Updated: February 24, 2026, 1:01 PM IST
| New Delhi
محمد عبدالمنان کی نئی کتاب At the Bottom of the Leader: State of the Indian Muslims کے مطابق ملک بھر کی جیل انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر مسلم افسران کی تعداد انتہائی کم ہے۔ ساتھ ہی جیلوں میں شدید بھیڑ بھاڑ، زیرِ سماعت قیدیوں کی بلند شرح اور عملے کی کمی جیسے مسائل بدستور سنگین صورت اختیار کیے ہوئے ہیں۔
صحافی اور محقق محمد عبدالمنان کی حالیہ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ۲۰۲۴ء کے وسط تک ملک بھر کی سینٹرل، ڈسٹرکٹ، سب جیلوں اور دیگر اصلاحی اداروں کے ایک ہزار ۵۶۰؍ اعلیٰ افسران میں صرف ۴۶؍ مسلمان شامل تھے، جو مجموعی تعداد کا تقریباً تین فیصد ہے۔ ہندوستان میں اس وقت ایک ہزار ۳۳۰؍ جیلیں فعال ہیں، جن میں، ۱۴۸؍ سینٹرل جیلیں، ۴۲۸؍ ڈسٹرکٹ جیلیں، ۵۷۴؍ سب جیلیں، ۳۴؍ خواتین جیلیں، ۹۱؍ اوپن جیلیں، ۱۰؍ بورسٹل اسکول اور ۴۲؍ خصوصی جیلیں ہیںجن میں قیدیوں کی کل تعداد ۵؍ لاکھ ۷۳؍ ہزار ۲۲۰؍ ہے جبکہ سرکاری گنجائش ۴؍ لاکھ ۳۶؍ ہزار ۲۶۶؍ ہے۔ اس طرح قومی سطح پر یہ شرح ۱۳۱؍ فیصد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ۱۲؍ ویں کے ۲؍ پرچے لیک، واٹس ایپ گروپ پر شیئر کئے گئے
بھیڑ بھاڑ اور زیرِ سماعت قیدی
انڈیا جسٹس رپورٹ ۲۰۲۵ء کے مطابق ملک میں ۷۶؍ فیصد قیدیوں کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے بھی جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۱۷۶؍ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد منظور شدہ گنجائش سے چار گنا تک زیادہ ہے۔ بعض جیلوں میں اضافہ ۴۰۰؍ فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ دہلی کی ۱۶؍ جیلوں میں تقریباً ۱۹؍ ہزار ۵۰۰؍ قیدی موجود ہیں جبکہ گنجائش صرف ۱۰؍ ہزار ۲۶؍ کی ہے۔ تہاڑ جیل کی دو جیلوں میں ۴۰۰؍ فیصد تک قید کی شرح رپورٹ کی گئی ہے۔
بجٹ اور انفراسٹرکچر
گزشتہ دہائی میں جیلوں کے لیے مختص بجٹ میں ۱۵۶؍ فیصد اضافہ ہوا جبکہ قیدیوں کے لیے مختص فنڈ میں ۱۹۲؍ فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ فی قیدی یومیہ اخراجات ۶۲؍ روپے سے بڑھ کر ۱۲۱؍ روپے ہو چکے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بھیڑ بھاڑ اور بنیادی سہولیات کی کمی کے مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ جیل میں پیدا ہونے والے بچوں کو ۱۲؍ سال تک ماؤں کے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے (موجودہ حد ۶؍ سال ہے)۔ ٹرانس جینڈر قیدیوں کے لیے علیحدہ وارڈز بنائے جائیں۔ تمام خالی اسامیوں کو تین ماہ کے اندر پُر کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: تجارتی معاہدہ پر کانگریس نے پھر تنقید کی
ریاستی سطح پر مسلم نمائندگی
کتاب میں ریاست کی ترتیب سے تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ مثال کے طور پراتر پردیش (۶۳؍ جیلیں): ۱۱۴؍ اہلکاروں میں صرف ایک مسلمان۔ مہاراشٹر (۶۰؍ جیلیں):۹۹؍ اہلکاروں میں کوئی مسلمان نہیں۔ ادیشہ (۱۲۷؍ جیلیں): ۱۰۷؍ اہلکاروں میں کوئی مسلمان نہیں۔ پنجاب : ۸۲؍ اہلکار، کوئی مسلمان نہیں۔ کیرالا: ۶۵؍ اہلکاروں میں چھ مسلمان۔ آسام: ۳۵؍ اہلکاروں میں پانچ مسلمان۔ دہلی کی ۱۶؍ جیلوں میں ۲۹؍ اعلیٰ افسران میں کوئی مسلمان شامل نہیں۔
قیدیوں میں مسلم تناسب
مختلف سرکاری رپورٹس کے مطابق ۲۰۲۰ء میں تقریباً ۱۹؍ فیصد قیدی مسلمان تھے۔ بعض ریاستوں میں یہ تناسب آبادی کے مقابلے میں زیادہ پایا گیا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق آسام میں ۶۱؍ فیصد سزا یافتہ اور ۴۹؍ فیصد زیرِ سماعت قیدی مسلمان تھے۔ یہ اعداد و شمار نمائندگی اور انصاف کے نظام پر سوالات کھڑے کرتے ہیں، خاص طور پر جب جیل انتظامیہ میں مسلم افسران کی تعداد نہایت کم ہو۔
یہ بھی پڑھئے: ہندو طلبہ نے انسانی زنجیر بنائی، مسلم طلبہ نے نماز ادا کی
عدالتی مداخلت
فروری ۲۰۲۴ء میں سپریم کورٹ نے جیلوں میں غیر انسانی حالات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے بھیڑ بھاڑ کو ’’سخت اور تشویشناک‘‘ قرار دیا۔ عدالت نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ آئندہ ۵۰؍ برسوں کے لیے جیل انفراسٹرکچر کا روڈ میپ تیار کیا جائے۔
اصلاحات کی ضرورت
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف گنجائش کا نہیں بلکہ عدالتی تاخیر، ضمانت کی عدم دستیابی، اور عملے کی کمی کا بھی ہے۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ بعض زیرِ سماعت قیدیوں پر جیل میں خرچ ہونے والی رقم ان کی ممکنہ ضمانت کی رقم سے زیادہ ہو جاتی ہے، جو نظام انصاف کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔