچھے دھکیلتے ہیں تو دراصل ہم ہندوستان کو پیچھے دھکیلتے ہیں۔ ہماری ایک بڑی ناکامی، نفرت کی سیاست کو روک نہ پانا ہے۔ بلاشبہ سیاست جمہوریت کا لازمی حصہ ہے مگر یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہئے کہ  اختلاف بھی جمہوریت کا حسن ہے البتہ جب سیاسی مقابلہ نفرت میں تبدیل ہوجائے تو جمہوریت کی روح زخمی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوامی وِویکانند اور پنڈت نہرو کے مجسمے

ہمیں یہ سوال اپنے آپ سے کرنا ہوگا کہ ہم نے سیاسی اختلاف کو دشمنی کیوں بننے دیا؟ ہم نے اپنے مخالف کو وطن کا مخالف سمجھنے کی غلطی کیوں کی اور پھر اسے عادت کیوں بنا لیا؟ ہم نے مذہب، ذات، زبان اور علاقائی شناخت کو انسان کی مکمل شناخت کیوں بنا دیا؟ سیاسی جماعتیں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور عوام بھی۔ اس لیے صرف سیاستدانوں کو الزام دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عوام کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ووٹ کی بنیاد نفرت پر رکھیں گے یا تعلیم، صحت، روزگار، امن، ترقی اور انصاف پر۔ 

جمہوریت میں عوام صرف ووٹر نہیں ہوتے، وہ اقتدار کے اصل نگہبان ہوتے ہیں۔ہندوستان کی خوب صورتی ہمیشہ اس کے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی معاشرے میں رہی ہے۔ مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، بودھ، جین، پارسی اور مختلف قبائلی و لسانی گروہ صدیوں سے ہندوستانی تہذیب کی تعمیر میں شریک رہے ہیں۔کسی بھی اقلیت کے دل میں خوف پیدا ہونا پورے ملک کے لیے تشویش کا موضوع ہونا چاہیے۔ اکثریت کا عظیم کردار یہ نہیں کہ وہ اپنی اکثریت کا مظاہرہ کرے، بلکہ ا س کا اصل کردار یہ ہے کہ وہ اقلیت کے حقوق اور وقار کی حفاظت کرے۔ یہی جمہوریت کا اُصول اور اخلاق ہے۔ اسی طرح اقلیتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو قومی دھارے سے الگ نہ سمجھیں۔ ہندوستان کسی ایک مذہب، زبان یا طبقے کی ملکیت نہیں۔ یہ سب کا مشترکہ وطن ہے۔ ہمیں اپنی کامیابیوں پر فخر بھی ہونا چاہیے۔ خود احتسابی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی کامیابیوں کو بھول جائیں۔ ہم نے غربت کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوا ہے۔ کروڑوں لوگوں کی زندگی میں بجلی، سڑک، مواصلات، بینکنگ اور ڈیجیٹل سہولتوں کی رسائی بڑھی ہے۔ ہندوستانی نوجوان دنیا کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ہم نے عالمی سطح پر ایک باوقار مقام حاصل کیا ہے۔لیکن قومی عظمت کا اصل مفہوم صرف عالمی طاقت بننا نہیں۔ ایک عظیم ملک وہ بھی ہے جہاں کمزور محفوظ ہو، اختلاف قابلِ احترام ہو، اقلیت بے خوف ہو، عورت باوقار ہو، نوجوان کو موقع ملے، کسان کو عزت ملے، مزدور کو انصاف ملے اور بچے کو معیاری تعلیم حاصل ہو۔

آزادی کی اگلی منزل صرف معاشی ترقی نہیں بلکہ انسانی ترقی اور اخلاقی ترقی ہے۔ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو نفرت کے بجائے سوال کرنا سکھائے، ایسی سیاست چاہیے جو تقسیم کے بجائے تعمیر کرے، ایسا میڈیا چاہیے جو سنسنی کے بجائے سچ کو ترجیح دے اور حقائق کی بنیاد پر رپورٹنگ کرے۔ ایسی سوشل میڈیا ثقافت چاہیے جہاں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہوگا کہ ہندوستان کی عظمت اس میں نہیں کہ یہاں سب لوگ ایک جیسے ہیں، ہندوستان کی عظمت اس میں ہے کہ مختلف ہونے کے باوجود ہم ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، ایک ساتھ رہتے آئے ہیں اور ایک ساتھ رہنا ہی ہم سب کے مفاد میں ہے۔ یہی ہماری تہذیبی میراث بھی ہے اور آئینی ذمہ داری بھی (اور اخلاقی ذمہ داری بھی)۔

یہ بھی پڑھئے: تبدیلیٔ مذہب کا ہو ّا، متعلقہ قانون اور حقائق

ہر سال جب پندرہ اگست کی صبح ملک کا پرچم، یعنی ہمارا ترنگا،  آسمان میں بلند ہو تو ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے آزادی حاصل کرلی۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آزادی کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔ آزادی صرف بیرونی اقتدار سے نجات کا نام نہیں۔ آزادی خوف سے آزادی بھی ہے، بھوک سے آزادی بھی، جہالت سے آزادی بھی ہے، تعصب اور نفرت سے آزادی بھی۔ اگر ایک شہری اپنے مذہب کی وجہ سے خوفزدہ ہے تو ہماری آزادی ادھوری ہے۔ اگر ایک بچہ تغذیہ کا شکار ہے تو ہماری آزادی ادھوری ہے۔ ایک بچہ غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہے تو ہماری آزادی ادھوری ہے۔ اگر ایک نوجوان قابلیت کے باوجود مواقع سے محروم ہے تو ہماری آزادی ادھوری ہے۔اگر ایک عورت اپنی عزت اور سلامتی کے لیے مسلسل فکر مند ہے تو ہماری آزادی ادھوری ہے اور اگر ہم اختلاف کرنے والے شہری کو دشمن سمجھنے لگیں تو جمہوریت بھی خطرے میں ہے۔ اس لیے ہر سال یومِ آزادی پر ہمیں ایک نیا قومی عہد کرنا چاہیے۔ ہم ترقی کریں گے، مگر انسانیت کو پیچھے چھوڑ کر نہیں۔ہم طاقتور بنیں گے، مگر انصاف کو کمزور کرکے نہیں۔ہم اکثریت یا اقلیت کے زاویئے سے نہیں بلکہ شہری کی حیثیت سے ایک دوسرے کو دیکھیں گے۔ہم اختلاف کریں گے، مگر نفرت نہیں کریں گے۔ ہم اپنے اپنے مذہب سے محبت کریں گے، مگر دوسروں کے مذہب سے نفرت نہیں کریں گے۔ ہم اپنے ماضی پر فخر کریں گے، مگر مستقبل کی تعمیر کے لیے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف بھی کریں گے۔

آزادی کے حصول کو ۷۹؍ سال گزر گئے، یہ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ہندوستان نے بہت کچھ حاصل کیا ہے، مگر بہت کچھ حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ ہم نے ایک ملک بنایا ہے، اب ہمیں اس کو زیادہ منصفانہ، زیادہ تعلیم یافتہ، زیادہ پرامن اور زیادہ انسانی ملک بنانا ہے۔ ترنگا صرف ہمارے ہاتھ میں لہراتا ہوا کپڑا نہیں، یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری کی علامت ہے۔  اس کے تین رنگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہندوستان کی روح کسی ایک رنگ میں نہیں، بلکہ مختلف رنگوں کے حسین امتزاج میں ہے۔ آئیے اب صرف یہ نہ کہیں کہ ہمیں اپنے ہندوستان پر فخر ہے،بلکہ یہ عہد کریں کہ ہم اپنے عمل سے ہندوستان کوعالمی سطح پر گہوارۂ امن بنائیںگے اور اس پر فخر کریں گے کہ یہی آزادی کا حقیقی جشن ہے، یہی آزادی کا حقیقی مقصد ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK